پاکستان تحریکِ انصاف اب آخری حربہ استعمال کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے بیٹوں کو عالمی سطح پر ملکی بدعنوانی کیس کو اجاگر کرنے کے لیے متحرک کیا گیا ہے۔ گولڈسمتھ خاندان سے منسلک ہونے کے ناطے وہ برطانوی میڈیا جیسے گارڈین اور مغربی قانون سازوں تک رسائی حاصل کر کے بیرونی دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، بجائے اس کے کہ عدالتی وقانونی راہ اختیار کریں۔
واضح رہے کہ عمران خان سیاست یا کرکٹ کی وجہ سے نہیں بلکہ بدعنوانی کے مقدمے میں سزا یافتہ ہیں۔ دنیا بھر میں کوئی بھی شخص بشمول مشہور لوگوں کے کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔۔ تاریخ گواہ ہے کہ ماردونا، میسی، او جے سمپسن اور آسکر پیسٹوریئس سب کو انصاف کے کٹہرے کا سامنا کرنا پڑا۔
گزشتہ ایام میں میڈیا پر عمران خان سے متلعق خبر بے بنیاد ہے۔ سابق وزیر اعظم اس وقت ایک خصوصی ملٹی سیل کمپلیکس میں ہیں جس میں ہوا اور ورزش کی سہولیات، ماہر طبی نگہداشت، خوراک، قانونی رسائی اور سیاسی ملاقاتیں شامل ہیں۔
یہ مہم انسانی حقوق کے لیے نہیں بلکہ احتساب سے بچنے کے لیے ہے۔ بیرون ممالک میں موجود تحریک انصاف کے کارکنوں نے عمران خان کے بیٹوں کو متحرک کیا ہے۔ گولڈسمتھ خاندان کے میڈیا اور سیاسی اثر و رسوخ کی حمایت سے پاکستان پر مغربی ممالک اور ہم خیال میڈیا کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے بجائے اسکے کہ عدالت میں مقدمے کا دفاع کیا جائے۔ واضح رہے کہ عمران خان ایک بدعنوانی کے کیس میں سزا یافتہ ہیں، اختلاف یا کھیل کی وجہ سے نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مشہور کھلاڑی یا عالمی شہرت رکھنے والے افراد بھی سزا سے مستثنیٰ نہیں ہوتے۔
حقائق پر توجہ دی جائے تو عمران خان کے بیٹے جو گولڈسمتھ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، تحریک انصاف کی جانب سے ملکی بدعنوانی کیس کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ برطانوی میڈیا کی توجہ اور مغربی قانون سازوں سے ملاقاتیں عدالت میں ناکامی کے بعد کامیابی دلائیں گی۔ عمران خان قانون سے بالاتر نہیں ہیں وہ خصوصی ملٹی سیل کمپلیکس میں ہیں جس میں ہوا کی سہولت، ورزش کی سہولیات، ماہر ڈاکٹرز، مخصوص خوراک، قانونی رسائی اور سیاسی ملاقاتیں شامل ہیں۔ تحریک انصاف کی حکمت عملی وہی ہے جو ماضی میں دیکھی جا چکی ہے کہ جس میں اداروں پر حملے، سازشی دعوے، عدلیہ کی سیاست اور حقائق سے کوسوں دور دعوے ۔
دیکھا جائے تو یہ ایک واضح دباؤ ڈالنے کی مہم ہے۔ تحریک انصاف نے عمران خان کے بیٹوں کو مغربی رائے عامہ ہموار کرنے، ہمدردانہ بیانیہ شائع کرنے اور قانون سازوں کو متوجہ کرنے کے لیے متحرک کیا ہے بجائے اس کے کہ عدالت میں بدعنوانی کے الزامات کا مقابلہ کیا جائے۔ خان اپنی کرکٹ کیریئر یا سیاسی نظریات کی وجہ سے قید نہیں ہیں۔ تاریخ واضح کرتی ہے کہ ماردونا، میسی، او جے سمپسن اور پیسٹوریئس کو بھی سزا دی گئی۔ دعوے کہ وہ ظلم کا شکار ہیں، حقیقت کے منافی ہیں: خان کو خصوصی قید کی سہولیات، ماہر ڈاکٹر، مخصوص خوراک، مطالعہ کے لیے مواد، قانونی اور سیاسی رسائی حاصل ہے۔ یہ انصاف کی سیاست ہے، انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں۔
“موت کے سیل” کا وجود نہیں صرف جعلی شہادت کا تاثر دیا گیا ہے۔ عمران خان کے بیٹے جو گولڈسمتھ خاندان کے اثر و رسوخ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، غیر ملکی تحریک انصاف کی جانب سے ایک سادہ بدعنوانی کیس پر بین الاقوامی دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ شہرت قانون سے بالاتر نہیں ہوتی ہے بین الاقوامی مشہور کھلاڑی بھی جرم کے مرتکب ہونے پر سزا پاتے ہیں۔ خان غیر معمولی قید کی سہولیات حاصل کر رہے ہیں جو عام قیدیوں کو نہیں ملتیں۔ خصوصی ملٹی سیل کمپلیکس، ہوا کی سہولت، ورزش کی سہولیات، ماہر ڈاکٹر، مخصوص خوراک، قانونی اور سیاسی رسائی۔ تحریک انصاف شواہد کے مقابلے کے بجائے عدالتوں اور اداروں کی سیاست جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب یہ مہم غیر ملکی میڈیا اور لابی کے ذریعے چلائی جا رہی ہے۔ انصاف کو بیرونی دباؤ کے ذریعے نہیں بدلا جا سکتا۔
The UK government "urged us not to go Pakistan. And they said if we do go there, we won't have any kind of protection from their side if we get arrested."
— Mehdi Hasan (@mehdirhasan) December 22, 2025
A pretty shocking revelation from @Kasim_Khan_1999, Imran Khan's son.
Watch my full interview: https://t.co/1mkudgeDxa pic.twitter.com/8v6VTtn9ra
اس انٹرویو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عمران خان کے بیٹے یہ کہ رہے ہیں برطانوی حکومت نے ہمیں پاکستان نہ جانے کی ہدایت دی ہے۔ نیز اگر ہم وہاں گئے تو گرفتاری کی صورت میں ہمیں ان کی طرف سے کوئی تحفظ حاصل نہیں ہوگا۔ یہ انکشاف ہے عمران خان کے بیٹے قاسم خان کر رہے ہیں۔
دیکھیں: اقوامِ متحدہ کے اسپیشل ریپورٹر کا عمران خان پر بیان: قانونی حیثیت، شواہد اور اثرات