پاکستان کے بجائے ہمیں متبادل ذرائع اور تجارتی راستوں کی طرف توجہ دینی چاہیے، عبدالغنی برادر

ذرائع کے مطابق افغان حکومت اس وقت وسطی ایشیائی ممالک، ایران اور ترکی کے ذریعے نئی تجارتی راہیں کھولنے پر غور کر رہی ہے تاکہ پاکستان پر تجارتی انحصار میں کمی لائی جا سکے۔
پاکستان کے بجائے ہمیں متبادل ذرائع اور تجارتی راستوں کی طرف توجہ دینی چاہیے، عبدالغنی برادر

اگر کسی تاجر کو پاکستان میں کسی مسئلے یا رکاوٹ کا سامنا ہوا تو افغان حکومت نہ اس کی شکایت سنے گی اور نہ ہی اس کا مسئلہ حل کرے گی۔

November 12, 2025

افغانستان کے نائب وزیر اعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر نے افغان صنعت کاروں اور تاجروں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر پاکستان پر انحصار ختم کرتے ہوئے متبادل تجارتی راستے تلاش کریں۔

کابل میں صنعت کاروں اور تاجروں کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران ملا برادر نے واضح کیا کہ جو تاجر آئندہ بھی پاکستان کے راستے برآمدات یا درآمدات جاری رکھیں گے، انہیں مستقبل میں کسی قسم کی مشکلات پیش آنے پر اسلامی امارت کی جانب سے کوئی مدد یا تعاون فراہم نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ “آج کے بعد تمام تاجر پاکستان کے بجائے دیگر ممالک کو تجارت کے لیے متبادل راستے کے طور پر منتخب کریں۔ اگر کسی تاجر کو پاکستان میں کسی مسئلے یا رکاوٹ کا سامنا ہوا تو افغان حکومت نہ اس کی شکایت سنے گی اور نہ ہی اس کا مسئلہ حل کرے گی۔”

ذرائع کے مطابق افغان حکومت اس وقت وسطی ایشیائی ممالک، ایران اور ترکی کے ذریعے نئی تجارتی راہیں کھولنے پر غور کر رہی ہے تاکہ پاکستان پر تجارتی انحصار میں کمی لائی جا سکے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی کابل اور اسلام آباد کے درمیان حالیہ کشیدگی اور سرحدی پابندیوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جس سے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

ہاد رہے کہ افغانستان کی تجارت کا دارومدار 70 فیصد تک پاکستان پر ہے اور بارڈرز کی بندش سے روزانہ اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

دیکھیں: افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کے مذاکرات کے حوالے سے پاکستان پر الزامات: ماہرین کی شدید تنقید

متعلقہ مضامین

پاکستان اور سوڈان نے سکیورٹی، پولیس ٹریننگ اور سائبر کرائم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے اور باضابطہ معاہدہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

November 7, 2026

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ کوششیں خطے میں بحرانوں کی بڑی وجہ ہیں، پاکستان نے مکہ اتحاد کو امن و استحکام کا اقدام قرار دیا ہے۔

November 7, 2026

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا بدر ایم او یو دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور مشترکہ پیداوار میں تعاون بڑھانے کی اہم پیش رفت ہے۔

November 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *