پاکستان نے سات مسلم ممالک کے ساتھ بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی تاکہ غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد اور فلسطینی عوام کو فوری انسانی امداد فراہم کی جا سکے

January 29, 2026

مرکزی مسلم لیگ کی صوبائی قیادت نے سختی سے تردید کر دی ہے۔ مرکزی مسلم لیگ کے ایک صوبائی رہنما نے ایچ ٹی این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نجیب اللہ ایک سیاسی کارکن اور مقامی سطح کے متحرک رہنما تھے اور ان کا کسی بھی کالعدم تنظیم سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

January 29, 2026

میجر جنرل مدثر سعید نے علماء کرام پر زور دیا کہ دہشت گردی جیسے ناسور کے خاتمے کے لیے وہ صفِ اوّل کا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور مدارس کے طلباء تک اسلام کی درست تعلیمات پہنچانا، مدارس کی رجسٹریشن، مساجد سے مثبت اور ذمہ دارانہ پیغام دینا اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

January 29, 2026

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی سلامتی کو لاحق ہر طرح کے داخلی و خارجی چیلنجز اور جدید جنگی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے فنی صلاحیت، آپریشنل تیاری اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مکمل طور پر تیار ہیں

January 29, 2026

ایچ ٹی این ذرائع کے مطابق روس اور طالبان کے دفاعی حکام نے ماسکو میں ملاقات میں علاقائی سلامتی، فوجی تعاون اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا اور آئندہ مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا

January 29, 2026

پاکستان اور چین کا زرعی شعبے میں تعاون مزید مضبوط، فیصل آباد یونیورسٹی اور چینی یونیورسٹی نے بایو ہیلتھ، اسمارٹ فارمنگ اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے معاہدے کیے

January 29, 2026

سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کو 11 سال مکمل

سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کی 11ویں برسی کے موقع پر معصوم شہداء کی بے مثال قربانیوں اور دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا
سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کی 11ویں برسی کے موقع پر معصوم شہداء کی بے قربانیوں اور دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا

اے پی ایس سانحہ کے بعد دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں شدت آئی جن میں قابلِ ذکر ضربِ عضب، سزائے موت کی بحالی اور فوجی عدالتوں کا قیام تھا

December 16, 2025

سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کو آج 11 برس بیت گئے مگر 16 دسمبر 2014 کا وہ صبحِ سیاہ ایک ایسا زخم ہے جو وقت گزرنے کے باوجود تازہ ہے۔ یہ فقط ایک عمارت یا ادارے پر حملہ نہیں تھا بلکہ پاکستان کے مستقبل، علم اور انسانیت پر ایک سوچا سمجھا اور وحشیانہ وار تھا۔ مذکورہ دہشت گردانہ حملے نے 132 معصوم طلبہ، اساتذہ اور اسکول عملے سمیت 147 لوگ جامِ شہادت نوش کرگئے۔ وہ بچے جو کتاب و قلم سنبھالے اسکول پہنچے تھے، سفاکانہ حملے کا نشانہ بن گئے۔

پسِ منظر

سال 2014 میں پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک طویل جنگ میں مصروفی عمل تھا۔ فاٹا میں شدت پسند گروہوں کے خلاف فوجی کاروائیوں کا سلسلہ عروج پر تھا۔ لہذا دہشت گرد گروہ ریاستی عزم اور جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کے لیے کسی آسان اہداف کی جانب متوجہ ہوئے۔ آرمی پبلک اسکول کا حملہ اسی وحشیانہ سوچ کا مظہر تھی جس کا مقصد خوف، وحشت و عدمِ استحکام پیدا کرنا تھا۔ اسی تناظر میں دہشت گروہ نے 16 دسمبر 2014 صبح ساڑھے دس بجے کے قریب آرمی پبلک اسکول کی حدود میں دھاوا بول دیا۔ ہر طرف فائرنگ کی صدا گونجی۔ آڈیٹوریم جہاں قوم کا مستقبل موجود تھے ان حملہ آوروں کے ہدف بنے۔ تحقیقات نے بعد ازاں انکشاف کیا کہ یہ عناصر افغانستان میں تربیتی مراحل سے گزرے ہیں اور ان کا مقصد یرغمال بنانا نہیں بلکہ انسانی جانوں کا ضیاع اور بدامنی کو ہوا دینی تھی تاکہ قوم کے حوصلے پست ہوں اور ریاستِ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف آپریشن سے متلعق اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرے۔

سیکیورٹی فورسز کی بروقت کاروائی

خبر ملتے ہی پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی دستے موقع پر پہنچ گئے۔ اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کے کمانڈوز نے نہایت ہی جرات مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپریشن کا آغاز کیا۔ دہشت گردوں کو ایک ایک کر کے واصلِ جہنم کرتے ہوئے اے پی ایس کے اساتذہ اور بچوں کو محفوظ جگہ منتقل کیا۔ ایس ایس جی کی بروقت کارروائی نے سینکڑوں قیمتی جانیں بچا لیں۔ سیکیورٹی اداروں کے مذکورہ عمل کو پورے ملک میں سراہتے ہوئے ایک بڑے سانحے کو مزید پھیلنے سے روکنے کی کوشش قرار دیا گیا۔

قومی یکجہتی

سانحہ اے پی ایس پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی میں ایک فیصلہ کُن مرحلہ ثابت ہوا۔ اس کے بعد دہشت گردانہ گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی۔ جن میں قابلِ ذکر آپریشن ضرب عضب اور سزائے موت پر عائد پابندیاں اٹھائی گئیں اور 21ویں آئینی ترمیم کے تحت فوجی عدالتیں تشکیل پائیں۔ بعد میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے ملک بھر میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم گیا، جس سے امن و امان میں نمایاں بہتر آئی اور ریاست کی بالادستی بحال ہوئی۔

صدرِ مملکت کا پیغام

اس موقع پر صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ قوم آج اے پی ایس کے ان معصوم بچوں اور اساتذہ کو یاد کر رہی ہے جنہوں نے 16 دسمبر 2014 کے وحشیانہ حملے میں اپنی جانوں کا نذرانہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شہداء کی قربانیاں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے کتنی بھاری قیمت چکائی ہے۔ پوری قوم متاثرہ گھرانوں کے صبر و استقامت کو سلام پیش کرتی ہے۔

وزیراعظم کا پیغام

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس پوری قوم کے لیے ایک بھیانک آزمائش تھا، جس نے ہمیں غم میں ڈبو دیا مگر دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزم کو فولاد بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ معصوم شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہی انہیں حقیقی خراجِ عقیدت ہے۔

شہداء کی یاد میں تقاریب

اس موقع پر پورے ملک میں شہداء کے درجاتِ بلندی کے تقاریب کا اہتمام کیا گی،۔ تعلیمی اداروں میں دہشت گردی کے خلاف آگہی مہم بھی چلائی گئی۔ اور سانحہ آرمی پبلک اسکول آج بھی اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ دہشت گردی محض جانیں نہیں لیتی، بلکہ خوابوں کو بھی خون میں نہلا دیتی ہے۔ لیکن یہ المیہ اس بات کا بھی اعلان ہے کہ پاکستان نے یکجہتی، قربانی اور ناقابلِ شکست عزم کے ذریعے دہشت گردی کے آگے سینہ تان لیا اور یہ جنگ آج بھی ہر محاذ پر جاری ہے۔

دیکھیں: یومِ سقوطِ ڈھاکہ اور حالیہ پاک بنگلہ تعلقات

متعلقہ مضامین

پاکستان نے سات مسلم ممالک کے ساتھ بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی تاکہ غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد اور فلسطینی عوام کو فوری انسانی امداد فراہم کی جا سکے

January 29, 2026

مرکزی مسلم لیگ کی صوبائی قیادت نے سختی سے تردید کر دی ہے۔ مرکزی مسلم لیگ کے ایک صوبائی رہنما نے ایچ ٹی این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نجیب اللہ ایک سیاسی کارکن اور مقامی سطح کے متحرک رہنما تھے اور ان کا کسی بھی کالعدم تنظیم سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کو غلط رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

January 29, 2026

میجر جنرل مدثر سعید نے علماء کرام پر زور دیا کہ دہشت گردی جیسے ناسور کے خاتمے کے لیے وہ صفِ اوّل کا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور مدارس کے طلباء تک اسلام کی درست تعلیمات پہنچانا، مدارس کی رجسٹریشن، مساجد سے مثبت اور ذمہ دارانہ پیغام دینا اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

January 29, 2026

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج ملکی سلامتی کو لاحق ہر طرح کے داخلی و خارجی چیلنجز اور جدید جنگی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے فنی صلاحیت، آپریشنل تیاری اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مکمل طور پر تیار ہیں

January 29, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *