ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں بگرام ایئربیس کے اطراف سیکیورٹی انتظامات میں اضافہ اور بعض تکنیکی سرگرمیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جسے ایئربیس کی ممکنہ بحالی کی تیاریوں سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ تاہم افغان حکام کی جانب سے اس بارے میں خاموشی اختیار کی گئی ہے۔

January 13, 2026

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور انڈونیشیا کے وزیر دفاع نے اعلیٰ سطحی ملاقات میں مشترکہ تربیت، دفاعی ٹیکنالوجی اور صنعت میں تعاون کے نئے مواقع پر بات کی

January 13, 2026

زشتہ ایک ماہ کے دوران افغانستان میں مجموعی طور پر سولہ بڑی مسلح کارروائیاں رپورٹ کی گئی ہیں، جو طالبان حکومت کے سکیورٹی کنٹرول اور ‘مکمل امن’ کے دعووں کو شدید چیلنج کرتی ہیں

January 13, 2026

واضح رہے کہ اپریل 2023 سے سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان جاری خانہ جنگی اپنے تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ اس جنگ کے باعث ملک شدید انسانی بحران کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2 کروڑ 10 لاکھ سے زائد افراد غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ تقریباً ایک کروڑ 36 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی داخلی نقل مکانی کی صورتحال ہے۔

January 13, 2026

ادھر ایران میں انٹرنیٹ بدستور بند ہے۔ عالمی ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کو 100 گھنٹوں سے زائد ہو چکے ہیں، جس کے باعث معلومات کی ترسیل شدید متاثر ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ اقدام احتجاج کو دبانے اور عوامی رابطے محدود کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

January 13, 2026

دستاویزات کے مطابق طالبان اراکین نے کندز، ہلمند، غزنی اور پکتیا میں شہریوں اور سابق حکومتی اہلکاروں کے خلاف غیر قانونی قتل اور اغواء میں حصہ لیا

January 13, 2026

افغانستان – عالمی منشیات کا گڑھ اور خطے کے لیے ایک نیا چیلنج

آج افغانستان دنیا کے تین بڑے منشیات پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اور اگر عالمی برادری نے سخت موقف نہ اپنایا تو یہ ملک جلد ہی مصنوعی منشیات کے لیے بھی وہی کردار ادا کرے گا جو ماضی میں افیون کے لیے کرتا آیا ہے۔
افغانستان - عالمی منشیات کا گڑھ اور خطے کے لیے ایک نیا چیلنج

افغانستان کو عالمی سطح پر منشیات کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ معاونت اور امداد دی گئی، لیکن بدقسمتی سے اس نے کبھی اس ذمہ داری کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

November 7, 2025

دنیا کے سامنے افغانستان ایک بار پھر اسی کردار میں ابھر رہا ہے جو اس کے وجود کو عالمی سطح پر متنازع بناتا آیا ہے یعنی منشیات کی پیداوار، اسمگلنگ اور عالمی منڈی میں افیون و آئسکی ترسیل کا سب سے بڑا مرکز۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسدادِ منشیات و جرائم کی حالیہ رپورٹ نے ایک بار پھر اس کڑوی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے کہ طالبان حکومت کی دعووں کے باوجود افغانستان کی معیشت کا ایک بڑا حصہ اب بھی منشیات کے دھندے سے جڑا ہوا ہے۔

رواں سال کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 10,200 ہیکٹرز پر پوست کی کاشت ہوئی، جبکہ 2024 کے مقابلے میں یہ 20 فیصد کمی ضرور ہے، مگر اس کمی کو مثبت تبدیلی کہنا گمراہ کن ہوگا۔ اس کی بنیادی وجہ قدرتی آفات، خشک سالی، اور فصلوں کی تباہی تھی، نہ کہ طالبان کی نیک نیتی یا ریاستی اصلاحات۔ حقیقت یہ ہے کہ طالبان حکومت نے پوست کی پیداوار پر بظاہر پابندی عائد کی، لیکن عملی طور پر اسمگلنگ کے نیٹ ورک، خفیہ لیبارٹریز، اور مصنوعی منشیات کی تیاری میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ یہ تبدیلی دراصل افغان منشیات کی معیشت کے “ڈیجیٹل دور” میں داخل ہونے کی علامت ہے جہاں اب زمین نہیں بلکہ کیمیکل اہم ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان اس وقت دنیا کی کل افیون پیداوار کا 20.23 فیصد فراہم کر رہا ہے، جب کہ میانمار 46 فیصد کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔ اس کے باوجود افغانستان کو عالمی سطح پر سب سے بڑا “خطرہ” اس لیے قرار دیا جا رہا ہے کہ اس کی سرحدوں کے اندر اب مصنوعی منشیات خصوصا (آئس) کی پیداوار تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یہ وہ منشیات ہے جو نہ صرف سستی اور آسانی سے تیار کی جا سکتی ہے بلکہ چھپانے میں بھی آسان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں آئس کی پیداوار کے لیے بنیادی کیمیکل بھارت سے فراہم کیا جا رہا ہے جو اس پورے خطے میں ایک سنگین سکیورٹی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

یہ صورتحال کسی ایک ملک کا داخلی مسئلہ نہیں بلکہ ایک علاقائی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اگر افغانستان کی یہ پیداوار جاری رہی تو پاکستان، ایران، وسطی ایشیائی ریاستیں اور یہاں تک کہ یورپ بھی منشیات کی اس نئی لہر سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ افغان سرزمین پر قائم غیر قانونی لیبارٹریز اور منشیات مافیا اب بین الاقوامی کارٹلز سے منسلک ہیں، جن کے ذریعے منشیات خلیجی ریاستوں اور افریقہ کے راستے یورپی منڈیوں تک پہنچ رہی ہے۔ طالبان انتظامیہ کی طرف سے اس نیٹ ورک پر آنکھیں بند رکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ کابل حکومت اپنی معیشت کا سہارا منشیات کو بنا چکی ہے۔

مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ افغانستان میں پوست کی پیداوار میں کمی کے باوجود مجموعی افیون اسٹاک اس سطح پر موجود ہے جو کم از کم 2026 تک دنیا کی ضرورت پوری کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ طالبان حکومت نے گزشتہ سالوں کی فصلوں کو ذخیرہ کر رکھا ہے، جسے وہ عالمی منڈی میں وقتاً فوقتاً فروخت کر کے مالی فائدہ حاصل کر سکتی ہے۔ یہ نہ صرف اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک “منشیاتی بم” ہے۔

افغانستان کو عالمی سطح پر منشیات کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ معاونت اور امداد دی گئی، لیکن بدقسمتی سے اس نے کبھی اس ذمہ داری کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ طالبان حکومت نے دنیا کے سامنے “افیون کے خلاف جہاد” کا نعرہ ضرور لگایا، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ جب پوست کے کھیت ختم ہوئے تو لیبارٹریاں بن گئیں؛ جب کھادیں کم ہوئیں تو کیمیکل درآمد ہونے لگے؛ اور جب کسان بے روزگار ہوئے تو وہ اسمگلر بن گئے۔

آج افغانستان دنیا کے تین بڑے منشیات پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اور اگر عالمی برادری نے سخت موقف نہ اپنایا تو یہ ملک جلد ہی مصنوعی منشیات کے لیے بھی وہی کردار ادا کرے گا جو ماضی میں افیون کے لیے کرتا آیا ہے۔ طالبان کو چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین کو عالمی زہرگاہ بنانے کے بجائے اسے امن، تعلیم اور ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔

دنیا کو اب صرف رپورٹیں جاری کرنے سے آگے بڑھنا ہوگا۔ افغانستان کو اقوام متحدہ کے قوانین کے تحت جواب دہ بنانا ہوگا، تاکہ یہ “افیونستان” کی شناخت سے نکل کر واقعی ایک پرامن ریاست بن سکے ورنہ تاریخ ایک بار پھر یہی لکھے گی کہ جب دنیا ترقی کر رہی تھی، افغانستان اپنی زمین سے زہر اگا رہا تھا۔

دیکھیں: افغان انٹیلیجنس کا ٹی ٹی پی جنگجوؤں کو مقامی آبادی میں ضم کرنے کا نیا منصوبہ

متعلقہ مضامین

ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں بگرام ایئربیس کے اطراف سیکیورٹی انتظامات میں اضافہ اور بعض تکنیکی سرگرمیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جسے ایئربیس کی ممکنہ بحالی کی تیاریوں سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ تاہم افغان حکام کی جانب سے اس بارے میں خاموشی اختیار کی گئی ہے۔

January 13, 2026

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور انڈونیشیا کے وزیر دفاع نے اعلیٰ سطحی ملاقات میں مشترکہ تربیت، دفاعی ٹیکنالوجی اور صنعت میں تعاون کے نئے مواقع پر بات کی

January 13, 2026

زشتہ ایک ماہ کے دوران افغانستان میں مجموعی طور پر سولہ بڑی مسلح کارروائیاں رپورٹ کی گئی ہیں، جو طالبان حکومت کے سکیورٹی کنٹرول اور ‘مکمل امن’ کے دعووں کو شدید چیلنج کرتی ہیں

January 13, 2026

واضح رہے کہ اپریل 2023 سے سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان جاری خانہ جنگی اپنے تیسرے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ اس جنگ کے باعث ملک شدید انسانی بحران کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2 کروڑ 10 لاکھ سے زائد افراد غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ تقریباً ایک کروڑ 36 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی داخلی نقل مکانی کی صورتحال ہے۔

January 13, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *