شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق میں بھارت کو جو سبق سکھایا وہ زندگی بھر یاد رکھے گا مگر اب سیز فائر ہوچکا ہے لہذا ہم امن اور برابری کی بنیاد پر مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل چاہتے ہیں کیوں کہ دونوں ہمسایہ ممالک نے ہمیشہ ساتھ رہنا ہے، بھارت جھگڑالو پڑوسی کے بجائے اچھے ہمسائے کی طرح رہے۔
ان خیالات کااظہار انہوں نے لندن میں اوورسیز پاکستانیز کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میرے لئے خوشی کی بات ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کے سامنے کھڑا ہوں، آپ کے پاکستان کے وہ سفیر ہیں جو بیرون ملک دن رات محنت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دن میں آپ دیار غیر میں انتہائی محنت سے رزق حلال کماتے ہیں، میں اس بات کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنی محنت سے جو رزق کماتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف معاشی طور پر بلکہ سیاسی طور پر جس طرح آپ ہر جگہ پاکستان کا دفاع کرتے ہیں، اس کے لئے بھی آپ سب کو سیلوٹ پیش کرتا ہوں۔
وزیراعظم نے کہا کہ سب سے پہلے آپ سب کو 10 مئی 2025 کی عظیم فتح کی مبارکباد دینا چاہتا ہوں، یہ وہ فتح ہے جس نے دشمن کو وہ سبق سکھایا جو وہ زندگی بھر یاد رکھے گا، جب ہم پر الزامات لگائے گئے تو ہم نے یہ بیان دیا کہ پاکستان کا پہلگام واقعے سے دور دور تک تعلق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعے کی شفاف تحقیقات کے لئے میں نے عالمی کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے کہ یہ پاکستان کے خلاف جھوٹے الزامات لگائے جارہے ہیں لیکن ہمسایہ ملک نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے جواب میں 6 مئی کو دشمن نے پاکستان کے خلاف حملہ کیا جس میں بے گناہ پاکستانی شہید ہوئے، مساجد کو شہید کیا گیا اور سویلینز پر حملے کیے گئے، جس پر پاکستان کو اپنے دفاع میں کارروائی کرنی پڑی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایک جھٹکے میں دشمن کے 6 جہاز زمین بوس ہوگئے، دشمن کو چند گھنٹوں میں پتا چل گیا کہ یہ بات بہت دور تک چلی جائے گی، میرے پاس فیلڈ مارشل کا فون آتا ہے کہ میں آپ کو یہ خبر دینا چاہتا ہوں کہ دشمن نے ہم پر حملہ کردیا۔ مجھے کہنے لگے وزیراعظم آپ مجھے اجازت دیں، ہم ان کو وہ سبق سکھائیں گے کہ وہ زندگی بھر یاد رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ دوست ممالک میں ایک سربراہ نے مجھ سے پوچھا وہ کون سی دو باتیں جو اس عظیم فتح کی وجہ بنی، میں نے کہا کہ افواج پاکستان کی دلیری، شجاعت، پروفیشنلزم، اللہ پر بھروسہ اور دوسرے نمبر پر سیاسی وعسکری قیادت کی سوچ میں یکسانیت جب کہ تیسری بات جب فیصلہ ہوا تو ملٹری لیڈرشپ نے مڑ کر نہیں دیکھا۔
ان کا کہنا تھا کہ معرکہ حق کے آپریشن کے بعد سیز فائر ہوچکا اور اب ہم امن چاہتے ہیں، ہم ترقی وخوشحالی، ملک میں بیروزگاری کا خاتمہ اور سرمایہ کاری چاہتے ہیں اور میں نے یہ آفر کئی مرتبہ دی ہے جو پوری دنیا نے سنی ہے، میں نے کہا ہے کہ ہم کشمیر، پانی، تجارت اور کاؤنٹر ٹیررازم پر بات کرنا چاہتے ہیں اور برابری کی بنیاد پر بات کرکے یہ مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہونا، بنیادی ستون ہے، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے بغیر باہمی تعلقات استوار ہوسکتے ہیں تو وہ احمقوں کے جنت میں رہتے ہیں، کشمیریوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، انہیں اپنا حق ملے گا۔
دیکھیں: وزیراعظم شہباز شریف نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوں گے