آبنائے ہرمز میں بھارتی پرچم بردار دو تجارتی بحری جہازوں پر فائرنگ کے سنگین واقعے کے بعد نئی دہلی نے سخت سفارتی ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کی شام ایرانی سفیر کو طلب کیا، جہاں سیکرٹری خارجہ نے ان سے ملاقات کے دوران اس واقعے پر بھارت کی جانب سے شدید تشویش اور باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کرایا۔
بحری سلامتی اور سہولت کاری کا مطالبہ
ملاقات کے دوران بھارت نے واضح کیا کہ وہ تجارتی جہاز رانی اور ملاحوں کی حفاظت کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ سیکرٹری خارجہ نے ایرانی سفیر پر زور دیا کہ تہران حکومت آبنائے ہرمز سے بھارت جانے والے جہازوں کے لیے محفوظ راستہ اور سہولت کاری کا عمل فوری طور پر بحال کرے، جیسا کہ ماضی میں بھی ایران کی جانب سے تعاون کیا جاتا رہا ہے۔
Our statement regarding Iran ⬇️
— Randhir Jaiswal (@MEAIndia) April 18, 2026
🔗 https://t.co/05hycXPgJ6 pic.twitter.com/HwhqdNL9M8
ایرانی یقین دہانی اور خطے کی صورتحال
ایرانی سفیر نے بھارتی تحفظات کو نوٹ کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ وہ یہ تمام تر تفصیلات اور نئی دہلی کا موقف تہران میں اعلیٰ حکام تک پہنچائیں گے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے مابین بحری ناکہ بندی پر پہلے ہی تناؤ عروج پر ہے، جس کے باعث اب بھارت کے تجارتی مفادات بھی براہِ راست متاثر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
سفارتی تجزیہ
ماہرین کے مطابق اس واقعے سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بحری سلامتی کے حوالے سے بھی نئے سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ بھارت، جو اب تک اس علاقائی تنازع میں براہِ راست فریق نہیں تھا، اب اپنے تجارتی مفادات کے تحفظ کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کرنے پر مجبور نظر آتا ہے۔