قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ واشنگٹن نے مئی 2023 کے بعد طالبان کو بھیجی جانے والی 40 ملین ڈالر کی نقد ترسیلات کے بارے میں عوامی سطح پر معلومات فراہم کرنا بھی بند کر دی ہیں، جس سے شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی یہ پالیسی نہ صرف تضادات کا شکار ہے بلکہ خطے میں سلامتی، دہشت گردی کے خلاف بیانیے اور انسانی امداد کے دعووں پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا رہی ہے۔

January 29, 2026

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی انٹرویو میں کہا ہے کہ نیا تعزیری قانون آئین نہیں بلکہ عدالتی طریقۂ کار ہے، جو مکمل طور پر شریعت اور فقہِ حنفی کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے

January 29, 2026

امارتِ اسلامیہ کی وزارتِ انصاف نے واضح کیا کہ ملک کی قانون سازی شریعت کے عین مطابق ہے۔ ہر شق اور دفعہ معتبر افغان علماء کے وفود نے منظور کی ہے

January 28, 2026

قازقستان اور ازبکستان کے صدور آئندہ ہفتے اسلام آباد کا دورہ کریں گے، جس میں ریلوے، توانائی، انفراسٹرکچر اور باہمی تجارت کے حوالے سے اہم معاہدے متوقع ہیں

January 28, 2026

دوسری جانب بلوچستان کے ضلع پنجگور میں سیکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران بھارت کی حمایت یافتہ تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ آپریشن 25 جنوری کو بھارتی پراکسی تنظیم فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا۔

January 28, 2026

محض بیانات اور گراف عوام کو مطمئن نہیں کر سکتے۔ عوام ریلیف کو اعداد و شمار میں نہیں بلکہ بازار کی قیمتوں، بجلی کے بل اور کچن کے اخراجات میں محسوس کرتے ہیں۔ جب تک حکومتی دعوے عوامی تجربے سے ہم آہنگ نہیں ہوں گے، تب تک مہنگائی میں کمی کے دعوے محض کاغذی کامیابیاں ہی سمجھے جاتے رہیں گے۔

January 28, 2026

پاک افغان جنگ بندی؛ خلاف ورزی کی صورت میں معاہدہ ختم سمجھا جائے، خواجہ آصف

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف پہلے دن سے ہی واضح اور دو ٹوک رہا ہے کہ دراندازی و دہشت گردی کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتے
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف پہلے دن سے ہی واضح اور دو ٹوک رہا ہے کہ دراندازی و دہشت گردی کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتے

اگر کسی بھی طرح سے معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو پاکستان اپنا دفاع کرنے کا پورا اختیار رکھتا ہے، خواجہ آصف

October 21, 2025

پاک افغان جنگ بندی معاہدے کے حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف نے دوٹوک انداز میں پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ بندی معاہدے کی کسی بھی طرح سے خلاف ورزی کی گئی تو پاکستان کی جانب سے اس معاہدے کو ختم سمجھا جائے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف پہلے دن سے ہی واضح اور دو ٹوک رہا ہے کہ دراندازی و دہشت گردی کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہم نے ابتدا ہی سے واضح کر دیا تھا کہ کسی قسم کی دراندازی برداشت نہیں کی جائے گی اور ٹی ٹی پی کو افغان حکام کی جانب سے دے جانے والی سہولیات فی الفور بھی ختم کی جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے متعدد مقامات اپنے تحفظات و مطالبات سے افغان حکام کو آگاہ کیا لیکن وہ ان حقائق کو تسلیم کرنے سے ہی انکاری تھے۔

ترکی اور قطر کا پاک افغان جنگ بندی میں کردار

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ترکی اور قطر نے فریقین کے مابین ثالثی کا کردار ادا کیا ہے جس پر پاکستان ان کا شکر گزار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے جنگ بندی معاہدے کے موقع پر بھی اسی بات کا ذکر کیا کہ بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ افغان سرزمین ٹی ٹی پی کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے۔

جنگ بندی معاہدے کی پاسداری تک جاری رہے گی

وزیر دفاع خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ جنگ بندی معاہدے کی کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی۔ بلکہ جب تک معاہدے کی پاسداری ہوتی رہی تو جنگ بندی قائم رہے گی۔

انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اگر کسی بھی طرح سے پاک افغان جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو پاکستان اپنا دفاع کرنے کا پورا اختیار رکھتا ہے۔

دیکھیں: چین نے پاک افغان جنگ بندی معاہدے کو خوش آئند قرار دے دیا

متعلقہ مضامین

قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ واشنگٹن نے مئی 2023 کے بعد طالبان کو بھیجی جانے والی 40 ملین ڈالر کی نقد ترسیلات کے بارے میں عوامی سطح پر معلومات فراہم کرنا بھی بند کر دی ہیں، جس سے شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی یہ پالیسی نہ صرف تضادات کا شکار ہے بلکہ خطے میں سلامتی، دہشت گردی کے خلاف بیانیے اور انسانی امداد کے دعووں پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھا رہی ہے۔

January 29, 2026

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی انٹرویو میں کہا ہے کہ نیا تعزیری قانون آئین نہیں بلکہ عدالتی طریقۂ کار ہے، جو مکمل طور پر شریعت اور فقہِ حنفی کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے

January 29, 2026

امارتِ اسلامیہ کی وزارتِ انصاف نے واضح کیا کہ ملک کی قانون سازی شریعت کے عین مطابق ہے۔ ہر شق اور دفعہ معتبر افغان علماء کے وفود نے منظور کی ہے

January 28, 2026

قازقستان اور ازبکستان کے صدور آئندہ ہفتے اسلام آباد کا دورہ کریں گے، جس میں ریلوے، توانائی، انفراسٹرکچر اور باہمی تجارت کے حوالے سے اہم معاہدے متوقع ہیں

January 28, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *