امریکہ اور ایران کے مابین جاری جوہری مذاکرات میں ایک ایسی بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے عالمی برادری کو حیران کر دیا ہے۔ العربیہ نیوز نے پاکستانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو کسی تیسرے ملک منتقل کرنے کی شرط پر پاکستان کو بطور ممکنہ میزبان ملک نامزد کر دیا ہے۔ یہ تجویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ ایران سے اپنا تمام افزودہ مواد ملک سے باہر بھیجنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
پاکستان کا کلیدی کردار
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کا پاکستان پر یہ اعتماد اسلام آباد کی کامیاب ثالثی اور جوہری سلامتی کے حوالے سے اس کے مضبوط ریکارڈ کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر یہ تجویز قبول کر لی جاتی ہے تو پاکستان اس حساس جوہری مواد کی حفاظت کا ذمہ دار ہوگا، جس سے ایران پر سے بین الاقوامی پابندیاں ہٹنے اور امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل تہران اپنا مواد کسی بھی دوسرے ملک منتقل کرنے سے کتراتا رہا ہے۔
مصدر باكستاني للعربية: إيران رشحت باكستان كدولة محتملة لنقل اليورانيوم المخصب إليها #العربية_عاجل
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) April 18, 2026
صدر ٹرمپ اور تہران کا بدلتا ہوا رویہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ بیانات میں “بہت سی اچھی چیزیں ہونے” کے اشارے دیے گئے تھے۔ ماہرین کے مطابق، ایران کی جانب سے پاکستان کو میزبان نامزد کرنا اسی سلسلے کی کڑی ہے تاکہ واشنگٹن کو یہ یقین دہانی کرائی جا سکے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ تاہم، اس منتقلی کے لیے امریکہ، عالمی جوہری توانائی ایجنسی اور پاکستان کی رضامندی کے ساتھ ساتھ منتقلی کے طریقہ کار پر اتفاق ہونا ابھی باقی ہے۔
سفارتی مبصرین کا تجزیہ
سیاسی مبصرین اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک بہت بڑی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان، جو پہلے ہی اسلام آباد میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے کوشاں ہے، اب اس معاملے میں محض ایک ثالث نہیں بلکہ ایک اہم ‘اسٹیک ہولڈر’ بن کر ابھرا ہے۔ اگر یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے تو یہ پاکستان کی سفارتی تاریخ کی ایک بڑی کامیابی ہوگی، جس سے نہ صرف ایران امریکہ تناؤ کم ہوگا بلکہ خطے میں پاکستان کا اثر و رسوخ بھی بڑھے گا۔ تاہم، آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی اور ایرانی بحریہ کے بیانات ان مذاکرات کے گرد تاحال خطرے کے بادل برقرار رکھے ہوئے ہیں۔