لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

کوہاٹ حملہ: ذبیح اللہ مجاہد کے دعوے اور تلخ زمینی حقائق

کوہاٹ پولیس لائنز مسجد حملے میں افغان شہری کی شمولیت نے افغان حکومت کے بیانات اور زمینی حقائق کے مابین موجود تضاد کو بے نقاب کر دیا ہے۔
کوہاٹ حملہ: ذبیح اللہ مجاہد کے دعوے اور تلخ زمینی حقائق

کوہاٹ حملے میں افغان شہری کی شمولیت نے سرحد پار دہشت گردی کے خطرات واضح کر دیے، کابل کے امن دعوے زمینی حقائق کے برعکس ثابت ہو رہے ہیں۔

September 19, 2026

کوہاٹ پولیس لائنز مسجد پر بزدلانہ حملہ اور اس میں افغان شہری کی براہِ راست شمولیت محض ایک دہشت گردانہ واردات نہیں، بلکہ سرحد پار سے پاکستان کو درپیش خطرات کی ٹھوس حقیقت ہے۔ دوسری جانب کابل حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد عرب میڈیا سمیت بین الاقوامی فورمز پر تسلسل سے یہ راگ الاپ رہے ہیں کہ افغان سرزمین کسی بھی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔

بیانات کی حد تک امن پسندی کا یہ لبادہ زمینی حقائق کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہو رہا ہے۔ ایک طرف میڈیا پر معصومیت کا پرچار ہے تو دوسری طرف پاکستانی شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں کے تانے بانے مسلسل افغانستان سے مل رہے ہیں۔

حملے کے بعد مختلف کالعدم عسکری دھڑوں کے متضاد دعوے اور القاعدہ برصغیر کا حافظ گل بہادر گروپ کے ساتھ نیا گٹھ جوڑ اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ افغان سرزمین پر دہشت گرد نیٹ ورکس نہ صرف زندہ ہیں بلکہ منظم بھی ہو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس بھی مسلسل یہ انتباہ دے رہی ہیں کہ القاعدہ اور دیگر انتہا پسند تنظیمیں افغانستان سے لاجسٹک اور عملی معاونت حاصل کر رہی ہیں۔ ایسے ٹھوس شواہد کی موجودگی میں افغان عبوری حکومت کا مسلسل چشم پوشی اختیار کرنا نہ صرف ان کی نیت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے بلکہ خطے کو ایک بار پھر عدم استحکام کی آگ میں جھونکنے کے مترادف ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ برادر ہمسایہ ملک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی اور سفارتی حل کو ترجیح دی ہے، لیکن قومی سلامتی اور معصوم جانوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ زبانی جمع خرچ اور لفاظی کا وقت اب گزر چکا ہے۔

اگر افغان طالبان واقعی بین الاقوامی برادری کا ذمہ دار حصہ بننا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں اور دراندازی کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔ بصورت دیگر پاکستان بین الاقوامی قوانین اور اپنے دفاع کے فطری حق کے تحت وہ تمام سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور ہوگا جو اس کی سرحدوں اور عوام کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *