ریاض میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے عسکری سربراہان نے اجتماعی سکیورٹی کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

September 26, 2026

امریکی تھنک ٹینک کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو یمن میں براہِ راست فوجی مداخلت کا پابند نہیں کرتا۔

September 25, 2026

عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ اور دھرنے کا چیلنج دے دیا۔ وفاقی وزیر نے تحریک انصاف پر مارچ سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا۔

September 25, 2026

افغان طالبان کے دعوؤں کے برعکس عالمی رپورٹس نے افغانستان میں آئس کی وسیع پیمانے پر پیداوار اور بین الاقوامی اسمگلنگ کی تصدیق کر دی ہے۔

September 25, 2026

جب طالبہ کا خواب صرف اس لیے ادھورا رہ جائے کہ یونیورسٹی 400 کلومیٹر دور ہو۔۔۔ یہی کروڑوں پاکستانی طلبہ کا سچ ہے، اور اس کا حل نئے انتظامی یونٹس ہیں۔

September 25, 2026

تحریک انصاف نے عوامی حمایت کے فقدان اور حکومتی دباؤ کے سبب 27 ستمبر کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک مؤخر کر دیا ہے۔

September 25, 2026

بھارت کو دلائل کے میدان میں بھی شکست؛ بھارتی وفد آکسفورڈ یونین میں ہونے والے مباحثے سے فرار

قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ آکسفورڈ یونین میں بھارتی طلبہ کی تعداد پاکستانی طلبہ سے کہیں زیادہ ہے، یعنی ووٹنگ کے اعتبار سے بھارتی وفد کو واضح برتری حاصل تھی۔ اس کے باوجود ڈبیٹ میں نہ آنے کا فیصلہ اس بات کا کھلا اعتراف ہے کہ بھارتی مقررین اپنے مؤقف کا دفاع کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔
بھارت کو دلائل کے میدان میں بھی شکست؛ بھارتی وفد آکسفورڈ یونین میں ہونے والے مباحثے سے فرار

پانچ نومبر 2025 کے آکسفورڈ یونین کے سرکاری خط کے مطابق پاکستان کی نمائندگی سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل (ر) زبیر محمود حیات، اور پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل کررہے تھے۔

November 27, 2025

لندن میں ہونے والی ایک اہم اور ماہرانہ سطح کی آکسفورڈ یونین ڈبیٹ میں بھارت کو اس وقت سخت سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب بھارتی وفد کے تینوں مقررین طے شدہ پروگرام کے باوجود اچانک دستبردار ہو گئے، جس کے نتیجے میں پاکستان کو ایک غیر متنازعہ اور واضح فتح حاصل ہوئی۔


ستائیس نومبر 2025 کو ہونے والی اس پارلیمانی طرز کی ڈبیٹ کا موضوع تھا: “یہ ایوان سمجھتا ہے کہ پاکستان کے بارے میں بھارت کی پالیسی ایک عوامی جذبات بھڑکانے والی حکمتِ عملی ہے جسے سیکیورٹی پالیسی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔” اس بحث کی تیاری کئی ماہ سے جاری تھی اور آکسفورڈ یونین نے جون 2025 میں باقاعدہ دعوت نامے جاری کیے تھے۔

پانچ نومبر 2025 کے آکسفورڈ یونین کے سرکاری خط کے مطابق پاکستان کی نمائندگی سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل (ر) زبیر محمود حیات، اور پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل کررہے تھے۔ بھارتی وفد میں سچن پائلٹ، سبرامنیم سوامی اور سابق بھارتی آرمی چیف جنرل ایم۔ این۔ نروانے شامل تھے، جو کہ اس قرارداد کی مخالفت میں دلائل دینے والے تھے۔

پاکستانی مقررین لندن پہنچ چکے تھے اور آج شام آکسفورڈ پہنچنے والے تھے کہ اچانک اطلاع ملی کہ بھارتی وفد نے کسی وضاحت کے بغیر شرکت سے انکار کر دیا ہے، جس سے نہ صرف آکسفورڈ یونین کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ بھارتی پوزیشن کی کمزوری بھی عیاں ہو گئی۔ بھارتی وفد کے بھاگنے پر پاکستانی سفارتی حلقوں نے اسے ’’سیاسی بزدلی‘‘ اور ’’ناکامی کے خوف‘‘ کا واضح ثبوت قرار دیا ہے۔

قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ آکسفورڈ یونین میں بھارتی طلبہ کی تعداد پاکستانی طلبہ سے کہیں زیادہ ہے، یعنی ووٹنگ کے اعتبار سے بھارتی وفد کو واضح برتری حاصل تھی۔ اس کے باوجود ڈبیٹ میں نہ آنے کا فیصلہ اس بات کا کھلا اعتراف ہے کہ بھارتی مقررین اپنے مؤقف کا دفاع کرنے کی سکت نہیں رکھتے تھے۔

یہ واقعہ بھارت کے لیے ایک اور بیانیاتی اور سفارتی جھٹکا ہے، جو مئی 2025 کے بعد سے جاری ناکامیوں کے سلسلے کو مزید طول دیتا ہے۔ چرچل کا قول تھا: “مذاکرات جنگ سے بہتر ہیں” لیکن بھارت نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ نہ مکالمے کے لیے تیار ہے، نہ جوابدہی کے لیے۔


پاکستان اپنے مضبوط سفارتی، قانونی اور اسٹریٹجک مؤقف کے ساتھ ڈبیٹ کے لیے پوری طرح تیار تھا، جبکہ بھارت نے بحث شروع ہونے سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دیے۔

متعلقہ مضامین

ریاض میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے عسکری سربراہان نے اجتماعی سکیورٹی کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

September 26, 2026

امریکی تھنک ٹینک کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو یمن میں براہِ راست فوجی مداخلت کا پابند نہیں کرتا۔

September 25, 2026

عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ اور دھرنے کا چیلنج دے دیا۔ وفاقی وزیر نے تحریک انصاف پر مارچ سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا۔

September 25, 2026

افغان طالبان کے دعوؤں کے برعکس عالمی رپورٹس نے افغانستان میں آئس کی وسیع پیمانے پر پیداوار اور بین الاقوامی اسمگلنگ کی تصدیق کر دی ہے۔

September 25, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *