بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت سکیورٹی فورسز نے قلات، خضدار اور سوراب میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کرتے ہوئے مزید 19 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

August 12, 2026

بدخشاں میں جمعہ خان فتح کی طالبان کے خلاف کھلی جنگ کی کال کے بعد کشیدگی میں شدت آ گئی، درواز میں جھڑپوں میں طالبان کے دو اہلکار ہلاک اور گورنر ہاؤس پر راکٹ حملہ بھی کیا گیا۔

August 12, 2026

طالبان کی جنرل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ نے 70 ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے ایغور جنگجوؤں کو ہتھیاروں سمیت بدخشاں منتقل کر کے ان کی موجودگی کو خفیہ رکھنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

August 12, 2026

مشعل پاکستان نے ملک کی پہلی اسٹیٹ آف ٹرانسپیرنسی رپورٹ 2026 جاری کر دی، جس میں مسلح افواج پر 82 فیصد اور ڈیجیٹل گورننس پر 54 فیصد شہریوں نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

August 12, 2026

پاکستان نے مقبوضہ شامی گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری تسلیم کرنے کے کولمبیا کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

August 12, 2026

خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں سکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس میں افغان شہری سمیت متعدد دہشت گرد ہلاک اور بھاری اسلحہ برآمد ہوا۔

August 12, 2026

مقبوضہ لداخ میں پُرتشدد مظاہروں کے بعد تعلیمی ادارے بند، 50 سے زائد افراد زیرحراست

عوامی تحریکوں کو جبر اور تشدد سے کچلنے کی کوشش کرنے والی مودی سرکار نے لیہہ میں ہر قسم کے مظاہروں اور اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی۔
مقبوضہ لداخ میں پُرتشدد مظاہروں کے بعد تعلیمی ادارے بند، 50 سے زائد افراد زیرحراست

دوسری جانب انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے مشرقی خطے لداخ میں پُرتشدد مظاہروں کے بعد پولیس نے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کو گرفتار کر لیا ہے۔

September 26, 2025

ریاستی حیثیت کے مطالبے پر مقبوضہ لداخ میں پُرتشدد مظاہروں کے بعد قابض بھارتی سرکار نے کرفیو لگا دیا، تعلیمی ادارے 2 دنوں کے لیے بند جبکہ 50 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

بھارتی وزارتِ داخلہ اور لیہہ ایپکس باڈی،  کارگل ڈیموکریٹک الائنس کے نمائندوں اور مقامی رکنِ پارلیمنٹ کے درمیان 28-27 ستمبر کو نئی دلی میں میٹنگ ہوگی۔

واضح رہے کہ دو روز قبل ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے پر جین زی سڑکوں پر نکل آئی تھی، مشتعل مظاہرین نے حکمراں جماعت بی جے پی کے دفاتر کو آگ لگادی تھی۔

 پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور گولیاں چلائی تھیں جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔

بھارتی حکومت نے مقبوضہ لداخ کے رہنما سونم وانگ چک پر اشتعال انگیزی کا الزام لگایا ہے جسے اُنہوں نے مسترد کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ مودی حکومت نے 2019ء میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے مقبوضہ وادی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔

سونم وانگچک گرفتار

دوسری جانب انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے مشرقی خطے لداخ میں پُرتشدد مظاہروں کے بعد پولیس نے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کو گرفتار کر لیا ہے۔

جمعے کو لیہہ پولیس نے بتایا کہ انھیں انڈیا کے نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

لداخ میں پرتشدد مظاہروں کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد گذشتہ کئی روز سے کشیدگی ہے۔ انڈین وزارت داخلہ نے ایک بیان میں لداخ میں پھیلی کشیدگی کے لیے سونم وانگچک کو براہ راست ذمہ دار قرار دیا تھا۔

ان کی کئی انجمنوں کے بینک کھاتوں کی چھان بین کی جا رہی ہے اور ان کی ایک این جی او کے ذریعے غیر ملکی عطیات لینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

احتجاجی مظاہرے کا پس منظر

اس سے قبل مقبوضہ کشمیر کے علاقے لداخ میں عوام مودی سرکار کے سیاہ قانون کے خلاف اور ریاست کا درجہ دینے کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق لداخ کے علاقے لیہہ میں صورت حال کشیدہ ہوگئی۔ مودی کی جماعت بی جے پی کا دفتر نذر آتش کردیا گیا۔

احتجاج کے دوران بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ اُس وقت شروع ہوا جب عوام لداخ کو ریاستی درجہ دلوانے اور بھارتی آئین کی چھٹی شیڈول پر تحفظات کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اس احتجاجی تحریک کا آغاز لیہہ ایپکس باڈی کے چیئرمین شیرنگ دورجے کی اپیل پر کیا گیا تھا اور کارکنان مطالبات کی منظوری کے لیے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے جن میں سے دو کی حالت بگڑ گئی۔

اس سے قبل ماحولیات کے معروف کارکن سونم وانگچک نے بھی 10 ستمبر سے 15 روزہ بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔

مودی نواز کٹھ پتلی انتظامیہ نے اس احتجاج کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کی اور بھوک ہڑتالی کیمپ پر دھاوا بول دیا۔

جس پر صورتحال بگڑ گئی اور نوجوانوں نے پتھراؤ کیا۔ بعدازاں مشتعل عوام نے بی جے پی کا دفتر اور بھارتی فوج کی  ایک گاڑی کو نذر آتش کردیا۔

بھارتی سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس شیلنگ اور لاٹھی چارج کے بعد براہِ راست فائرنگ کردی۔

لیہہ ایپکس باڈی کے ترجمان نے بتایا کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں 4 افراد ہلاک اور 70 کے قریب زخمی ہوگئے۔

درجن سے زائد زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے جو مقامی اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل ہیں۔

عوامی تحریکوں کو جبر اور تشدد سے کچلنے کی کوشش کرنے والی مودی سرکار نے لیہہ میں ہر قسم کے مظاہروں اور اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی۔

متعدد علاقوں کو حساس قرار دیکر چپے چپے پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی۔ کئی جگہوں کی ناکہ بندی بھی کی گئی۔

خیال رہے کہ لداخ تاریخی طور پر جموں و کشمیر ریاست کا حصہ رہا ہے لیکن اگست 2019 میں بھارتی حکومت نے آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کرکے جموں و کشمیر سے علیحدہ کرکے لداخ کو وفاقی اکائی بنا دیا تھا۔

مقامی آبادی نے مودی سرکار کے اس فیصلے کو اپنے ثقافتی تشخص، ماحولیاتی تحفظ اور قبائلی ڈھانچے کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے اسے مسترد کردیا تھا۔

اس کے بعد سے لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس لداخ کو بطور الگ ریاست کا درجہ دینے اور چھٹی شیڈول کے تحت آئینی ضمانتوں کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں۔

تاہم بھارت کی مودی سرکار نے ناجائز تسلط اور قبضے کی سیاست کو جاری رکھتے ہوئے عوامی مطالبے کو ماننے کے بجائے طاقت کا بے دریخ استعمال کر رہی ہے جیسا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں حریت پسندوں کے ساتھ بھی کر رہی ہے۔

دیکھیں: طالبان کے بعد فتنۂ خوارج کی بڑھتی دہشت گردی اور پاکستان کو درپیش خطرات

متعلقہ مضامین

بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت سکیورٹی فورسز نے قلات، خضدار اور سوراب میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کرتے ہوئے مزید 19 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

August 12, 2026

بدخشاں میں جمعہ خان فتح کی طالبان کے خلاف کھلی جنگ کی کال کے بعد کشیدگی میں شدت آ گئی، درواز میں جھڑپوں میں طالبان کے دو اہلکار ہلاک اور گورنر ہاؤس پر راکٹ حملہ بھی کیا گیا۔

August 12, 2026

طالبان کی جنرل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ نے 70 ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے ایغور جنگجوؤں کو ہتھیاروں سمیت بدخشاں منتقل کر کے ان کی موجودگی کو خفیہ رکھنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

August 12, 2026

مشعل پاکستان نے ملک کی پہلی اسٹیٹ آف ٹرانسپیرنسی رپورٹ 2026 جاری کر دی، جس میں مسلح افواج پر 82 فیصد اور ڈیجیٹل گورننس پر 54 فیصد شہریوں نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

August 12, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *