ان کا کہنا ہے کہ اسلامی فقہ کے تحت جہاد دفاعی نوعیت کا ہوتا ہے اور اس کے لیے ریاستی اجازت لازمی ہوتی ہے، جبکہ سرحد پار حملوں کی حمایت اس اصول کے خلاف ہے۔

March 18, 2026

افغان طالبان دہشتگردوں کو اپنے پاس چھپا رہے ہیں، حتیٰ کہ سرکاری عمارتوں میں بھی انہیں پناہ دی جا رہی ہے

March 18, 2026

یہ اقدام مبینہ طور پر پاکستانی فضائی کارروائیوں کے بعد اختیار کیا گیا، جس میں اسلحہ کے ڈپو اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا تھا

March 18, 2026

حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو گزشتہ سال حراست میں لیا گیا تھا اور اس پر الزام تھا کہ وہ اہم سکیورٹی تنصیبات سے متعلق معلومات اسرائیلی ایجنسی تک پہنچاتا رہا

March 18, 2026

یہ فیصلہ امن اور مذہبی ہم آہنگی کے جذبے کے تحت کیا گیا ہے، تاہم قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

March 18, 2026

حمداللہ فطرت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان اور فہرست جاری کرتے ہوئے کہا کہ بحالی مرکز کے 492 افراد زندہ ہیں اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

March 18, 2026

تحریک طالبان پاکستان نے حکومت کو مذاکرات کی مشروط پیشکش کر دی

ٹی ٹی پی کے اس بیان میں وزیراعظم کے اس موقف کو بھی چیلنج کیا گیا جس میں افغان سرزمین کو “ٹی ٹی پی یا پاکستان” میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا کہا گیا تھا۔

تاہم تاحال اس مخصوص بیان کے ردِ عمل میں وفاقی حکومت یا سیکیورٹی حکام کی طرف سے باقاعدہ سرکاری جواب کا حوالہ اس رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔

September 16, 2025

کالعدم تحریکِ طالبانِ پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ترجمان محمد خراسانی نے وزیراعظم کے تازہ بیانات پر سخت ردِ عمل دیتے ہوئے حکومت کے موقف کو مسترد کر دیا اور کہا ہے کہ ٹی ٹی پی کوئی غیرملکی حمایت یا پڑوسی ممالک کی سرزمین استعمال کرنے والی تنظیم نہیں بلکہ مقامی عوامی “تحریک” ہے۔ ترجمان کے مطابق ریاست کو چاہیے کہ وہ ظلم و جبر بند کرے، لاپتہ افراد کو رہا کرے اور بنیادی مسائل کا حل نکالے، ورنہ مزاحمت جاری رہے گی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ٹی ٹی پی کو کسی بھی پڑوسی ملک کی سرحد یا سرپرستی کی ضرورت نہیں اور وہ محض “مظلوم قوم” کے جذبے کی عکاس تحریک ہے۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ اگر ریاست نے ان بنیادی مسائل کو حل کر دیا تو جنگ رک سکتی ہے، بصورتِ دیگر “مقدس جدوجہد” جاری رہے گی۔ اس اضطراری بیان میں ریاستی اداروں کی پالیسیوں پر سخت تنقید کے ساتھ یہ پیغام بھی شامل تھا کہ مذاکرات یا ملاقاتیں پاکستان کی سرزمین پر طے کی جا سکتی ہیں بشرطیکہ ضمانتیں لیے جائیں۔

ٹی ٹی پی کے اس بیان میں وزیراعظم کے اس موقف کو بھی چیلنج کیا گیا جس میں افغان سرزمین کو “ٹی ٹی پی یا پاکستان” میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا کہا گیا تھا۔ یاد رہے کہ وفاقی حکومت اور سکیورٹی ادارے بارہا یہ موقف رکھتے آئے ہیں کہ سرحد کے پار پناہ گاہیں اور عبوری حکومت کی جانب سے کسی حد تک “ممنوع صورتحال” دہشت گردانہ حملوں کا باعث بن رہی ہیں۔

تاہم تاحال اس مخصوص بیان کے ردِ عمل میں وفاقی حکومت یا سیکیورٹی حکام کی طرف سے باقاعدہ سرکاری جواب کا حوالہ اس رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔

دیکھیں: امن یا فریب؟ ٹی ٹی پی مذاکرات کی تاریخ اور حالیہ مطالبات

متعلقہ مضامین

ان کا کہنا ہے کہ اسلامی فقہ کے تحت جہاد دفاعی نوعیت کا ہوتا ہے اور اس کے لیے ریاستی اجازت لازمی ہوتی ہے، جبکہ سرحد پار حملوں کی حمایت اس اصول کے خلاف ہے۔

March 18, 2026

افغان طالبان دہشتگردوں کو اپنے پاس چھپا رہے ہیں، حتیٰ کہ سرکاری عمارتوں میں بھی انہیں پناہ دی جا رہی ہے

March 18, 2026

یہ اقدام مبینہ طور پر پاکستانی فضائی کارروائیوں کے بعد اختیار کیا گیا، جس میں اسلحہ کے ڈپو اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا تھا

March 18, 2026

حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو گزشتہ سال حراست میں لیا گیا تھا اور اس پر الزام تھا کہ وہ اہم سکیورٹی تنصیبات سے متعلق معلومات اسرائیلی ایجنسی تک پہنچاتا رہا

March 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *