کالعدم ٹی ٹی پی (فتنہ الخوارج) کے اندر شدید اندرونی اختلافات اور خونریز تصادم کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تازہ ترین واقعے میں ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر کلیم اللہ، جو ‘سیف العمر’ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، کو اس کے اپنے ہی ساتھیوں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مقتول کمانڈر کا تعلق ضلع کرک کے علاقے اولس وال سے تھا۔
قتل کی وجوہات اور اخلاقی گراوٹ
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ قتل کسی نظریاتی اختلاف کا نتیجہ نہیں بلکہ گروہ کے اندر موجود شدید اخلاقی گراوٹ اور بدمزگی کا شاخسانہ ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایک لڑکے کے معاملے پر کمانڈر کلیم اللہ اور اس کے ساتھیوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جس نے شدت اختیار کر لی اور گروہ کے کارندوں نے اپنے ہی کمانڈر پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی، جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
ٹی ٹی پی میں بڑھتی ہوئی پھوٹ
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ واقعہ کالعدم ٹی ٹی پی کے اندر پھیلے ہوئے عدم اعتماد اور قیادت کے بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں دہشت گرد گروہ کے مختلف دھڑوں کے درمیان وسائل کی تقسیم اور دیگر معاملات پر کئی بار مسلح تصادم ہو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد اہم کمانڈرز ہلاک ہوئے ہیں۔ کلیم اللہ عرف سیف العمر کی ہلاکت کو اس گروہ کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔
علاقائی اثرات اور تجزیہ
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات ثابت کرتے ہیں کہ یہ دہشت گرد عناصر نہ صرف ریاست کے دشمن ہیں بلکہ ان کے اندرونی معاملات بھی جرائم پیشہ ذہنیت اور اخلاقی پستی کا نمونہ ہیں۔ کرک اور گرد و نواح میں اس واقعے کے بعد دہشت گردوں کے باقی ماندہ نیٹ ورکس میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔