نریندر مودی کے دورۂ یورپ میں نیدرلینڈز، ناروے اور سویڈن میں اقلیتوں اور انسانی حقوق سے متعلق سخت سوالات کے باعث شدید سفارتی سبکی دیکھنے میں آئی۔

May 19, 2026

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کوئٹہ گیریژن کے دورے میں آپریشنل تیاریوں کو مزید بہتر بنانے اور جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگی پر زور دیا۔

May 19, 2026

اوسلو میں کشمیری اور سکھ ڈائسپورا کے بڑے احتجاج نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور بھارت میں ہندوتوا کے زیرِ سایہ مسلمانوں پر ہونے والے منظم ستم کو عالمی سطح پر ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔

May 19, 2026

مودی کے دورۂ ناروے پر کشمیری و سکھ تنظیموں نے نارویجن پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے بھارت میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید ردعمل دیا۔

May 19, 2026

شمالی وزیرستان کے شیوا میں آپریشن کے دوران 18 دہشت گرد ہلاک، سہولت کاروں کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی۔

May 19, 2026

خیبر پختونخوا کے عوام فتنہ الخوارج کے خلاف میدان میں آ گئے، مختلف اضلاع میں وال چاکنگ کے ذریعے نور ولی کو اسلام اور علماء کا قاتل قرار دیا گیا۔

May 19, 2026

افغان طالبان کی حکومت میں خوفزدہ شہری اور بڑھتے ہوئے جرائم

افغان طالبان کی حکومت میں شہری خوفزدہ ہیں اور جرائم بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ چھ ماہ میں 70 سے زائد کاروباری افراد اغوا، قتل، ڈکیتی اور دیگر جرائم کی شکار ہوئے۔ مقامی شہریوں کی گواہی اور خفیہ دستاویزات حقیقی صورتحال اجاگر کرتی ہیں
افغان طالبان کی حکومت میں شہری خوفزدہ ہیں اور جرائم بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ چھ ماہ میں 70 سے زائد کاروباری افراد اغوا، قتل، ڈکیتی اور دیگر جرائم کی شکار ہوئے۔ مقامی شہریوں کی گواہی اور خفیہ دستاویزات حقیقی صورتحال اجاگر کرتی ہیں

کابل، طالبان حکومت، اغوا، جرائم، خوفزدہ شہری، خودکشی، ڈکیتی، افغانستان، انسانی حقوق، مقامی گواہی

December 23, 2025

گزشتہ چھ ماہ کے دوران کابل میں کاروبار سے وابستہ افراد کا رہنا مشکل ہوگیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق کابل کے 70 سے زائد کاروباری افراد گزشتہ چھ ماہ کے دوران اغواء ہو چکے ہیں۔ ان کے اہل خانہ خوف کے مارے خاموش ہیں کیونکہ طالبان حکومت کے خلاف بات کرنا “شریعت کی خلاف ورزی” قرار دیا جاتا ہے۔ اغوا کے بیشتر واقعات طالبان سے منسلک باغی گروہوں کی جانب سے کیے گئے ہیں جو غیر طالبان کاروباریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ خفیہ دستاویزات کے مطابق کابل میں رجسٹرڈ جرائم کی مجموعی تعداد 2,000 تک پہنچ چکی ہے۔

افغانستان میں بڑھتے ہوئے اغواء کیسز

افغانستان کے گرین ٹرینڈ انفارمیشن یونٹ کے مطابق 1404 ہجری شمسی کے پہلے چھ ماہ میں کابل میں 100 قتل، 16 مسلح ڈکیتیاں، 45 خودکشیاں، 16 تشدد کے واقعات، 70 اغوا، 12 دھماکے، 987 چوریاں، 11 جنسی زیادتی کے کیس اور 10 ہینڈ گرینیڈ حملے درج ہوئے۔ ان تمام واقعات کی مجموعی تعداد 1,784 بنتی ہے۔

ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف اعداد و شمار نہیں ہے بلکہ ان کے پیچھے چھپی ہوئی منطق ہے۔ طالبان حکومت نہ صرف امن و امان کی ذمہ داری اٹھاتی ہے بلکہ یہ بھی طے کرتی ہے کہ کون سا عمل جرم ہے اور کون سا نہیں۔ اس طرح یہ اعداد و شمار حقیقت کے عکس کے بجائے بیانیہ سازی کا آلہ بن جاتے ہیں۔

جمہوری دور بمقابلہ طالبان دور

جمہوری دور میں اغوا کے واقعات کی واضح شناخت ہوتی تھی اور متاثرہ خاندان عدالت تک رسائی حاصل کر سکتے تھے۔ آج کل کسی اغوا شدہ کا نام لینا بھی طالبان کے غصے کا سبب بن سکتا ہے، جو اسے “امارت کو بدنام کرنے” کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ نتیجتاً بے شمار اغوا کیس کبھی رجسٹرڈ ہی نہیں ہوتے۔

مقامی افراد کی گواہی

کابل کے مقامی بافراد اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ہم گھر میں تھے کہ اچانک گولیوں کی آواز سنائی دی۔ دس بیس منٹ بعد میں نے اپنے دو چھوٹے بچوں کی لاشیں دیکھیں۔ اسی طرح ایک اور شہری کا کہنا ہے کہ آج کابل کے کارتے چار علاقے میں دن یا رات کو کوئی سیکیورٹی نہیں ہوتی جس بنا پر ڈکیتیوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ طالبان مختلف بہانوں سے لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔ کابل اور پورے افغانستان میں بدامنی کی اصل وجہ خود طالبان ہیں۔

طالبان کی اپنی رپورٹس میں بھی مسلح ڈکیتیاں اور دیگر جرائم درج ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ جرائم کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ آزاد میڈیا پر پابندی اور معاشرے پر کنٹرول کی وجہ سے حقیقی صورت حال عوام کی نظروں سے اوجھل ہے۔

خودکشی اور گھر سے فرار کے واقعات کابل میں بڑھتے نفسیاتی اور سماجی دباؤ کی واضح علامت ہیں، جو سیاسی پابندیوں، سماجی جبر اور معاشی ناامیدی کے باعث جنم لے رہے ہیں۔

دیکھیں: ادویات، سفارت کاری اور عوامی صحت: افغانستان کا نیا مگر متنازع راستہ

متعلقہ مضامین

نریندر مودی کے دورۂ یورپ میں نیدرلینڈز، ناروے اور سویڈن میں اقلیتوں اور انسانی حقوق سے متعلق سخت سوالات کے باعث شدید سفارتی سبکی دیکھنے میں آئی۔

May 19, 2026

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کوئٹہ گیریژن کے دورے میں آپریشنل تیاریوں کو مزید بہتر بنانے اور جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگی پر زور دیا۔

May 19, 2026

اوسلو میں کشمیری اور سکھ ڈائسپورا کے بڑے احتجاج نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور بھارت میں ہندوتوا کے زیرِ سایہ مسلمانوں پر ہونے والے منظم ستم کو عالمی سطح پر ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔

May 19, 2026

مودی کے دورۂ ناروے پر کشمیری و سکھ تنظیموں نے نارویجن پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے بھارت میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید ردعمل دیا۔

May 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *