دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان دفاعی اور عسکری سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ چین نے نئے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل ڈی ایف 61 کو اپنی راکٹ فورس میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ شمالی کوریا نے ایک ہفتے کے دوران چوتھا اسلحہ تجربہ کیا ہے۔
دوسری جانب جاپان کی نئی قومی سلامتی حکمت عملی میں ہنگامی صورتحال کے دوران جوہری ہتھیار ملک میں رکھنے کی گنجائش پر غور کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق ڈی ایف 61 بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کو چین کی راکٹ فورس میں شامل کرلیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ میزائل معمول کی فوجی تربیت میں استعمال کیا جارہا ہے، تاہم اس کی رینج، صلاحیت اور دیگر تکنیکی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
چین کی وزارت خارجہ نے امریکی وسط مدتی انتخابات کو امریکہ کا داخلی معاملہ قرار دیا ہے۔ چینی ترجمان گو جیاکون کے مطابق بیجنگ امریکہ کے ساتھ مستحکم اور تعمیری تعلقات کا خواہاں ہے۔
جاپان کی جوہری پالیسی
جاپانی خبر رساں ادارے کیوڈو نے ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ جاپان کی نئی قومی سلامتی حکمت عملی میں ہنگامی صورتحال کے دوران جوہری ہتھیار ملک میں لانے کی اجازت دینے پر غور کیا جاسکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس ممکنہ تبدیلی کے باوجود جاپان کے تین غیر جوہری اصول برقرار رہ سکتے ہیں۔
تاہم جاپانی حکومت کی جانب سے اس مجوزہ تبدیلی کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
شمالی کوریا کے تجربات
شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق ملک نے 4 نومبر کو نئے فضائی دفاعی میزائل نظام کا تجربہ کیا اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹریٹجک کروز میزائلوں کی مشق بھی کی۔
رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران یہ شمالی کوریا کی چوتھی عسکری سرگرمی تھی۔
ان تجربات کے بعد جزیرہ نما کوریا میں دفاعی کشیدگی اور خطے کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھنے کا امکان ہے۔
روس اور یوکرین
روس اور یوکرین کے درمیان بھی ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے خارکیف کے قریب لاجسٹک مراکز، دنیپروپیٹرووسک میں بجلی کے ایک ذیلی مرکز اور بحیرہ اسود میں ایک جہاز کو نشانہ بنایا۔
دوسری جانب یوکرین نے ڈونیٹسک میں روسی ڈرون حملوں اور شہری ہلاکتوں کی اطلاعات دی ہیں۔ روس کے علاقے ریازان کے گورنر نے بھی یوکرینی ڈرون حملے کے بعد آئل ریفائنری میں آگ لگنے کی اطلاع دی۔
امریکہ کی دفاعی تیاری
امریکی محکمہ فضائیہ اور اسپیس فورس نے دفاعی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق نیا منصوبہ پیش کیا ہے۔
اس منصوبے میں 15 عسکری شعبوں میں جدید انٹیلی جنس صلاحیتیں پیدا کرنے پر توجہ دی گئی ہے، جن میں جوہری آپریشنز بھی شامل ہیں۔
امریکی اسپیس فورس کے جنرل شیس نے چین اور روس کے مقابلے میں زمین اور چاند کے درمیان خلائی حدود کے دفاع کو بھی ترجیح قرار دیا ہے۔





