...
وزیراعظم پاکستان اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ایک گھنٹہ طویل ٹیلیفونک رابطہ؛ اسرائیل کے ایران پر حملوں کی مذمت اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال

March 28, 2026

سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد آمد؛ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر چار ملکی مشاورتی اجلاس میں اہم فیصلے متوقع

March 28, 2026

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 37 ماہ کے توسیعی فنڈ سہولت کے تیسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا، جس کے تحت پاکستان کو 1.2 ارب ڈالرز کی قسط ملے گی

March 28, 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے گفتگو، مغربی ایشیا کی صورتحال اور عالمی امن کے لیے پاکستان کے سفارتی عزم کا اعادہ

March 28, 2026

امریکہ کی جانب سے اشارے تو مل رہے ہیں کہ وہ اس جزیرے پر قبضہ کرنے جا رہا ہے ۔ امریکہ اس وقت پھنسا پڑا ہے ۔ اس کی عزت داؤ پر لگ چکی ہے۔ وہ ایک اندھی طاقت بھی ہے۔ اس کی قیادت بھی ٹرمپ جیسے متلون مزاج انسان کے ہاتھ میں ہے جو انتہائی غلط فیصلہ بالکل درست وقت پر کرنے کی حیران کن صلاحیت رکھتا ہے

March 28, 2026

کوئٹہ کی جانب سے رائلی روسو اور بین میکڈرموٹ نے 25،25 رنز بنائے، مگر ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے

March 27, 2026

افغان طالبان کی حکومت میں خوفزدہ شہری اور بڑھتے ہوئے جرائم

افغان طالبان کی حکومت میں شہری خوفزدہ ہیں اور جرائم بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ چھ ماہ میں 70 سے زائد کاروباری افراد اغوا، قتل، ڈکیتی اور دیگر جرائم کی شکار ہوئے۔ مقامی شہریوں کی گواہی اور خفیہ دستاویزات حقیقی صورتحال اجاگر کرتی ہیں
افغان طالبان کی حکومت میں شہری خوفزدہ ہیں اور جرائم بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ چھ ماہ میں 70 سے زائد کاروباری افراد اغوا، قتل، ڈکیتی اور دیگر جرائم کی شکار ہوئے۔ مقامی شہریوں کی گواہی اور خفیہ دستاویزات حقیقی صورتحال اجاگر کرتی ہیں

کابل، طالبان حکومت، اغوا، جرائم، خوفزدہ شہری، خودکشی، ڈکیتی، افغانستان، انسانی حقوق، مقامی گواہی

December 23, 2025

گزشتہ چھ ماہ کے دوران کابل میں کاروبار سے وابستہ افراد کا رہنا مشکل ہوگیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق کابل کے 70 سے زائد کاروباری افراد گزشتہ چھ ماہ کے دوران اغواء ہو چکے ہیں۔ ان کے اہل خانہ خوف کے مارے خاموش ہیں کیونکہ طالبان حکومت کے خلاف بات کرنا “شریعت کی خلاف ورزی” قرار دیا جاتا ہے۔ اغوا کے بیشتر واقعات طالبان سے منسلک باغی گروہوں کی جانب سے کیے گئے ہیں جو غیر طالبان کاروباریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ خفیہ دستاویزات کے مطابق کابل میں رجسٹرڈ جرائم کی مجموعی تعداد 2,000 تک پہنچ چکی ہے۔

افغانستان میں بڑھتے ہوئے اغواء کیسز

افغانستان کے گرین ٹرینڈ انفارمیشن یونٹ کے مطابق 1404 ہجری شمسی کے پہلے چھ ماہ میں کابل میں 100 قتل، 16 مسلح ڈکیتیاں، 45 خودکشیاں، 16 تشدد کے واقعات، 70 اغوا، 12 دھماکے، 987 چوریاں، 11 جنسی زیادتی کے کیس اور 10 ہینڈ گرینیڈ حملے درج ہوئے۔ ان تمام واقعات کی مجموعی تعداد 1,784 بنتی ہے۔

ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف اعداد و شمار نہیں ہے بلکہ ان کے پیچھے چھپی ہوئی منطق ہے۔ طالبان حکومت نہ صرف امن و امان کی ذمہ داری اٹھاتی ہے بلکہ یہ بھی طے کرتی ہے کہ کون سا عمل جرم ہے اور کون سا نہیں۔ اس طرح یہ اعداد و شمار حقیقت کے عکس کے بجائے بیانیہ سازی کا آلہ بن جاتے ہیں۔

جمہوری دور بمقابلہ طالبان دور

جمہوری دور میں اغوا کے واقعات کی واضح شناخت ہوتی تھی اور متاثرہ خاندان عدالت تک رسائی حاصل کر سکتے تھے۔ آج کل کسی اغوا شدہ کا نام لینا بھی طالبان کے غصے کا سبب بن سکتا ہے، جو اسے “امارت کو بدنام کرنے” کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ نتیجتاً بے شمار اغوا کیس کبھی رجسٹرڈ ہی نہیں ہوتے۔

مقامی افراد کی گواہی

کابل کے مقامی بافراد اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ہم گھر میں تھے کہ اچانک گولیوں کی آواز سنائی دی۔ دس بیس منٹ بعد میں نے اپنے دو چھوٹے بچوں کی لاشیں دیکھیں۔ اسی طرح ایک اور شہری کا کہنا ہے کہ آج کابل کے کارتے چار علاقے میں دن یا رات کو کوئی سیکیورٹی نہیں ہوتی جس بنا پر ڈکیتیوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ طالبان مختلف بہانوں سے لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔ کابل اور پورے افغانستان میں بدامنی کی اصل وجہ خود طالبان ہیں۔

طالبان کی اپنی رپورٹس میں بھی مسلح ڈکیتیاں اور دیگر جرائم درج ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ جرائم کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ آزاد میڈیا پر پابندی اور معاشرے پر کنٹرول کی وجہ سے حقیقی صورت حال عوام کی نظروں سے اوجھل ہے۔

خودکشی اور گھر سے فرار کے واقعات کابل میں بڑھتے نفسیاتی اور سماجی دباؤ کی واضح علامت ہیں، جو سیاسی پابندیوں، سماجی جبر اور معاشی ناامیدی کے باعث جنم لے رہے ہیں۔

دیکھیں: ادویات، سفارت کاری اور عوامی صحت: افغانستان کا نیا مگر متنازع راستہ

متعلقہ مضامین

وزیراعظم پاکستان اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ایک گھنٹہ طویل ٹیلیفونک رابطہ؛ اسرائیل کے ایران پر حملوں کی مذمت اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال

March 28, 2026

سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد آمد؛ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر چار ملکی مشاورتی اجلاس میں اہم فیصلے متوقع

March 28, 2026

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 37 ماہ کے توسیعی فنڈ سہولت کے تیسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا، جس کے تحت پاکستان کو 1.2 ارب ڈالرز کی قسط ملے گی

March 28, 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے گفتگو، مغربی ایشیا کی صورتحال اور عالمی امن کے لیے پاکستان کے سفارتی عزم کا اعادہ

March 28, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.