امارتِ اسلامیہ کی وزارتِ انصاف نے واضح کیا کہ ملک کی قانون سازی شریعت کے عین مطابق ہے۔ ہر شق اور دفعہ معتبر افغان علماء کے وفود نے منظور کی ہے

January 28, 2026

قازقستان اور ازبکستان کے صدور آئندہ ہفتے اسلام آباد کا دورہ کریں گے، جس میں ریلوے، توانائی، انفراسٹرکچر اور باہمی تجارت کے حوالے سے اہم معاہدے متوقع ہیں

January 28, 2026

دوسری جانب بلوچستان کے ضلع پنجگور میں سیکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران بھارت کی حمایت یافتہ تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ آپریشن 25 جنوری کو بھارتی پراکسی تنظیم فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا۔

January 28, 2026

محض بیانات اور گراف عوام کو مطمئن نہیں کر سکتے۔ عوام ریلیف کو اعداد و شمار میں نہیں بلکہ بازار کی قیمتوں، بجلی کے بل اور کچن کے اخراجات میں محسوس کرتے ہیں۔ جب تک حکومتی دعوے عوامی تجربے سے ہم آہنگ نہیں ہوں گے، تب تک مہنگائی میں کمی کے دعوے محض کاغذی کامیابیاں ہی سمجھے جاتے رہیں گے۔

January 28, 2026

سوشل میڈیا پر پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے دعوے جھوٹے اور بے بنیاد ثابت ہوئے، نہ غزہ میں فوج کی موجودگی کی تصدیق اور نہ ہی افغان سرحد پر جھڑپ کا کوئی ثبوت

January 28, 2026

افغانستان میں طالبان کے نئے فوجداری ضابطے پر بین الاقوامی سفارتی و قونصلر کونسل کی تشویش، صنفی امتیاز اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات سامنے آ گئے

January 28, 2026

افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال اب ناقابل برداشت ہوگا؛ پاکستان کا دوٹوک مؤقف

ایک سینئر پاکستانی اہلکار کے مطابق، “بات صرف ریاستوں کے درمیان ہوگی۔ افغان حکومت اگر واقعی سنجیدہ ہے تو وہ عملی اور قابلِ تصدیق کارروائی کرے۔ ہم کسی قیمت پر اپنی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔”

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کا ٹی ٹی پی کو مذاکرات میں شامل کرنے کا اصرار دراصل اس گروہ کو بین الاقوامی سطح پر سیاسی حیثیت دلانے کی کوشش ہے، جسے پاکستان کسی صورت تسلیم نہیں کرے گا۔

October 27, 2025

اسلام آباد اور کابل کے درمیان استنبول میں جاری مذاکرات ایک نازک موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔ پاکستان نے افغان وفد کو دو ٹوک پیغام دیا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی ہی کسی بھی تعاون کی بنیاد ہوگی، اور کسی بھی کالعدم گروہ کے ساتھ مذاکرات قبول نہیں کیے جائیں گے۔

استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں افغان وفد کی قیادت حاجی نجیب حقانی نے کی، جو افغان انٹیلی جنس (جی ڈی آئی) کے سینئر رکن اور سراج الدین حقانی کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ وفد میں سہیل شاہین، انس حقانی اور افغان وزارتِ خارجہ و دفاع کے نمائندے بھی شامل تھے۔ کندهاری قیادت نے اس بار نسبتاً مختصر وفد تشکیل دیا، جس میں جی ڈی آئی کے سربراہ عبدالحَق وسیق شامل نہیں تھے۔

ذرائع کے مطابق، افغان فریق نے تجویز دی کہ ٹی ٹی پی نمائندوں کو مذاکرات میں شامل کیا جائے تاکہ “مسائل کے حل میں مدد مل سکے۔” تاہم پاکستانی وفد نے اس تجویز کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کسی بھی دہشت گرد گروہ سے براہِ راست بات نہیں کرے گا۔

ایک سینئر پاکستانی اہلکار کے مطابق، “بات صرف ریاستوں کے درمیان ہوگی۔ افغان حکومت اگر واقعی سنجیدہ ہے تو وہ عملی اور قابلِ تصدیق کارروائی کرے۔ ہم کسی قیمت پر اپنی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔”

ذرائع کے مطابق، پہلے اجلاس کے بعد انس حقانی نے کابل سے رابطہ کر کے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد طالبان وفد نے ایک اور نشست کی درخواست کی۔ یہ مذاکرات قطر اور ترکیہ کی مشترکہ میزبانی میں جاری ہیں اور مبصرین کے مطابق یہ کابل کی سنجیدگی کا اہم امتحان ہے۔

دوسری جانب، پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے اسی دوران نئی سرحد پار دراندازی کی کوششوں کی اطلاع دی ہے۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، 24 اور 25 اکتوبر کی درمیانی شب سیکیورٹی فورسز نے کرم اور شمالی وزیرستان کے علاقوں میں افغان سرزمین سے داخل ہونے والے دو بڑے دہشت گرد گروہوں کو روکا۔ کارروائی میں 25 حملہ آور ہلاک ہوئے، جن میں چار خودکش بمبار بھی شامل تھے۔

آئی ایس پی آر نے بیان میں کہا کہ “یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے جب استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے وفود مذاکرات میں مصروف ہیں، جو افغان حکومت کے عزائم پر سوال اٹھاتے ہیں۔”

یہ مذاکرات دوحہ میں 18 اکتوبر کو ہونے والے پہلے دور کا تسلسل ہیں، جہاں پاکستان نے طالبان حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے خبردار کیا کہ اگر افغانستان نے تعاون نہ کیا تو صورتحال کھلی جنگ میں بدل سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ “ہندوستان افغانستان کے راستے پاکستان کے خلاف پراکسی جنگ لڑ رہا ہے، لیکن پاکستان نے اس کا جواب دینے کی پوری صلاحیت حاصل کر لی ہے۔”

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کا ٹی ٹی پی کو مذاکرات میں شامل کرنے کا اصرار دراصل اس گروہ کو بین الاقوامی سطح پر سیاسی حیثیت دلانے کی کوشش ہے، جسے پاکستان کسی صورت تسلیم نہیں کرے گا۔

پاکستانی مؤقف اب پہلے سے زیادہ سخت اور واضح ہے: افغان حکومت اگر اپنی ساکھ برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خلاف عملی اقدامات کر کے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ایک ذمہ دار ریاست ہے، نہ کہ ایک نیٹ ورک جو پراکسی گروہوں کو تحفظ دیتا ہے۔

استنبول کے مذاکرات اب صرف ایک فیصلہ طے کریں گے — طالبان حکومت بطور ریاست برتاؤ کرے گی یا بطور گروہ۔ یہی فیصلہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کا مستقبل طے کرے گا۔

دیکھیں: پاکستان کے بغیر افغانستان کی بقا ممکن نہیں

متعلقہ مضامین

امارتِ اسلامیہ کی وزارتِ انصاف نے واضح کیا کہ ملک کی قانون سازی شریعت کے عین مطابق ہے۔ ہر شق اور دفعہ معتبر افغان علماء کے وفود نے منظور کی ہے

January 28, 2026

قازقستان اور ازبکستان کے صدور آئندہ ہفتے اسلام آباد کا دورہ کریں گے، جس میں ریلوے، توانائی، انفراسٹرکچر اور باہمی تجارت کے حوالے سے اہم معاہدے متوقع ہیں

January 28, 2026

دوسری جانب بلوچستان کے ضلع پنجگور میں سیکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران بھارت کی حمایت یافتہ تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ آپریشن 25 جنوری کو بھارتی پراکسی تنظیم فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا۔

January 28, 2026

محض بیانات اور گراف عوام کو مطمئن نہیں کر سکتے۔ عوام ریلیف کو اعداد و شمار میں نہیں بلکہ بازار کی قیمتوں، بجلی کے بل اور کچن کے اخراجات میں محسوس کرتے ہیں۔ جب تک حکومتی دعوے عوامی تجربے سے ہم آہنگ نہیں ہوں گے، تب تک مہنگائی میں کمی کے دعوے محض کاغذی کامیابیاں ہی سمجھے جاتے رہیں گے۔

January 28, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *