ٹی ٹی پی سربراہ نور ولی محسود کے نئے آڈیو پیغام میں پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے اور ہلاکتوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔

September 19, 2026

کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے کے شہداء کے لواحقین سے تعزیت کے موقع پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے سیاسی بیانات پر عوامی اور سماجی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

September 19, 2026

کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں افغان شہری کی شمولیت نے افغان حکومت کے بیانات اور زمینی حقائق کے مابین موجود تضاد کو بے نقاب کر دیا ہے۔

September 19, 2026

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا تنازع افغان عوام سے نہیں بلکہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی سے ہے۔

September 19, 2026

ازبک صحافیوں نے پاکستان کو وسطی ایشیا کے لیے اہم تجارتی گزرگاہ قرار دیتے ہوئے باہمی تعلقات، فضائی روابط اور معاشی تعاون کے فروغ پر زور دیا ہے۔

September 19, 2026

کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں ملوث ایک خودکش بمبار کی شناخت مطیع اللہ کے نام سے ہوئی ہے جو افغان شہری تھا، جبکہ دوسرے دہشت گرد کی شناخت جاری ہے۔

September 19, 2026

افغانستان کی نصف آبادی کو 2026 میں اقوامِ متحدہ کی امداد درکار ہوگی؛ رپورٹ میں انکشاف

طالبان حکومت کے اندر بھی ایک محدود “اشرافیہ کا حلقہ” ابھر آیا ہے، جو غربت میں ڈوبی عام آبادی کے حالات سے براہِ راست متاثر نہیں ہوتا، جبکہ عوام کی اکثریت بدستور بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔
افغانستان کی نصف آبادی کو 2026 میں اقوامِ متحدہ کی امداد درکار ہوگی؛ رپورٹ میں انکشاف

اوچا کے مطابق آئندہ سال کے لیے مجوزہ امدادی شعبوں میں تعلیم، صحت، ایمرجنسی ریلیف، خوراک و زراعت، غذائیت، تحفظ اور صاف پانی تک رسائی شامل ہیں۔

December 2, 2025

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے ہم آہنگیِ انسانی امور نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سنہ 2026 میں افغانستان میں 2 کروڑ 19 لاکھ افراد انسانی امداد کے محتاج ہوں گے، جو ملک کی کل آبادی کا تقریباً نصف بنتا ہے۔ اوچا کے مطابق اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ افغان معاشرہ ایک بڑے انسانی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگلے سال کے لیے امدادی سرگرمیوں کی تکمیل کے لیے 1.72 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ تاہم موجودہ منصوبے کے تحت امداد صرف 1 کروڑ 75 لاکھ افراد تک پہنچ سکے گی، جس کا مطلب ہے کہ لاکھوں افغان شہری بدستور امداد سے محروم رہ جائیں گے۔

اوچا کے مطابق آئندہ سال کے لیے مجوزہ امدادی شعبوں میں تعلیم، صحت، ایمرجنسی ریلیف، خوراک و زراعت، غذائیت، تحفظ اور صاف پانی تک رسائی شامل ہیں۔

معاشی بحران اور گورننس مسائل میں اضافہ

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغان آبادی کا بقیہ نصف بھی شدید معاشی دباؤ، غربت، بیروزگاری اور کم کاروباری مواقع جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ طالبان حکومت کے اندر بھی ایک محدود “اشرافیہ کا حلقہ” ابھر آیا ہے، جو غربت میں ڈوبی عام آبادی کے حالات سے براہِ راست متاثر نہیں ہوتا، جبکہ عوام کی اکثریت بدستور بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی امداد میں کمی برقرار رہی تو افغان معاشرہ بڑے پیمانے پر سماجی اور معاشی انہدام کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔

دیکھیں: افغان طالبان کے خلاف مزاحمتی گروہوں کی کارروائیاں تیز؛ فاریاب اور قندوز میں متعدد طالبان ہلاک

متعلقہ مضامین

ٹی ٹی پی سربراہ نور ولی محسود کے نئے آڈیو پیغام میں پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے اور ہلاکتوں کا اعتراف کیا گیا ہے۔

September 19, 2026

کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے کے شہداء کے لواحقین سے تعزیت کے موقع پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے سیاسی بیانات پر عوامی اور سماجی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

September 19, 2026

کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں افغان شہری کی شمولیت نے افغان حکومت کے بیانات اور زمینی حقائق کے مابین موجود تضاد کو بے نقاب کر دیا ہے۔

September 19, 2026

ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا تنازع افغان عوام سے نہیں بلکہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گردوں کی پشت پناہی سے ہے۔

September 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *