ٹی ٹی پی سربراہ نور ولی محسود کا ایک نیا آڈیو پیغام سامنے آیا ہے۔ یہ پیغام مبینہ طور پر شدت پسند تنظیم کے کمانڈروں اور جنگجوؤں کے انکرپٹڈ واٹس ایپ گروپس پر گردش کر رہا ہے۔
آڈیو پیغام میں نور ولی محسود نے بلوچستان اور ضلع کرم میں دہشت گرد کارروائیوں پر اپنے جنگجوؤں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اس دوران اس نے باقاعدہ اعتراف کیا کہ ان حملوں میں افغان شہری بھی شامل تھے اور کارروائیوں کے دوران مارے گئے۔
ٹی ٹی پی سربراہ نے پنجاب حکومت کی جانب سے غیر قانونی افغان تارکین وطن اور طلبہ کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس نے پنجاب حکومت کو قانونی کارروائی اور بے دخلی کا سلسلہ فوری روکنے کی دھمکی دی۔
اپنے بیان میں اس نے پاکستانی ریاست کے خلاف روایتی الزامات دہرائے۔ نور ولی نے دعویٰ کیا کہ اس کی تنظیم نام نہاد مظلوموں، قید سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ بظاہر عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب اشارہ ہے۔
ٹی ٹی پی سربراہ نے افغان طالبان کے سپریم لیڈر ہییبت اللہ اخوندزادہ کے حالیہ احکامات پر بھی کھلی تنقید کی۔ اس نے ملا معتصم آغا کی کابل میں گرفتاری کی شدید مذمت کی، جو ملا عمر کے قریبی ساتھی اور ملا یعقوب کے سابق استاد رہ چکے ہیں۔