تہران میں تقریب، چینی سفیر کا ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی اور علاقائی امن کے لیے تعاون جاری رکھنے کا عزم۔

April 17, 2026

ہری پور کے حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں گیس پائپ لائن پھٹنے سے فیکٹری اور قریبی گھروں میں خوفناک آتشزدگی؛ خواتین و بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق، متعدد زخمی۔ تحقیقات کے لیے سات رکنی کمیٹی قائم۔

April 17, 2026

امریکی جریدے ‘واشنگٹن ٹائمز’ نے آپریشن غضب للحق کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف انتہائی درست اور جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

April 17, 2026

سکیورٹی ذرائع کا رائٹرز سے بڑا دعویٰ؛ امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پانے کے قریب، مذاکرات آخری مرحلے میں داخل۔

April 17, 2026

سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار خارجی دہشت گرد عامر سہیل نے افغان طالبان، فتنہ الخوارج اور بھارتی ایجنسی ‘را’ کے درمیان گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا۔

April 17, 2026

لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزیاں؛ جنوبی لبنان کے دیہات پر رات گئے گولہ باری سے کشیدگی برقرار۔

April 17, 2026

پاکستان کو اسمگلنگ کی وجہ سے سالانہ 4.4 کھرب کا نقصان ہو رہا تھا جس کے باعث پاک افغان سرحد بند کی؛ پاکستان

پاکستان نے اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کے پیشِ نظر 11 اکتوبر کو افغان سرحد بند کی، نتیجتاً افغانستان کو 20 کروڑ ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہوا
پاکستان نے اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کے پیشِ نظر 11 اکتوبر کو افغان سرحد بند کی، نتیجتاً افغانستان کو 20 کروڑ ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہوا

حکام کے مطابق صرف وہی راستے بند کیے گئے جہاں سے اسمگلنگ، منشیات اور سرحد پار دہشت گردی کے نیٹ ورک سرگرم تھے

November 25, 2025

پاکستانی حکام نے حالیہ دنوں پاک افغان تجارت سے متعلق خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرحد 11 اکتوبر کو دیگر وجوہات کے ساتھ اس لیے بند کی گئی کہ پاکستان کو اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کے باعث سالانہ 4.4 کھرب روپے سے زائد کے نقصانات کا سامنا تھا۔ سرکاری مؤقف کے مطابق یہ اقدام سیاسی ردِعمل کے طور پر نہیں بلکہ معاشی حکمتِ عملی اور غیر قانونی تجارت کو ختم کرنا ہے جو منشیات، عسکریت پسند اور خوارج کے داخلے کا راستہ بنی ہوئی تھی۔

حکام کے مطابق صرف وہی راستے بند کیے گئے جہاں سے اسمگلنگ، منشیات اور سرحد پار دہشت گردی کے نیٹ ورک سرگرم تھے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مذکورہ اقدام سے معاشی استحکام اور امن و سلامتی کو تقویت ملے گی۔ دیکھا جائے تو دوسری جانب سرحدی بندش نے افغان معیشت کو غیر معمولی نقصان پہنچایا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق افغانستان کو اب تک 20 کروڑ ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے جبکہ طورخم واحد راستہ ہے جہاں سے ایک ماہ میں 45 لاکھ ڈالر کا نقصان سامنے آیا ہے۔ اسی طرح پانچ ہزار سے زائد ٹرک سرحد پر پھنسے ہوئے ہیں اور افغان پھل و سبزیاں ضائع ہورہی ہیں۔

دوسری جانب ترسیلی مدت بھی کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ کراچی کے ذریعے 3 سے 4 روز میں پہنچنے والا سامان اب ایران کے راستے 6 سے 8 روز میں پہنچ رہا ہے جبکہ وسطی ایشیائی راستوں سے ایک ماہ سے زائد کی مدت میں پہنچ رہا ہے۔ اسی طرح ایران کے راستے اخراجات میں 50 سے 60 فیصد اضافہ ہو چکا ہے جو ہر کنٹینر پر تقریباً 2,500 ڈالر کا اضافی بوجھ ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ بحران نے افغانستان کی پاکستان پر 70 سے 80 فیصد تجارتی انحصار کو بے نقاب کر دیا ہے۔ افغانستان کی نصف سے زائد ادویات بھی پاکستان کے راستے گزرتی ہیں جبکہ اسمگلنگ رک جانے کے سبب افغانستان میں دو لاکھ سے زائد افراد غیر قانونی تجارت سے وابستہ ہونے کے باعث روزگار سے محروم ہو چکے ہیں۔

اسکے برعکس مذکورہ اقدام سے پاکستان میں روزمرہ زندگی پرکوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے کیونکہ افغان سامان کی اکثریت غیر ضروری یا پرتعیش اشیاء پر مشتمل تھی۔ حکام کے مطابق پاکستان کی تجارتی سپلائی چینیں، خصوصاً چین کے ساتھ زمینی تجارت اور سی پیک کے راستے معمول کے مطابق چل رہی ہیں۔

اس موقع پر ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان آئندہ ایک دہائی کے اندر اندر مذکورہ اقدام کے مثبت نتائج دیکھے گا جن میں سرحدی امن، سیکیورٹی، معاشی استحکام اور منظم تجارت شامل ہیں۔ ساتھ ہی یہ صورتحال افغانستان کو مجبور کر سکتی ہے کہ وہ اپنے تجارتی راستوں کو ایران اور وسطی ایشیا کی جانب رُخ دے باوجود کم منافع میں۔

دیکھیں: افغانستان میں عدم استحکام یا رجیم چینج کا کوئی ارادہ نہیں، واحد مطالبہ دراندازی روکنا ہے؛ پاکستان

متعلقہ مضامین

تہران میں تقریب، چینی سفیر کا ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی اور علاقائی امن کے لیے تعاون جاری رکھنے کا عزم۔

April 17, 2026

ہری پور کے حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں گیس پائپ لائن پھٹنے سے فیکٹری اور قریبی گھروں میں خوفناک آتشزدگی؛ خواتین و بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق، متعدد زخمی۔ تحقیقات کے لیے سات رکنی کمیٹی قائم۔

April 17, 2026

امریکی جریدے ‘واشنگٹن ٹائمز’ نے آپریشن غضب للحق کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف انتہائی درست اور جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔

April 17, 2026

سکیورٹی ذرائع کا رائٹرز سے بڑا دعویٰ؛ امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پانے کے قریب، مذاکرات آخری مرحلے میں داخل۔

April 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *