امریکہ اور ایران کے مابین جوہری مذاکرات میں بڑی پیش رفت؛ ایران نے اپنا افزودہ یورینیم پاکستان منتقل کرنے کی تجویز دے دی، اسلام آباد تہران کے جوہری مواد کے لیے ممکنہ ‘تھرڈ کنٹری ہوسٹ’ بننے کے لیے تیار۔

April 19, 2026

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں؛ اعلیٰ حکومتی ذرائع نے پیر کو مذاکرات کے انعقاد کی تردید کر دی، شیڈول تاحال غیر واضح۔

April 18, 2026

کالعدم ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے؛ کرک سے تعلق رکھنے والے اہم کمانڈر کلیم اللہ عرف سیف العمر کو بدمزگی کے بعد اپنے ہی ساتھیوں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا

April 18, 2026

بنوں میں انڈس ہائی وے پر سکیورٹی فورسز کے قافلے پر دھماکہ؛ ایک اہلکار شہید اور تین زخمی، فورسز کا کانوائے پشاور سے بنوں آ رہا تھا، علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع۔

April 18, 2026

آبنائے ہرمز میں بھارتی بحری جہازوں پر فائرنگ کے بعد نئی دہلی اور تہران کے مابین سفارتی کشیدگی؛ بھارت نے ایرانی سفیر کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرا دیا، تجارتی جہاز رانی کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ۔

April 18, 2026

میڈیا کا کردار محض خبر دینا نہیں بلکہ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرنا بھی ہے۔ ایسے حساس وقت میں، جب ملک ایک اہم سفارتی کامیابی کے دہانے پر کھڑا ہو، ضروری ہے کہ میڈیا توازن برقرار رکھے۔ سنسنی خیزی یا ریٹنگز کی دوڑ میں ایسی خبروں کو اس انداز میں پیش کرنا جو بین الاقوامی سطح پر ملک کے تاثر کو متاثر کرے، دانشمندی نہیں۔

April 18, 2026

بھارت کی وزارتِ خارجہ نے جلد طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا عندیہ دے دیا، کرن یادیو کابل میں بھارتی سفیر مقرر

دونوں ممالک سب سے پہلے اپنے سفارت خانے دوبارہ کھولیں گے، جس کے فوراً بعد بھارت طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کرے گا۔ تاہم اعلان کی حتمی تاریخ ابھی تک سامنے نہیں آئی۔
دونوں ممالک سب سے پہلے اپنے سفارت خانے دوبارہ کھولیں گے، جس کے فوراً بعد بھارت طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کرے گا۔ تاہم اعلان کی حتمی تاریخ ابھی تک سامنے نہیں آئی۔

بھارت نے کابل میں اپنے نمائندے کو سفیر کا درجہ دیتے ہوئے طالبان حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات میں پہلا عملی قدم اٹھالیا ہے

October 23, 2025

بھارت کی وزارتِ خارجہ نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا عندیہ دے دیا، جسے خطے میں ایک اہم سفارتی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق دونوں ممالک نے پہلے مرحلے میں اپنے اپنے سفارت خانے کھولنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس اقدام کے بعد جلد ہی بھارت طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا اعلان کرے گا۔

دوسری جانب بھارت نے کابل میں سفارت خانے کی بحالی کے بعد ٹیکنیکل مشن کے سربراہ کرن یادیو کو افغانستان میں بھارت کا سفیر مقرر کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے حال ہی میں بھارت کا دورہ کیا تھا، جہاں دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات کی بحالی، تجارتی امکانات اور علاقائی سلامتی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ جسے عالمی ماہرین نے کامیاب دورہ قرار دیا تھا۔

گزشتہ ہفتوں کے دوران بڑی تیزی سے افغان بھارت تعلقات میں بہتری دیکھنے کو آئی ہے۔ اسی سلسلے میں بھارت نے کابل میں اپنے نمائندے کو سفیر کا درجہ دیتے ہوئے طالبان حکومت کے ساتھ سفارتی تعلقات کے لیے پہلا عملی قدم اٹھالیا ہے۔

سفارتی ماہرین کے مطابق اگر بھارت نے افغان حکومت کو تسلیم کر لیا تو وہ جنوبی ایشیا کا پہلا بڑا ملک ہوگا جو کابل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات استوار کرے گا جس سے خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

دیکھیں: بھارت افغان تعلقات میں اہم پیش رفت؛ بھارت نے کابل میں تکنیکی مشن کو سفارتخانے کا درجہ دے دیا

متعلقہ مضامین

امریکہ اور ایران کے مابین جوہری مذاکرات میں بڑی پیش رفت؛ ایران نے اپنا افزودہ یورینیم پاکستان منتقل کرنے کی تجویز دے دی، اسلام آباد تہران کے جوہری مواد کے لیے ممکنہ ‘تھرڈ کنٹری ہوسٹ’ بننے کے لیے تیار۔

April 19, 2026

اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں؛ اعلیٰ حکومتی ذرائع نے پیر کو مذاکرات کے انعقاد کی تردید کر دی، شیڈول تاحال غیر واضح۔

April 18, 2026

کالعدم ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے؛ کرک سے تعلق رکھنے والے اہم کمانڈر کلیم اللہ عرف سیف العمر کو بدمزگی کے بعد اپنے ہی ساتھیوں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا

April 18, 2026

بنوں میں انڈس ہائی وے پر سکیورٹی فورسز کے قافلے پر دھماکہ؛ ایک اہلکار شہید اور تین زخمی، فورسز کا کانوائے پشاور سے بنوں آ رہا تھا، علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع۔

April 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *