رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران بھی ٹیکسٹائل برآمدات میں مجموعی طور پر 1.48 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جولائی 2025 سے اپریل 2026 تک کے عرصے میں ٹیکسٹائل برآمدات 15 ارب 7 کروڑ ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ برآمدات 14 ارب 85 کروڑ ڈالر تھیں۔

May 5, 2026

کانفرنس کے دوران فیلڈ مارشل نے “معرکۂ حق” کا یادگار سال مکمل ہونے پر قوم اور مسلح افواج کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معرکہ قومی اتحاد، اجتماعی عزم اور پاکستان کی خودمختاری کے غیر متزلزل تحفظ کے عہد کی عکاسی کرتا ہے۔

May 5, 2026

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا رواں ماہ چین کا اہم دورہ متوقع ہے، جہاں ان کی ملاقات چینی صدر شی جن پنگ سے ہوگی۔ دورے کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تجارت، ٹیکنالوجی کے شعبے اور ایران سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

May 5, 2026

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو سچ کا معجزہ نے بھارت کی خفیہ منصوبہ بندی اور پاکستان کے عبرتناک دفاعی جواب کی مکمل عکاسی پیش کر دی ہے، جس میں دشمن کی پسپائی کو واضح طور پر دکھایا گیا ہے۔

May 5, 2026

چارسدہ میں جمیعت علمائے اسلام سے وابستہ ممتاز عالمِ دین شیخ محمد ادریس کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا، جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی ہے۔

May 5, 2026

منظور پشتین کی ویڈیو میں ریاست پر الزامات اور متوازی نظام کی تجویز نے سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ ریاستی مؤقف کے مطابق اقدامات دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تھے۔

May 5, 2026

ذبیح اللہ مجاہد کے پاکستان کے اندرونی معاملات پر بیان نے سیاسی ہلچل مچا دی

ٹی ایل پی احتجاج پر طالبان ترجمان کی تنقید، اسلام آباد کا سخت ردعمل
ذبیح اللہ مجاہد کے پاکستان کے اندرونی معاملات پر بیان نے سیاسی ہلچل مچا دی

تجزیہ کاروں کے مطابق، زبیح اللہ مجاہد کا یہ بیان کابل کی بدلتی سفارتی روش اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں بڑھتی ہوئی مداخلت کا ثبوت ہے۔

October 13, 2025

حریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے حالیہ احتجاج پر افغان طالبان کے ترجمان زبیح اللہ مجاہد کے بیان نے پاکستان میں سیاسی اور سفارتی بحث کو ہوا دے دی ہے۔

زبیح اللہ مجاہد نے 13 اکتوبر کو “پاکستان میں مظاہرین پر فائرنگ اور جانی نقصان پر تعزیتی پیغام” کے عنوان سے بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستانی فوج نے مظاہرین پر “براہ راست فائرنگ” کی جس سے “کئی ہلاکتیں اور مالی نقصان” ہوا۔

انہوں نے کہا، “ہم اس پر نہایت افسردہ ہیں اور متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کرتے ہیں، حکومت پاکستان مزید تشدد سے گریز کرے اورمذاکرات کرے۔”

اسلام آباد نے الزامات مسترد کر دیے


پاکستانی حکام نے اس بیان پر باضابطہ ردعمل نہیں دیا، تاہم ذرائع نے اسے “غلط معلومات پر مبنی اور منافقانہ” قرار دیا۔

وزارت داخلہ کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ احتجاج کے دوران کوئی فوجی دستہ تعینات نہیں تھا، بلکہ کارروائی پولیس اور سول انتظامیہ نے کی۔

ایک افسر نے کہا، “یہ قانون نافذ کرنے کی کارروائی تھی، کوئی خودمختار ملک مذہب کے نام پر مسلح گروہوں کو دارالحکومت مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔”

سیاسی ماہرین کے مطابق طالبان کا بیان کابل کی حالیہ پراپیگنڈا مہم کا حصہ ہے، جو پاک–افغان سرحدی کشیدگی کے بعد مزید تیز ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارتِ خارجہ نے 12 اکتوبر کو جاری بیان میں پہلی بار کابل کو “طالبان حکومت” کے بجائے “طالبان رجیم” قرار دیا — جو سفارتی سطح پر ایک نمایاں تنزلی ہے۔

ماہرین کا مؤقف: “یہ ہمدردی نہیں، پراپیگنڈا ہے”


اسلام آباد اور پشاور کے مبصرین نے زبیح اللہ کے بیان کو “اخلاقی نمائش کے پردے میں سیاسی مداخلت” قرار دیا۔
ایک سابق پاکستانی سفارتکار نے کہا، “جو حکومت ٹی ٹی پی جیسے قاتل گروہوں کو پناہ دیتی ہے، وہ اب ‘انسانی ہمدردی’ کا دعویٰ کر رہی ہے؟ یہ مضحکہ خیز ہے۔”

انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی کابل کی “منتخب ہمدردی” پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان خود دنیا کا ایک جبر زدہ ملک ہے، جہاں خواتین کی تعلیم و روزگار پر پابندی ہے اور صحافی قید یا لاپتہ کیے جاتے ہیں۔

تجزیہ کاروں نے کہا کہ پاکستان کی نئی سفارتی اصطلاح “طالبان رجیم” اس بدلتی ہوئی حکمت عملی کی علامت ہے، جو بھائی چارے سے زیادہ احتساب پر مرکوز ہے۔

علاقائی پس منظر


ماہرین کے مطابق کابل کا یہ بیان بھارت کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ اور اس کی پاکستان مخالف پالیسیوں کے تناظر میں سمجھا جانا چاہیے۔ ان کے بقول، “اگر طالبان واقعی انسانی جانوں کے بارے میں فکرمند ہیں، تو انہیں پہلے اپنی سرزمین سے ٹی ٹی پی کی پناہ گاہیں ختم کرنی چاہئیں۔”

ٹی ایل پی احتجاج کا پس منظر


تحریک لبیک پاکستان کے مظاہرے غزہ کی صورتحال پر حکومتی پالیسی کے خلاف اکتوبر کے آغاز میں شروع ہوئے تھے۔ لاہور اور دیگر شہروں میں مظاہرین کے حملوں کے نتیجے میں ایک ایس ایچ او جاں بحق اور کئی اہلکار زخمی ہوئے۔

اسلام آباد نے ان احتجاجات کو “قانون شکن کارروائیاں” قرار دیا۔

اختتامی تجزیہ


تجزیہ کاروں کے مطابق، زبیح اللہ مجاہد کا یہ بیان کابل کی بدلتی سفارتی روش اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں بڑھتی ہوئی مداخلت کا ثبوت ہے۔
اسلام آباد کی جانب سے “طالبان رجیم” کی اصطلاح استعمال کرنا واضح پیغام ہے کہ پاکستان اب “برداشت” سے “جوابی اقدام” کی پالیسی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

یہ معاملہ صرف الفاظ کا نہیں بلکہ خطے کی بدلتی پالیسی کا عکس ہے — اور شاید یہ اشارہ ہے کہ پاکستان کی صبر کی حد اب ختم ہو چکی ہے۔

دیکھیں: تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں کو منتشر کرنے کا آپریشن مکمل: ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد ہلاک

متعلقہ مضامین

رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران بھی ٹیکسٹائل برآمدات میں مجموعی طور پر 1.48 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جولائی 2025 سے اپریل 2026 تک کے عرصے میں ٹیکسٹائل برآمدات 15 ارب 7 کروڑ ڈالر رہیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ برآمدات 14 ارب 85 کروڑ ڈالر تھیں۔

May 5, 2026

کانفرنس کے دوران فیلڈ مارشل نے “معرکۂ حق” کا یادگار سال مکمل ہونے پر قوم اور مسلح افواج کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معرکہ قومی اتحاد، اجتماعی عزم اور پاکستان کی خودمختاری کے غیر متزلزل تحفظ کے عہد کی عکاسی کرتا ہے۔

May 5, 2026

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا رواں ماہ چین کا اہم دورہ متوقع ہے، جہاں ان کی ملاقات چینی صدر شی جن پنگ سے ہوگی۔ دورے کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تجارت، ٹیکنالوجی کے شعبے اور ایران سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

May 5, 2026

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو سچ کا معجزہ نے بھارت کی خفیہ منصوبہ بندی اور پاکستان کے عبرتناک دفاعی جواب کی مکمل عکاسی پیش کر دی ہے، جس میں دشمن کی پسپائی کو واضح طور پر دکھایا گیا ہے۔

May 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *