ٹی ٹی پی پاکستان کا اندرونی مسئلہ؛ پاکستان نے سراج الدین حقانی کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تقریر میں آنے والے جواب کو مسترد کر دیا

پاکستان کا موقف ہے کہ ٹی ٹی پی کی قیادت، تربیت، لاجسٹکس اور آپریشنز کی پناہ گاہیں افغان زمین پر ہیں، جیسا کہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم اور سگار رپورٹس میں بارہا ذکر ہوا ہے۔ پاکستان کے مطابق، حملے سرحد کے پار سے آتے ہیں، اس لیے ذمہ داری کو صرف داخلی معاملے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
سراج الدین حقانی کا فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بیانات پر رد عمل؛ پاکستان نے ٹی ٹی پی کو "پاکستان کا اندرونی مسئلہ'' قرار دینے کے بیان کو مسترد کر دیا

یاد رہے کہ سراج الدین حقانی اس وقت خوست میں ہیں اور 11 دسمبر کو خلیل حقانی کی وفات کا ایک سال مکمل ہوا ہے۔

December 13, 2025

افغانستان کے وزیر داخلہ خلیفه سراج الدین حقانی نے خوست میں مقامی علما اور معززین سے ملاقات میں پاکستان آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے ان بیانات پر ردعمل ظاہر کیا کہ اسلامی امارت نے اپنا موجودہ راستہ منتخب کیا ہے اور ٹی ٹی پی کا ذکر کیا۔ حقانی نے کہا کہ اس طرح کے بیانات پہلے امریکی سابق صدر جارج ڈبلیو بش بھی دیتے رہے ہیں۔

انہوں نے تمام تر ثبوتوں اور عالمی رپورٹس کے برعکس اس بات پر زور دیا کہ افغان لوگ دوسروں کے گھروں کو تباہ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے اور پاکستان حکومت اور ٹی ٹی پی دونوں ایک ہی ملک کا حصہ ہیں اور اپنی مسائل کو اپنے اندر حل کرنا چاہیے۔

یاد رہے کہ سراج الدین حقانی اس وقت خوست میں ہیں اور 11 دسمبر کو خلیل حقانی کی وفات کا ایک سال مکمل ہوا ہے۔

پاکستان نے خلیفه سراج الدین حقانی کے بیانات کو مسترد کیا اور کہا کہ کراس بورڈر دہشت گردی کوئی بیانیہ نہیں بلکہ ایک دستاویزی سکیورٹی حقیقت ہے۔

پاکستان کا موقف ہے کہ ٹی ٹی پی کی قیادت، تربیت، لاجسٹکس اور آپریشنز کی پناہ گاہیں افغان زمین پر ہیں، جیسا کہ اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم اور سگار رپورٹس میں بارہا ذکر ہوا ہے۔ پاکستان کے مطابق، حملے سرحد کے پار سے آتے ہیں، اس لیے ذمہ داری کو صرف داخلی معاملے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

ٹی ٹی پی اور پاکستان کے تنازع کو صرف داخلی مسئلہ قرار دینا طالبان کی دوحہ معاہدے کے بھی خلاف ہے، جس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ افغان زمین کو دیگر ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ بات چیت ممکن ہے، لیکن صرف اس وقت جب عملی اقدامات کیے جائیں جو سرحدی خطرات کو ختم کریں اور الفاظ کو عملی حقیقت کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔ علاقائی استحکام کا دارومدار بیانات پر نہیں بلکہ قابلِ یقین اقدامات پر ہے؛ بغیر اس کے، ایسے بیانات صرف اعتماد کے خلاء کو بڑھاتے ہیں۔

دیکھیں: پاکستان کا بھارتی وزیرِ خارجہ کے بے بنیاد اور اشتعال انگیز بیان پر شدید ردعمل

متعلقہ مضامین

محسن نقوی نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا قبضہ ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے 5 اسٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا۔

November 4, 2026

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

November 4, 2026

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *