کوہاٹ پولیس لائنز مسجد پر بزدلانہ حملہ اور اس میں افغان شہری کی براہِ راست شمولیت محض ایک دہشت گردانہ واردات نہیں، بلکہ سرحد پار سے پاکستان کو درپیش خطرات کی ٹھوس حقیقت ہے۔ دوسری جانب کابل حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد عرب میڈیا سمیت بین الاقوامی فورمز پر تسلسل سے یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ افغان سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔
بیانات کی حد تک امن پسندی کا یہ لبادہ زمینی حقائق کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہو رہا ہے۔ ایک طرف میڈیا پر معصومیت کا پرچار ہے تو دوسری طرف پاکستانی شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کے تانے بانے مسلسل افغانستان سے مل رہے ہیں۔
حملے کے بعد مختلف کالعدم عسکری دھڑوں کے متضاد دعوے اور القاعدہ برصغیر کا حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ نیا گٹھ جوڑ اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ افغان سرزمین پر دہشت گرد نیٹ ورکس نہ صرف زندہ ہیں بلکہ منظم بھی ہو رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس بھی مسلسل یہ انتباہ دے رہی ہیں کہ القاعدہ اور دیگر انتہا پسند تنظیمیں افغانستان سے لاجسٹک اور عملی معاونت حاصل کر رہی ہیں۔ ایسے ٹھوس شواہد کی موجودگی میں افغان عبوری حکومت کا مسلسل چشم پوشی اختیار کرنا نہ صرف ان کی نیت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے بلکہ خطے کو ایک بار پھر عدم استحکام کی آگ میں جھونکنے کے مترادف ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ برادر ہمسایہ ملک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی اور سفارتی حل کو ترجیح دی ہے، لیکن قومی سلامتی اور معصوم جانوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ زبانی جمع خرچ اور لفاظی کا وقت اب گزر چکا ہے۔
اگر افغان طالبان واقعی بین الاقوامی برادری کا ذمہ دار حصہ بننا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں اور دراندازی کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔ بصورت دیگر پاکستان بین الاقوامی قوانین اور اپنے دفاع کے فطری حق کے تحت وہ تمام سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوگا جو اس کی سرحدوں اور عوام کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔