"> بنگلہ دیش میں اسٹوڈنٹ رہنما عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعد پُر تشدد مظاہرے - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بنگلہ دیش میں اسٹوڈنٹ رہنما عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعد پُر تشدد مظاہرے

عثمان ہادی کے سانحے کے بعد بنگلہ دیش کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے جن میں اخباری دفاتر کو آگ لگائی گئی اور بھارت مخالف نعرے بلند کیے گئے
عثمان ہادی کے سانحے کے بعد بنگلہ دیش کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے جن میں اخباری دفاتر کو آگ لگائی گئی اور بھارت مخالف نعرے بلند کیے گئے

عثمان ہادی کی موت ایسے وقت میں ہوئی جب بنگلہ دیش میں آئندہ دو ماہ میں ہونے والے قومی انتخابات کی تیاریاں عروج پر ہیں

December 19, 2025

بنگلہ دیش کے طلبہ رہنما شریف عثمان ہادی جو طلبہ احتجاج کے روحِ رواں تھے، 18 دسمبر کو سنگاپور میں انتقال کر گئے۔ عثمان ہادی 12 دسمبر کو ڈھاکہ میں ایک قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے تھے۔ زخموں تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئے۔ ڈھاکہ میڈیا کے مطابق انکی کی موت کے بعد بنگلہ دیش کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے جن میں اخباری دفاتر کو آگ لگائی گئی اور بھارت مخالف نعرے بلند کیے گئے۔

واضح رہےکہ شریف عثمان ہادی طلبہ گروپ انقلابی منچہ کے مرکزی رہنما تھے۔ وہ 2024 کے طلبہ احتجاج کے روحِ رواں تھے، جس کے نتیجے میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔ عثمان ہادی سیاسی طور پر بھارت کے ناقدین میں سے تھے، جہاں سابق وزیر اعظم حسینہ واجد پناہ لیے ہوئے ہیں۔ اور آپ فروری 2026 کے قومی انتخابات میں مضبوط میدوار کے طور پر دیکھے جا رہے تھے۔

مشتعل ہحوم نے صحافت سے وابستہ دو عمارتوں کو آگ لگا دی

حملہ اور علاج

بارہ دسمبر کو طلبہ رہنما عثمان ہادی پر ایک قاتلانہ حملہ کیا گیا، جب وہ رکشے میں سفر کر رہے تھے۔ نقاب پوش موٹر سائیکل سواروں نے ان کے سر میں گولی ماری۔ فوری طور پر انہیں ڈھاکہ میڈیکل کالج ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ابتدائی علاج کے دوران ان کا دماغ شدید متاثر ہوا۔

عثمان ہادی کے شدید زخمی ہونے کے باعث 15 دسمبر کو مزید علاج کے لیے سنگاپور جنرل ہسپتال کے نیوروسرجیکل آئی سی یو میں منتقل کیا گیا۔ تمام طبی اقدامات کے باوجود وہ 18 دسمبر کو انتقال کر گئے۔ ان کی موت نے نہ صرف ملک بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی خبروں کی زینت بنائی۔

عوامی ردّعمل

طلبہ رہنما عثمان ہادی کی موت کے بعد ہزاروں مظاہرین سرزمینِ بنگلہ دیش کی سڑکوں پر نکل آئے اور قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے صحافت سے وابستہ پروتھم آلو اور دی ڈیلی اسٹار کے دفاتر میں توڑ پھوڑ کرتے ہوئے آگ لگا دی۔ احتجاج کے دوران اہم شاہراہیں بند کی گئیں، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور بعض علاقوں میں پرتشدد کارروائیاں بھی رپورٹ ہوئیں۔

ڈھاکہ میڈیا کے مطابق مظاہرین نے بھارت کے نائب ہائی کمیشن کے دفتر کے باہر بھی دھرنا دیا، جس کے بعد پولیس نے شیلنگ کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کیا۔ پرتشدد مظاہروں میں ثقافتی مرکز اور سابق وزرا کے گھروں پر بھی حملے کیے گئے، جس کے بعد بعض مقامات پر پولیس اور فوجی فورسز تعینات کی گئیں تاکہ مزید انتشار کو روکا جا سکے۔

عثمان ہادی کی موت کا سُن کر ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے

حکومتی ردعمل

بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ محمد یونس نے عثمان ہادی کی موت کو قوم کے سیاسی اور جمہوری حلقے کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کو خوف یا تشدد سے نہیں روکا جا سکتا۔ حکومت نے جمعہ کی نماز کے بعد ملک بھر میں خصوصی دعاؤں کا اعلان کرتے ہوئے ہفتہ کو نصف روز قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔

ڈھاکہ پولیس نے عثمان ہادی کے قتل کے الزام میں ملوث دو مشتبہ افراد کی تصاویر جاری کیں اور ان کی گرفتاری کے لیے50 لاکھ ٹکا (تقریباً 42 ہزار امریکی ڈالر) انعام کا اعلان کیا۔ محمد یونس نے اس حملے کو انتخابات کے عمل کو متاثر کرنے کی سازش قرار دیا۔

موجود سیاسی صورتحال

عثمان ہادی کی موت ایسے وقت میں ہوئی جب بنگلہ دیش دو ماہ بعد ہونے والے قومی انتخابات کی تیاری کر رہا ہے۔ آئندہ انتخابات میں 300 پارلیمانی نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ خواتین کی فہرست سے مزید 50 ارکان منتخب ہوں گے۔

گزشتہ انتخابات جنوری 2024 میں ہوئے تھے جس میں عوامی لیگ نے مسلسل چوتھی بار کامیابی حاصل کی، تاہم حزب اختلاف نے دھاندلی کے الزامات لگائے۔ بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کی سربراہ اور تین بار سابق وزیر اعظم خالیدہ ضیا اس وقت نگہداشت میں ہیں، جبکہ ان کا بیٹا طارق الرحمن 17 سال بعد 25 دسمبر کو برطانیہ سے وطن واپس لوٹ رہا ہے۔

خطرات اور اثرات

ہادی پر قاتلانہ حملہ انتخابات کے عمل کو متاثر کرنے کی سازش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بھارت مخالف جذبات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں کیونکہ مظاہرین حسینہ کی بھارت میں موجودگی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ملک میں سیاسی عدم استحکام اور تشدد بڑھنے کا خدشہ ہے، خاص طور پر انتخابات کے قریب۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ بنگلہ دیش کے سیاسی منظرنامے کو ہلا کر رکھ سکتا ہے اور آئندہ انتخابات کے نتائج پر گہرے اثرات ڈالنے کا امکان ہے۔

دیکھیں: بھارتی ریاست بہار کے وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے مسلم خاتون کے نقاب کی بے حرمتی، بھارت اور پاکستان میں شدید مذمت

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *