افغان پلیٹ فارم المرصاد کی پاکستان مخالف رپورٹ کو قابلِ تصدیق شواہد سے محروم اور افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔

August 10, 2026

پشتونوں کو نوآبادیاتی قوم قرار دینے کا بیانیہ سیاسی تحریف ہے؛ پاکستان ایک آئینی وفاق ہے جہاں تمام اقوام برابر کی شریک ہیں۔

August 10, 2026

افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی عسکری سامان اور ٹی ٹی پی کی خیبر پختونخوا میں پیش قدمی، خطے کے امن اور سکیورٹی صورتِ حال پر گہرے سوالات اٹھاتی ہے۔

August 10, 2026

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے طالبان کے 5 سالہ اقتدار پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے افغانستان کو معلومات کی جیل قرار دے دیا ہے۔

August 10, 2026

آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے اکثر مطالبات منظور کیے جانے کے بعد، مہاجرین کی نشستوں پر تنازع نے احتجاجی تحریک کو تعطل کا شکار کر دیا ہے۔

August 10, 2026

بارہ برس، تین حکومتیں اور ریکارڈ بجٹ کے باوجود خیبر پختونخوا میں 47 لاکھ بچے اسکول سے باہر، صاف پانی کی سہولت محدود اور صحت کارڈ مالی بحران کا شکار ہے۔

August 10, 2026

بھارت کو دلائل کے میدان میں بھی شکست؛ بھارتی وفد آکسفورڈ یونین میں ہونے والے مباحثے سے فرار

قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ آکسفورڈ یونین میں بھارتی طلبہ کی تعداد پاکستانی طلبہ سے کہیں زیادہ ہے، یعنی ووٹنگ کے اعتبار سے بھارتی وفد کو واضح برتری حاصل تھی۔ اس کے باوجود ڈبیٹ میں نہ آنے کا فیصلہ اس بات کا کھلا اعتراف ہے کہ بھارتی مقررین اپنے مؤقف کا دفاع کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔
بھارت کو دلائل کے میدان میں بھی شکست؛ بھارتی وفد آکسفورڈ یونین میں ہونے والے مباحثے سے فرار

پانچ نومبر 2025 کے آکسفورڈ یونین کے سرکاری خط کے مطابق پاکستان کی نمائندگی سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل (ر) زبیر محمود حیات، اور پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل کررہے تھے۔

November 27, 2025

لندن میں ہونے والی ایک اہم اور ماہرانہ سطح کی آکسفورڈ یونین ڈبیٹ میں بھارت کو اس وقت سخت سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب بھارتی وفد کے تینوں مقررین طے شدہ پروگرام کے باوجود اچانک دستبردار ہو گئے، جس کے نتیجے میں پاکستان کو ایک غیر متنازعہ اور واضح فتح حاصل ہوئی۔


ستائیس نومبر 2025 کو ہونے والی اس پارلیمانی طرز کی ڈبیٹ کا موضوع تھا: “یہ ایوان سمجھتا ہے کہ پاکستان کے بارے میں بھارت کی پالیسی ایک عوامی جذبات بھڑکانے والی حکمتِ عملی ہے جسے سیکیورٹی پالیسی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔” اس بحث کی تیاری کئی ماہ سے جاری تھی اور آکسفورڈ یونین نے جون 2025 میں باقاعدہ دعوت نامے جاری کیے تھے۔

پانچ نومبر 2025 کے آکسفورڈ یونین کے سرکاری خط کے مطابق پاکستان کی نمائندگی سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل (ر) زبیر محمود حیات، اور پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل کررہے تھے۔ بھارتی وفد میں سچن پائلٹ، سبرامنیم سوامی اور سابق بھارتی آرمی چیف جنرل ایم۔ این۔ نروانے شامل تھے، جو کہ اس قرارداد کی مخالفت میں دلائل دینے والے تھے۔

پاکستانی مقررین لندن پہنچ چکے تھے اور آج شام آکسفورڈ پہنچنے والے تھے کہ اچانک اطلاع ملی کہ بھارتی وفد نے کسی وضاحت کے بغیر شرکت سے انکار کر دیا ہے، جس سے نہ صرف آکسفورڈ یونین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ بھارتی پوزیشن کی کمزوری بھی عیاں ہو گئی۔ بھارتی وفد کے بھاگنے پر پاکستانی سفارتی حلقوں نے اسے ’’سیاسی بزدلی‘‘ اور ’’ناکامی کے خوف‘‘ کا واضح ثبوت قرار دیا ہے۔

قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ آکسفورڈ یونین میں بھارتی طلبہ کی تعداد پاکستانی طلبہ سے کہیں زیادہ ہے، یعنی ووٹنگ کے اعتبار سے بھارتی وفد کو واضح برتری حاصل تھی۔ اس کے باوجود ڈبیٹ میں نہ آنے کا فیصلہ اس بات کا کھلا اعتراف ہے کہ بھارتی مقررین اپنے مؤقف کا دفاع کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔

یہ واقعہ بھارت کے لیے ایک اور بیانیاتی اور سفارتی جھٹکا ہے، جو مئی 2025 کے بعد سے جاری ناکامیوں کے سلسلے کو مزید طول دیتا ہے۔ چرچل کا قول تھا: “مذاکرات جنگ سے بہتر ہیں” لیکن بھارت نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ نہ مکالمے کے لیے تیار ہے، نہ جوابدہی کے لیے۔


پاکستان اپنے مضبوط سفارتی، قانونی اور اسٹریٹجک مؤقف کے ساتھ ڈبیٹ کے لیے پوری طرح تیار تھا، جبکہ بھارت نے بحث شروع ہونے سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دیے۔

متعلقہ مضامین

افغان پلیٹ فارم المرصاد کی پاکستان مخالف رپورٹ کو قابلِ تصدیق شواہد سے محروم اور افغان سرزمین پر موجود عسکریت پسندوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔

August 10, 2026

پشتونوں کو نوآبادیاتی قوم قرار دینے کا بیانیہ سیاسی تحریف ہے؛ پاکستان ایک آئینی وفاق ہے جہاں تمام اقوام برابر کی شریک ہیں۔

August 10, 2026

افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی عسکری سامان اور ٹی ٹی پی کی خیبر پختونخوا میں پیش قدمی، خطے کے امن اور سکیورٹی صورتِ حال پر گہرے سوالات اٹھاتی ہے۔

August 10, 2026

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے طالبان کے 5 سالہ اقتدار پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے افغانستان کو معلومات کی جیل قرار دے دیا ہے۔

August 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *