اب اس معاہدے میں تاجکستان اور ازبکستان کو شامل کرنے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ خطے میں تجارت اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

May 5, 2026

باغی کمانڈر نے اپنے خطاب میں رژیم کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سرزمین کو تباہ اور وسائل کو لوٹا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہلمند اور قندھار سے کوکنار مٹانے کے بہانے بدخشانیوں کے گھروں میں فوجیں داخل کی جا رہی ہیں

May 5, 2026

یہ نغمہ اس عزم کو دہراتا ہے کہ پاکستانی عوام اور افواجِ پاکستان “بنیانٌ مرصوص” کی طرح اپنے شہداء کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کی قربانیوں کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔

May 5, 2026

انگلینڈ کی ٹیم دوسرے، آسٹریلیا تیسرے اور نیوزی لینڈ چوتھے نمبر پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی افریقا کا پانچواں، پاکستان کا چھٹا اور ویسٹ انڈیز کا ساتواں نمبر بھی برقرار ہے۔

May 5, 2026

واضح رہے کہ قہقہوں کے بادشاہ کہلائے جانے والے امان اللّٰہ خان طویل علالت کے بعد 2020ء میں خالقِ حقیقی سے جا ملے تھے، لیکن ان کا فن آج بھی دونوں ممالک کے فنکاروں کے دلوں میں زندہ ہے۔

May 5, 2026

رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران بھی ٹیکسٹائل برآمدات میں مجموعی طور پر 1.48 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جولائی 2025 سے اپریل 2026 تک کے عرصے میں ٹیکسٹائل برآمدات 15 ارب 7 کروڑ ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ برآمدات 14 ارب 85 کروڑ ڈالر تھیں۔

May 5, 2026

مقبوضہ لداخ میں پُرتشدد مظاہروں کے بعد تعلیمی ادارے بند، 50 سے زائد افراد زیرحراست

عوامی تحریکوں کو جبر اور تشدد سے کچلنے کی کوشش کرنے والی مودی سرکار نے لیہہ میں ہر قسم کے مظاہروں اور اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی۔
مقبوضہ لداخ میں پُرتشدد مظاہروں کے بعد تعلیمی ادارے بند، 50 سے زائد افراد زیرحراست

دوسری جانب انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے مشرقی خطے لداخ میں پُرتشدد مظاہروں کے بعد پولیس نے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کو گرفتار کر لیا ہے۔

September 26, 2025

ریاستی حیثیت کے مطالبے پر مقبوضہ لداخ میں پُرتشدد مظاہروں کے بعد قابض بھارتی سرکار نے کرفیو لگا دیا، تعلیمی ادارے 2 دنوں کے لیے بند جبکہ 50 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

بھارتی وزارتِ داخلہ اور لیہہ ایپکس باڈی،  کارگل ڈیموکریٹک الائنس کے نمائندوں اور مقامی رکنِ پارلیمنٹ کے درمیان 28-27 ستمبر کو نئی دلی میں میٹنگ ہوگی۔

واضح رہے کہ دو روز قبل ریاستی حیثیت کی بحالی کے مطالبے پر جین زی سڑکوں پر نکل آئی تھی، مشتعل مظاہرین نے حکمراں جماعت بی جے پی کے دفاتر کو آگ لگادی تھی۔

 پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور گولیاں چلائی تھیں جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔

بھارتی حکومت نے مقبوضہ لداخ کے رہنما سونم وانگ چک پر اشتعال انگیزی کا الزام لگایا ہے جسے اُنہوں نے مسترد کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ مودی حکومت نے 2019ء میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کر کے مقبوضہ وادی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔

سونم وانگچک گرفتار

دوسری جانب انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے مشرقی خطے لداخ میں پُرتشدد مظاہروں کے بعد پولیس نے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کو گرفتار کر لیا ہے۔

جمعے کو لیہہ پولیس نے بتایا کہ انھیں انڈیا کے نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔

لداخ میں پرتشدد مظاہروں کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد گذشتہ کئی روز سے کشیدگی ہے۔ انڈین وزارت داخلہ نے ایک بیان میں لداخ میں پھیلی کشیدگی کے لیے سونم وانگچک کو براہ راست ذمہ دار قرار دیا تھا۔

ان کی کئی انجمنوں کے بینک کھاتوں کی چھان بین کی جا رہی ہے اور ان کی ایک این جی او کے ذریعے غیر ملکی عطیات لینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

احتجاجی مظاہرے کا پس منظر

اس سے قبل مقبوضہ کشمیر کے علاقے لداخ میں عوام مودی سرکار کے سیاہ قانون کے خلاف اور ریاست کا درجہ دینے کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق لداخ کے علاقے لیہہ میں صورت حال کشیدہ ہوگئی۔ مودی کی جماعت بی جے پی کا دفتر نذر آتش کردیا گیا۔

احتجاج کے دوران بھارتی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ اُس وقت شروع ہوا جب عوام لداخ کو ریاستی درجہ دلوانے اور بھارتی آئین کی چھٹی شیڈول پر تحفظات کا مطالبہ کر رہے تھے۔

اس احتجاجی تحریک کا آغاز لیہہ ایپکس باڈی کے چیئرمین شیرنگ دورجے کی اپیل پر کیا گیا تھا اور کارکنان مطالبات کی منظوری کے لیے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تھے جن میں سے دو کی حالت بگڑ گئی۔

اس سے قبل ماحولیات کے معروف کارکن سونم وانگچک نے بھی 10 ستمبر سے 15 روزہ بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔

مودی نواز کٹھ پتلی انتظامیہ نے اس احتجاج کو طاقت سے کچلنے کی کوشش کی اور بھوک ہڑتالی کیمپ پر دھاوا بول دیا۔

جس پر صورتحال بگڑ گئی اور نوجوانوں نے پتھراؤ کیا۔ بعدازاں مشتعل عوام نے بی جے پی کا دفتر اور بھارتی فوج کی  ایک گاڑی کو نذر آتش کردیا۔

بھارتی سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس شیلنگ اور لاٹھی چارج کے بعد براہِ راست فائرنگ کردی۔

لیہہ ایپکس باڈی کے ترجمان نے بتایا کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں 4 افراد ہلاک اور 70 کے قریب زخمی ہوگئے۔

درجن سے زائد زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے جو مقامی اسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل ہیں۔

عوامی تحریکوں کو جبر اور تشدد سے کچلنے کی کوشش کرنے والی مودی سرکار نے لیہہ میں ہر قسم کے مظاہروں اور اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی۔

متعدد علاقوں کو حساس قرار دیکر چپے چپے پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی۔ کئی جگہوں کی ناکہ بندی بھی کی گئی۔

خیال رہے کہ لداخ تاریخی طور پر جموں و کشمیر ریاست کا حصہ رہا ہے لیکن اگست 2019 میں بھارتی حکومت نے آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کرکے جموں و کشمیر سے علیحدہ کرکے لداخ کو وفاقی اکائی بنا دیا تھا۔

مقامی آبادی نے مودی سرکار کے اس فیصلے کو اپنے ثقافتی تشخص، ماحولیاتی تحفظ اور قبائلی ڈھانچے کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے اسے مسترد کردیا تھا۔

اس کے بعد سے لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس لداخ کو بطور الگ ریاست کا درجہ دینے اور چھٹی شیڈول کے تحت آئینی ضمانتوں کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں۔

تاہم بھارت کی مودی سرکار نے ناجائز تسلط اور قبضے کی سیاست کو جاری رکھتے ہوئے عوامی مطالبے کو ماننے کے بجائے طاقت کا بے دریخ استعمال کر رہی ہے جیسا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں حریت پسندوں کے ساتھ بھی کر رہی ہے۔

دیکھیں: طالبان کے بعد فتنۂ خوارج کی بڑھتی دہشت گردی اور پاکستان کو درپیش خطرات

متعلقہ مضامین

اب اس معاہدے میں تاجکستان اور ازبکستان کو شامل کرنے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ خطے میں تجارت اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

May 5, 2026

باغی کمانڈر نے اپنے خطاب میں رژیم کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سرزمین کو تباہ اور وسائل کو لوٹا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہلمند اور قندھار سے کوکنار مٹانے کے بہانے بدخشانیوں کے گھروں میں فوجیں داخل کی جا رہی ہیں

May 5, 2026

یہ نغمہ اس عزم کو دہراتا ہے کہ پاکستانی عوام اور افواجِ پاکستان “بنیانٌ مرصوص” کی طرح اپنے شہداء کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ان کی قربانیوں کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری الفاظ میں یاد رکھا جائے گا۔

May 5, 2026

انگلینڈ کی ٹیم دوسرے، آسٹریلیا تیسرے اور نیوزی لینڈ چوتھے نمبر پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی افریقا کا پانچواں، پاکستان کا چھٹا اور ویسٹ انڈیز کا ساتواں نمبر بھی برقرار ہے۔

May 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *