"> افغان طالبان کی حکومت میں خوفزدہ شہری اور بڑھتے ہوئے جرائم - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغان طالبان کی حکومت میں خوفزدہ شہری اور بڑھتے ہوئے جرائم

افغان طالبان کی حکومت میں شہری خوفزدہ ہیں اور جرائم بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ چھ ماہ میں 70 سے زائد کاروباری افراد اغوا، قتل، ڈکیتی اور دیگر جرائم کی شکار ہوئے۔ مقامی شہریوں کی گواہی اور خفیہ دستاویزات حقیقی صورتحال اجاگر کرتی ہیں
افغان طالبان کی حکومت میں شہری خوفزدہ ہیں اور جرائم بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ چھ ماہ میں 70 سے زائد کاروباری افراد اغوا، قتل، ڈکیتی اور دیگر جرائم کی شکار ہوئے۔ مقامی شہریوں کی گواہی اور خفیہ دستاویزات حقیقی صورتحال اجاگر کرتی ہیں

کابل، طالبان حکومت، اغوا، جرائم، خوفزدہ شہری، خودکشی، ڈکیتی، افغانستان، انسانی حقوق، مقامی گواہی

December 23, 2025

گزشتہ چھ ماہ کے دوران کابل میں کاروبار سے وابستہ افراد کا رہنا مشکل ہوگیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق کابل کے 70 سے زائد کاروباری افراد گزشتہ چھ ماہ کے دوران اغواء ہو چکے ہیں۔ ان کے اہل خانہ خوف کے مارے خاموش ہیں کیونکہ طالبان حکومت کے خلاف بات کرنا “شریعت کی خلاف ورزی” قرار دیا جاتا ہے۔ اغوا کے بیشتر واقعات طالبان سے منسلک باغی گروہوں کی جانب سے کیے گئے ہیں جو غیر طالبان کاروباریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ خفیہ دستاویزات کے مطابق کابل میں رجسٹرڈ جرائم کی مجموعی تعداد 2,000 تک پہنچ چکی ہے۔

افغانستان میں بڑھتے ہوئے اغواء کیسز

افغانستان کے گرین ٹرینڈ انفارمیشن یونٹ کے مطابق 1404 ہجری شمسی کے پہلے چھ ماہ میں کابل میں 100 قتل، 16 مسلح ڈکیتیاں، 45 خودکشیاں، 16 تشدد کے واقعات، 70 اغوا، 12 دھماکے، 987 چوریاں، 11 جنسی زیادتی کے کیس اور 10 ہینڈ گرینیڈ حملے درج ہوئے۔ ان تمام واقعات کی مجموعی تعداد 1,784 بنتی ہے۔

ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف اعداد و شمار نہیں ہے بلکہ ان کے پیچھے چھپی ہوئی منطق ہے۔ طالبان حکومت نہ صرف امن و امان کی ذمہ داری اٹھاتی ہے بلکہ یہ بھی طے کرتی ہے کہ کون سا عمل جرم ہے اور کون سا نہیں۔ اس طرح یہ اعداد و شمار حقیقت کے عکس کے بجائے بیانیہ سازی کا آلہ بن جاتے ہیں۔

جمہوری دور بمقابلہ طالبان دور

جمہوری دور میں اغوا کے واقعات کی واضح شناخت ہوتی تھی اور متاثرہ خاندان عدالت تک رسائی حاصل کر سکتے تھے۔ آج کل کسی اغوا شدہ کا نام لینا بھی طالبان کے غصے کا سبب بن سکتا ہے، جو اسے “امارت کو بدنام کرنے” کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ نتیجتاً بے شمار اغوا کیس کبھی رجسٹرڈ ہی نہیں ہوتے۔

مقامی افراد کی گواہی

کابل کے مقامی بافراد اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ہم گھر میں تھے کہ اچانک گولیوں کی آواز سنائی دی۔ دس بیس منٹ بعد میں نے اپنے دو چھوٹے بچوں کی لاشیں دیکھیں۔ اسی طرح ایک اور شہری کا کہنا ہے کہ آج کابل کے کارتے چار علاقے میں دن یا رات کو کوئی سیکیورٹی نہیں ہوتی جس بنا پر ڈکیتیوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ طالبان مختلف بہانوں سے لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔ کابل اور پورے افغانستان میں بدامنی کی اصل وجہ خود طالبان ہیں۔

طالبان کی اپنی رپورٹس میں بھی مسلح ڈکیتیاں اور دیگر جرائم درج ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ جرائم کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ آزاد میڈیا پر پابندی اور معاشرے پر کنٹرول کی وجہ سے حقیقی صورت حال عوام کی نظروں سے اوجھل ہے۔

خودکشی اور گھر سے فرار کے واقعات کابل میں بڑھتے نفسیاتی اور سماجی دباؤ کی واضح علامت ہیں، جو سیاسی پابندیوں، سماجی جبر اور معاشی ناامیدی کے باعث جنم لے رہے ہیں۔

دیکھیں: ادویات، سفارت کاری اور عوامی صحت: افغانستان کا نیا مگر متنازع راستہ

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *