افغانستان میں مذہبی و علمی شخصیات، بالخصوص شیعہ کمیونٹی کے علماء کے مسلسل قتل اور تحقیقات میں ناکامی نے طالبان حکومت کے سیکیورٹی دعوؤں کی حقیقت واضح کر دی ہے

May 7, 2026

بلوچستان اپنی ساحلی پٹی، بلند پہاڑوں اور صحراؤں کے باعث سیاحت کے لیے اہم خطہ ہے، جہاں پہلی بار جامع سیاحتی پالیسی اور قانون سازی کے ذریعے اس شعبے کو منظم کیا جا رہا ہے۔

May 7, 2026

بلوچستان میں بی ایل اے اور بی ایل ایف کے درمیان دیرینہ تنازعات شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں غداری کے الزامات، نام نہاد عدالتوں کی سزاؤں اور طبقاتی تضاد نے ان کے داخلی زوال کو نمایاں کر دیا ہے۔

May 7, 2026

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بیجنگ کے دورے کے دوران سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور باہمی امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

May 7, 2026

کابل میں شہری مقامات کو عسکری ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے شواہد نے طالبان حکام کی جانب سے جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی اور تنصیبات کی محفوظ حیثیت کے خاتمے سے متعلق سنگین قانونی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

May 7, 2026

بین الاقوامی انسانی قانون کی روشنی میں طالبان حکام کی جانب سے کابل میں شہری مقامات کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے شواہد سامنے آئے ہیں، جو جنیوا کنونشنز اور روم اسٹیچوٹ کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

May 7, 2026

سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کو 11 سال مکمل

سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کی 11ویں برسی کے موقع پر معصوم شہداء کی بے مثال قربانیوں اور دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا
سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کی 11ویں برسی کے موقع پر معصوم شہداء کی بے قربانیوں اور دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا

اے پی ایس سانحہ کے بعد دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں شدت آئی جن میں قابلِ ذکر ضربِ عضب، سزائے موت کی بحالی اور فوجی عدالتوں کا قیام تھا

December 16, 2025

سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کو آج 11 برس بیت گئے مگر 16 دسمبر 2014 کا وہ صبحِ سیاہ ایک ایسا زخم ہے جو وقت گزرنے کے باوجود تازہ ہے۔ یہ فقط ایک عمارت یا ادارے پر حملہ نہیں تھا بلکہ پاکستان کے مستقبل، علم اور انسانیت پر ایک سوچا سمجھا اور وحشیانہ وار تھا۔ مذکورہ دہشت گردانہ حملے نے 132 معصوم طلبہ، اساتذہ اور اسکول عملے سمیت 147 لوگ جامِ شہادت نوش کرگئے۔ وہ بچے جو کتاب و قلم سنبھالے اسکول پہنچے تھے، سفاکانہ حملے کا نشانہ بن گئے۔

پسِ منظر

سال 2014 میں پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک طویل جنگ میں مصروفی عمل تھا۔ فاٹا میں شدت پسند گروہوں کے خلاف فوجی کاروائیوں کا سلسلہ عروج پر تھا۔ لہذا دہشت گرد گروہ ریاستی عزم اور جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کے لیے کسی آسان اہداف کی جانب متوجہ ہوئے۔ آرمی پبلک اسکول کا حملہ اسی وحشیانہ سوچ کا مظہر تھی جس کا مقصد خوف، وحشت و عدمِ استحکام پیدا کرنا تھا۔ اسی تناظر میں دہشت گروہ نے 16 دسمبر 2014 صبح ساڑھے دس بجے کے قریب آرمی پبلک اسکول کی حدود میں دھاوا بول دیا۔ ہر طرف فائرنگ کی صدا گونجی۔ آڈیٹوریم جہاں قوم کا مستقبل موجود تھے ان حملہ آوروں کے ہدف بنے۔ تحقیقات نے بعد ازاں انکشاف کیا کہ یہ عناصر افغانستان میں تربیتی مراحل سے گزرے ہیں اور ان کا مقصد یرغمال بنانا نہیں بلکہ انسانی جانوں کا ضیاع اور بدامنی کو ہوا دینی تھی تاکہ قوم کے حوصلے پست ہوں اور ریاستِ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف آپریشن سے متلعق اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرے۔

سیکیورٹی فورسز کی بروقت کاروائی

خبر ملتے ہی پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی دستے موقع پر پہنچ گئے۔ اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کے کمانڈوز نے نہایت ہی جرات مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپریشن کا آغاز کیا۔ دہشت گردوں کو ایک ایک کر کے واصلِ جہنم کرتے ہوئے اے پی ایس کے اساتذہ اور بچوں کو محفوظ جگہ منتقل کیا۔ ایس ایس جی کی بروقت کارروائی نے سینکڑوں قیمتی جانیں بچا لیں۔ سیکیورٹی اداروں کے مذکورہ عمل کو پورے ملک میں سراہتے ہوئے ایک بڑے سانحے کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوشش قرار دیا گیا۔

قومی یکجہتی

سانحہ اے پی ایس پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی میں ایک فیصلہ کُن مرحلہ ثابت ہوا۔ اس کے بعد دہشت گردانہ گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی۔ جن میں قابلِ ذکر آپریشن ضرب عضب اور سزائے موت پر عائد پابندیاں اٹھائی گئیں اور 21ویں آئینی ترمیم کے تحت فوجی عدالتیں تشکیل پائیں۔ بعد میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے ملک بھر میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم گیا، جس سے امن و امان میں نمایاں بہتر آئی اور ریاست کی بالادستی بحال ہوئی۔

صدرِ مملکت کا پیغام

اس موقع پر صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ قوم آج اے پی ایس کے ان معصوم بچوں اور اساتذہ کو یاد کر رہی ہے جنہوں نے 16 دسمبر 2014 کے وحشیانہ حملے میں اپنی جانوں کا نذرانہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہداء کی قربانیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے کتنی بھاری قیمت چکائی ہے۔ پوری قوم متاثرہ گھرانوں کے صبر و استقامت کو سلام پیش کرتی ہے۔

وزیراعظم کا پیغام

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس پوری قوم کے لیے ایک بھیانک آزمائش تھا، جس نے ہمیں غم میں ڈبو دیا مگر دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزم کو فولاد بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ معصوم شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہی انہیں حقیقی خراجِ عقیدت ہے۔

شہداء کی یاد میں تقاریب

اس موقع پر پورے ملک میں شہداء کے درجاتِ بلندی کے تقاریب کا اہتمام کیا گی،۔ تعلیمی اداروں میں دہشت گردی کے خلاف آگہی مہم بھی چلائی گئی۔ اور سانحہ آرمی پبلک اسکول آج بھی اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ دہشت گردی محض جانیں نہیں لیتی، بلکہ خوابوں کو بھی خون میں نہلا دیتی ہے۔ لیکن یہ المیہ اس بات کا بھی اعلان ہے کہ پاکستان نے یکجہتی، قربانی اور ناقابلِ شکست عزم کے ذریعے دہشت گردی کے آگے سینہ تان لیا اور یہ جنگ آج بھی ہر محاذ پر جاری ہے۔

دیکھیں: یومِ سقوطِ ڈھاکہ اور حالیہ پاک بنگلہ تعلقات

متعلقہ مضامین

افغانستان میں مذہبی و علمی شخصیات، بالخصوص شیعہ کمیونٹی کے علماء کے مسلسل قتل اور تحقیقات میں ناکامی نے طالبان حکومت کے سیکیورٹی دعوؤں کی حقیقت واضح کر دی ہے

May 7, 2026

بلوچستان اپنی ساحلی پٹی، بلند پہاڑوں اور صحراؤں کے باعث سیاحت کے لیے اہم خطہ ہے، جہاں پہلی بار جامع سیاحتی پالیسی اور قانون سازی کے ذریعے اس شعبے کو منظم کیا جا رہا ہے۔

May 7, 2026

بلوچستان میں بی ایل اے اور بی ایل ایف کے درمیان دیرینہ تنازعات شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں غداری کے الزامات، نام نہاد عدالتوں کی سزاؤں اور طبقاتی تضاد نے ان کے داخلی زوال کو نمایاں کر دیا ہے۔

May 7, 2026

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بیجنگ کے دورے کے دوران سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور باہمی امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

May 7, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *