...
متعلقہ خاتون نے ایک پلاٹ پر عارضی طور پر قبضہ کرتے ہوئے ایک کیفے قائم کیا۔ قانونی دستاویزات اور مقامی انتظامیہ کی معلومات کے مطابق یہ کیفے باقاعدہ اجازت یا لیز کے بغیر قائم کیا گیا تھا

March 20, 2026

عالمی سطح پر فن لینڈ مسلسل 9 ویں سال دنیا کا خوش ترین ملک قرار پایا، جبکہ آئس لینڈ اور ڈنمارک بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے

March 19, 2026

مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ کسی بھی علاقے سے چاند نظر آنے کی مصدقہ شرعی شہادت موصول نہیں ہوئی، اس لیے رمضان المبارک 1447 ہجری کے 30 روزے مکمل کیے جائیں گے۔

March 19, 2026

مہاجرین کا کہنا تھا کہ سیز فائر کا احترام کرتے ہوئے بارڈر کھولا جائے تاکہ راستوں میں پھنسے افغان شہری واپس جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت میگا آپریشن سے گریز کرے اور مہاجرین کو عید تک اپنے اہلخانہ کے ساتھ رہنے دیا جائے

March 19, 2026

فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کو اہم سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کا فروغ صنعت، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں انقلاب برپا کرے گا۔

March 19, 2026

اسرائیلی میڈیا کے مطابق رضاکار فوجیوں نے راکٹ اور میزائل حملوں سے ناکافی تحفظ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے پوسٹنگ پر رپورٹ کرنے سے انکار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ بار بار مطالبات کے باوجود بنکرز کی فراہمی لاجسٹک مسائل کے نام پر مؤخر کی جا رہی ہے

March 19, 2026

ذبیح اللہ مجاہد کے پاکستان کے اندرونی معاملات پر بیان نے سیاسی ہلچل مچا دی

ٹی ایل پی احتجاج پر طالبان ترجمان کی تنقید، اسلام آباد کا سخت ردعمل
ذبیح اللہ مجاہد کے پاکستان کے اندرونی معاملات پر بیان نے سیاسی ہلچل مچا دی

تجزیہ کاروں کے مطابق، زبیح اللہ مجاہد کا یہ بیان کابل کی بدلتی سفارتی روش اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں بڑھتی ہوئی مداخلت کا ثبوت ہے۔

October 13, 2025

حریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے حالیہ احتجاج پر افغان طالبان کے ترجمان زبیح اللہ مجاہد کے بیان نے پاکستان میں سیاسی اور سفارتی بحث کو ہوا دے دی ہے۔

زبیح اللہ مجاہد نے 13 اکتوبر کو “پاکستان میں مظاہرین پر فائرنگ اور جانی نقصان پر تعزیتی پیغام” کے عنوان سے بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستانی فوج نے مظاہرین پر “براہ راست فائرنگ” کی جس سے “کئی ہلاکتیں اور مالی نقصان” ہوا۔

انہوں نے کہا، “ہم اس پر نہایت افسردہ ہیں اور متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کرتے ہیں، حکومت پاکستان مزید تشدد سے گریز کرے اورمذاکرات کرے۔”

اسلام آباد نے الزامات مسترد کر دیے


پاکستانی حکام نے اس بیان پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم ذرائع نے اسے “غلط معلومات پر مبنی اور منافقانہ” قرار دیا۔

وزارت داخلہ کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ احتجاج کے دوران کوئی فوجی دستہ تعینات نہیں تھا، بلکہ کارروائی پولیس اور سول انتظامیہ نے کی۔

ایک افسر نے کہا، “یہ قانون نافذ کرنے کی کارروائی تھی، کوئی خودمختار ملک مذہب کے نام پر مسلح گروہوں کو دارالحکومت مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔”

سیاسی ماہرین کے مطابق طالبان کا بیان کابل کی حالیہ پراپیگنڈا مہم کا حصہ ہے، جو پاک–افغان سرحدی کشیدگی کے بعد مزید تیز ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارتِ خارجہ نے 12 اکتوبر کو جاری بیان میں پہلی بار کابل کو “طالبان حکومت” کے بجائے “طالبان رجیم” قرار دیا — جو سفارتی سطح پر ایک نمایاں تنزلی ہے۔

ماہرین کا مؤقف: “یہ ہمدردی نہیں، پراپیگنڈا ہے”


اسلام آباد اور پشاور کے مبصرین نے زبیح اللہ کے بیان کو “اخلاقی نمائش کے پردے میں سیاسی مداخلت” قرار دیا۔
ایک سابق پاکستانی سفارتکار نے کہا، “جو حکومت ٹی ٹی پی جیسے قاتل گروہوں کو پناہ دیتی ہے، وہ اب ‘انسانی ہمدردی’ کا دعویٰ کر رہی ہے؟ یہ مضحکہ خیز ہے۔”

انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی کابل کی “منتخب ہمدردی” پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان خود دنیا کا ایک جبر زدہ ملک ہے، جہاں خواتین کی تعلیم و روزگار پر پابندی ہے اور صحافی قید یا لاپتہ کیے جاتے ہیں۔

تجزیہ کاروں نے کہا کہ پاکستان کی نئی سفارتی اصطلاح “طالبان رجیم” اس بدلتی ہوئی حکمت عملی کی علامت ہے، جو بھائی چارے سے زیادہ احتساب پر مرکوز ہے۔

علاقائی پس منظر


ماہرین کے مطابق کابل کا یہ بیان بھارت کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ اور اس کی پاکستان مخالف پالیسیوں کے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے بقول، “اگر طالبان واقعی انسانی جانوں کے بارے میں فکرمند ہیں، تو انہیں پہلے اپنی سرزمین سے ٹی ٹی پی کی پناہ گاہیں ختم کرنی چاہئیں۔”

ٹی ایل پی احتجاج کا پس منظر


تحریک لبیک پاکستان کے مظاہرے غزہ کی صورتحال پر حکومتی پالیسی کے خلاف اکتوبر کے آغاز میں شروع ہوئے تھے۔ لاہور اور دیگر شہروں میں مظاہرین کے حملوں کے نتیجے میں ایک ایس ایچ او جاں بحق اور کئی اہلکار زخمی ہوئے۔

اسلام آباد نے ان احتجاجات کو “قانون شکن کارروائیاں” قرار دیا۔

اختتامی تجزیہ


تجزیہ کاروں کے مطابق، زبیح اللہ مجاہد کا یہ بیان کابل کی بدلتی سفارتی روش اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں بڑھتی ہوئی مداخلت کا ثبوت ہے۔
اسلام آباد کی جانب سے “طالبان رجیم” کی اصطلاح استعمال کرنا واضح پیغام ہے کہ پاکستان اب “برداشت” سے “جوابی اقدام” کی پالیسی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

یہ معاملہ صرف الفاظ کا نہیں بلکہ خطے کی بدلتی پالیسی کا عکس ہے — اور شاید یہ اشارہ ہے کہ پاکستان کی صبر کی حد اب ختم ہو چکی ہے۔

دیکھیں: تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں کو منتشر کرنے کا آپریشن مکمل: ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد ہلاک

متعلقہ مضامین

متعلقہ خاتون نے ایک پلاٹ پر عارضی طور پر قبضہ کرتے ہوئے ایک کیفے قائم کیا۔ قانونی دستاویزات اور مقامی انتظامیہ کی معلومات کے مطابق یہ کیفے باقاعدہ اجازت یا لیز کے بغیر قائم کیا گیا تھا

March 20, 2026

عالمی سطح پر فن لینڈ مسلسل 9 ویں سال دنیا کا خوش ترین ملک قرار پایا، جبکہ آئس لینڈ اور ڈنمارک بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے

March 19, 2026

مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ کسی بھی علاقے سے چاند نظر آنے کی مصدقہ شرعی شہادت موصول نہیں ہوئی، اس لیے رمضان المبارک 1447 ہجری کے 30 روزے مکمل کیے جائیں گے۔

March 19, 2026

مہاجرین کا کہنا تھا کہ سیز فائر کا احترام کرتے ہوئے بارڈر کھولا جائے تاکہ راستوں میں پھنسے افغان شہری واپس جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت میگا آپریشن سے گریز کرے اور مہاجرین کو عید تک اپنے اہلخانہ کے ساتھ رہنے دیا جائے

March 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.