...
حملے کے فورا بعد طالبان کی جانب سے 400 ہلاکتوں کا دعوی اسی بھونڈے انداز سے سامنے آیا جیسے دو ہفتے قبل جلال آباد میں پاکستانی پائلٹ کی گرفتاری کا جعلی بیانیہ بھیلایا گیا تھا ، پہلے ٹویٹ کیا پھر ڈیلیٹ کردیا

March 19, 2026

دفاعی ماہرین نے اقوامِ متحدہ (او سی ایچ اے) کی رپورٹ کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی ادارہ ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر حملوں کو ‘شہری نقصان’ بتا کر حقائق مسخ کر رہا ہے

March 19, 2026

پاکستان کی جانب سے عید کے موقع پر فوجی کاروائیوں میں عارضی تعطل کے باوجود طالبان رہنماء ہیبت اللہ اخوندزادہ نے قندھار میں اشتعال انگیز خطاب کیا ہے، جس میں سرحد پار دہشت گردی کے اصل مسئلے کو نظر انداز کیا گیا ہے

March 19, 2026

ایک صارف کے مطابق اگر کسی سنجیدہ معاملے پر گفتگو صرف ایک طنزیہ جملے تک محدود ہو تو مسئلہ آپریشن میں نہیں بلکہ تجزیہ کرنے والے کی گہرائی میں ہوتا ہے۔

March 19, 2026

اسرائیل اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل کی قیمت 111 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے

March 19, 2026

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے علمائے تشیع سے ملاقات میں قومی اتحاد، آپریشن ’غضب للحق‘ کے اہداف اور سرحد پار دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے سخت مؤقف کا اعادہ کیا ہے

March 19, 2026

طالبان اور بھارت: علاقائی سیاست کا نیا عدم توازن یا وقتی سودے بازی؟

وہ طالبان جو دو دہائیوں تک بھارتی ریاست کو “ہندو سامراج”، “اسلام دشمن قوت” اور افغانستان میں “غیر شرعی اثر” کا ذریعہ قرار دیتے رہے، اب انہی کے دروازے پر تجارت، سرمایہ کاری، انسانی امداد اور سفارتی پہنچ کیلئے درخواستیں لے کر کھڑے ہیں۔
طالبان اور بھارت: علاقائی سیاست کا نیا عدم توازن یا وقتی سودے بازی؟

آنے والے مہینے اس تعلق کی سمت کا فیصلہ کریں گے۔ کوئی بڑا سرحدی بحران، افغانستان میں داخلی بغاوت، یا بھارت کے خلاف کوئی عسکری کارروائی اس عارضی تعلق کو کسی بھی لمحے ختم کر سکتی ہے۔

November 20, 2025

افغانستان میں اگست 2021 میں طالبان کی اقتدار میں واپسی نے پورے خطے کی سفارتی، جغرافیائی اور اسٹریٹیجک حرکیات کو ایک نئی سمت دے دی۔ مگر گزشتہ ایک سال میں بھارت اور طالبان کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی گرمجوشی نے اس تبدیلی کو کہیں زیادہ نمایاں کر دیا ہے۔ وہ طالبان جو دو دہائیوں تک بھارتی ریاست کو “ہندو سامراج”، “اسلام دشمن قوت” اور افغانستان میں “غیر شرعی اثر” کا ذریعہ قرار دیتے رہے، اب انہی کے دروازے پر تجارت، سرمایہ کاری، انسانی امداد اور سفارتی پہنچ کیلئے درخواستیں لے کر کھڑے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ تعلق ایک نئے مستقل علاقائی اتحاد کا آغاز ہے، یا محض وہ وقتی ضرورت ہے جس نے دونوں فریقوں کو ایک دوسرے کی طرف دھکیل دیا ہے؟

گزشتہ بیس برس میں طالبان کے بیانیے میں بھارت کے لیے نفرت اور نظریاتی دشمنی نمایاں رہی۔ طالبان قیادت خصوصاً قندہاری دھڑے نے 1990 کی دہائی اور بعد ازاں امریکی جنگ کے دوران بھارت کو افغانستان کے اندر ایک “پاکستان مخالف پراکسی” کے طور پر پیش کیا۔ بھارت بھی طالبان کو دہشتگردی سے منسلک ایک’غیر ریاستی مسلح گروہ‘ سمجھتا رہا۔ مگر 2021 کے بعد جب امریکا اور مغرب نے افغانستان سے ہاتھ کھینچا اور کابل کا معاشی ڈھانچہ زمیں بوس ہونے لگا تو طالبان کے پاس سفارتی آپشنز محدود ہوتے گئے۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ اور ورلڈ بینک کے منصوبے معطل ہوئے، 9 ارب ڈالر سے زیادہ افغان اثاثے منجمد کیے گئے، جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان کی 97 فیصد آبادی غربت کی لکیر کے قریب پہنچ گئی۔ یہی وہ معاشی تنزلی تھی جس نے طالبان حکومت کو خطے میں متبادل شراکت دار تلاش کرنے پر مجبور کیا۔

پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی اسی دوران شدید دباؤ کا شکار ہو گئے۔ ٹی ٹی پی کی افغانستان سے حملوں کی بڑھتی ہوئی لہر، سرحدی جھڑپیں، 2023–24 میں بارڈر بندشیں، اور افغان مہاجرین کی واپسی کے معاملے نے دونوں ممالک کو سفارتی طور پر فاصلوں پر کھڑا کر دیا۔ پاکستان کی وزارتِ داخلہ کے مطابق 2023 ہی میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں 65 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ پاکستانی فوج کے مطابق حملوں کے 95 فیصد منصوبے افغانستان کی سرزمین سے کیے جا رہے تھے۔ یہ سب عوامل طالبان پر پاکستان سے ہٹ کر متبادل راستے تلاش کرنے کا دباؤ بڑھاتے رہے۔

ایسے میں بھارت نے موقع دیکھا اور اپنی‘پریکٹیکل انگیجمنٹ’پالیسی کو فعال کیا۔ دہلی پہلے ہی 2021 کے بعد افغانستان کو 40 ہزار ٹن گندم، ادویات اور کرونا میں سپورٹ کے ذریعے محدود انسانی امداد فراہم کر رہا تھا۔ مگر اصل تبدیلی تب آئی جب طالبان وزرا خصوصاً وزیر خارجہ امیر خان متقی اور صنعت و تجارت کے وزیر نورالدین عزیزی نے نئی دہلی میں متعدد غیر معمولی ملاقاتیں کیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان بھارت سے تین چیزیں چاہتے ہیں:

  1. براہِ راست تجارتی رسائی،
  2. بینکاری چینلز کی بحالی،
  3. تعمیراتی اور توانائی کے منصوبوں کیلئے سرمایہ کاری۔

یہ سب اس بات کا اعلان ہے کہ طالبان کی “نظریاتی دشمنی” اب معاشی حقیقتوں کے سامنے دب چکی ہے۔

اس کے باوجود، اس تعلق کو مستحکم کہنا قبل از وقت ہو گا۔ ساؤتھ ایشیا ٹائمز نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں بھارت-طالبان روابط کو عارضی توازن قرار دیا ہے۔ ایسی سفارت کاری جس کی بنیاد مجبوریوں پر ہوتی ہے، پائیدار نہیں ہوتی۔ بھارت کی انٹیلیجنس برادری بخوبی جانتی ہے کہ طالبان حکومت کے اندر سخت گیر دھڑے موجود ہیں، جن میں القاعدہ کی مقامی شاخ کے اثرات بھی شامل ہیں۔ بھارت کیلئے یہ خطرہ حقیقی ہے کہ اگر طالبان کسی مرحلے پر کسی دوسرے گروہ کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہے تو بھارت کے خلاف ایک بڑا حملہ اس تمام گرمجوشی کو لمحوں میں مٹی میں ملا سکتا ہے۔

مزید یہ کہ طالبان داخلی طور پر متحد نہیں۔ حقانی نیٹ ورک کے بھارت سے متعلق خیالات اور ہیں، جبکہ جنوبی افغانستان کے روایتی قندہاری دھڑوں کی ترجیحات بالکل مختلف۔ کوئی بھارت کے ساتھ محتاط تعاون کو فائدہ سمجھتا ہے، تو کوئی اسے “نظریاتی انحراف” تصور کرتا ہے۔ یہی داخلی عدم توازن بھارت کو محتاط رکھتا ہے، اور اسی لیے بھارت اب تک طالبان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے سے ہچکچا رہا ہے۔ دہلی جانتا ہے کہ کسی قانونی تسلیم سے پہلے افغانستان میں طاقت کا ڈھانچہ ایک طویل سیاسی عمل سے گزرے گا—جو شاید طالبان کی مکمل اجارہ داری کو محدود کرے۔

طالبان کا رویہ بھی دوہرا پن ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ بات کرتے ہوئے طالبان “امت مسلمہ”، “شریعت”، “اسلامی اخوت” اور “سرحد کے دونوں طرف ایک قوم” جیسے بیانیے استعمال کرتے ہیں۔ مگر بھارت کے ساتھ ملاقاتوں میں یہی بیانیہ خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ نہ کشمیر کا ذکر ہوتا ہے، نہ مسلمانوں کے خلاف تشدد، نہ شہریت ترمیمی قانون، نہ بابری مسجد، نہ بی جے پی کی ہندوتوا پالیسیاں، گویا نظریہ صرف کمزور ممالک پر لاگو ہوتا ہے اور طاقتور کے سامنے مصلحت ہی اصول بن جاتی ہے۔ یہی طرزِ عمل طالبان کے اپنے نظریاتی دعووں کو کمزور کرتا ہے۔

خطے کے لیے اس نئی گرمجوشی کے گہرے اثرات ہیں۔ پاکستان کی قومی سلامتی پالیسیوں میں افغانستان ہمیشہ ایک بنیادی حیثیت رکھتا رہا ہے۔ اگر بھارت افغانستان میں ایک بار پھر اپنے اثر و رسوخ کو بڑھاتا ہے تو یہ پاکستان کے لیے واضح سفارتی چیلنج ہو گا۔ افغانستان کا “ملٹی-ویکٹر فارن پالیسی” کی جانب بڑھنا پاکستان کو یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ تاریخی، مذہبی یا ثقافتی رشتے کسی بھی ملک کو ہمیشہ کے لیے ایک سمت پر مجبور نہیں رکھتے۔

آخرکار، بھارت اور طالبان کا موجودہ تعلق ایک نازک اور غیر مستحکم بنیاد پر قائم ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں مگر دونوں ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے۔ نہ طالبان کو بھارت پر بھروسہ ہے، نہ بھارت طالبان کو ایک قابلِ بھروسہ ریاستی فریق سمجھتا ہے۔ یہ تعلق نظریاتی نہیں، اسٹریٹیجک بھی نہیں؛ یہ صرف ایک ضرورت ہے۔ اور ضروریات وقت کے بدلتے حالات کے ساتھ خود بھی بدل جایا کرتی ہیں۔

آنے والے مہینے اس تعلق کی سمت کا فیصلہ کریں گے۔ کوئی بڑا سرحدی بحران، افغانستان میں داخلی بغاوت، یا بھارت کے خلاف کوئی عسکری کارروائی اس عارضی تعلق کو کسی بھی لمحے ختم کر سکتی ہے۔ فی الحال دونوں فریق ایک کمزور مگر برقرار توازن پر کھڑے ہیں جسے نہ مکمل اعتماد حاصل ہے، نہ پوری دشمنی۔ یہی وہ درمیانی خاکستری علاقہ ہے جس میں آج طالبان اور بھارت کی سفارت کاری سانس لے رہی ہے۔

دیکھیں: طالبان کا بھارت کی جانب رُخ: وقتی فائدہ اور دیرپا نقصانات

متعلقہ مضامین

حملے کے فورا بعد طالبان کی جانب سے 400 ہلاکتوں کا دعوی اسی بھونڈے انداز سے سامنے آیا جیسے دو ہفتے قبل جلال آباد میں پاکستانی پائلٹ کی گرفتاری کا جعلی بیانیہ بھیلایا گیا تھا ، پہلے ٹویٹ کیا پھر ڈیلیٹ کردیا

March 19, 2026

دفاعی ماہرین نے اقوامِ متحدہ (او سی ایچ اے) کی رپورٹ کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی ادارہ ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر حملوں کو ‘شہری نقصان’ بتا کر حقائق مسخ کر رہا ہے

March 19, 2026

پاکستان کی جانب سے عید کے موقع پر فوجی کاروائیوں میں عارضی تعطل کے باوجود طالبان رہنماء ہیبت اللہ اخوندزادہ نے قندھار میں اشتعال انگیز خطاب کیا ہے، جس میں سرحد پار دہشت گردی کے اصل مسئلے کو نظر انداز کیا گیا ہے

March 19, 2026

ایک صارف کے مطابق اگر کسی سنجیدہ معاملے پر گفتگو صرف ایک طنزیہ جملے تک محدود ہو تو مسئلہ آپریشن میں نہیں بلکہ تجزیہ کرنے والے کی گہرائی میں ہوتا ہے۔

March 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.