لاہور کی جانب سے حسیب اللہ 33 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، جبکہ اسامہ میر نے 22، فخر زمان نے 20، عبداللہ شفیق نے 17 اور سکندر رضا نے 15 رنز اسکور کیے۔

April 17, 2026

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات کو جتنا جلد ممکن ہو عوام تک منتقل کیا جائے گا، تاکہ مہنگائی کے بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔

April 17, 2026

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ “پاکستان کا شکریہ، اس کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ، دونوں زبردست شخصیات ہیں”،

April 17, 2026

رائٹرز کے مطابق پاکستان کا آئل ٹینکر ’شالامار‘ متحدہ عرب امارات سے تقریباً 8 کروڑ لیٹر خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے اور کراچی کی جانب گامزن ہے، جہاں وہ دو روز میں پہنچنے کی توقع ہے۔

April 17, 2026

دنیا جس قدر معاشی دباؤ اور توانائی کے بحران کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی، اس میں اچانک ٹھہراؤ اور سکون محض اتفاق نہیں بلکہ پاکستان کی انتھک محنت اور سفارت کاری کا نتیجہ ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی، آبنائے ہرمز کا کھلنا اور امریکہ۔ایران کشیدگی میں کمی دراصل ایک بڑے سفارتی عمل کے ثمرات ہیں۔

April 17, 2026

امریکی ناکہ بندی کے باوجود پاکستانی بحری جہاز ‘شالامار’ خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے نکلنے میں کامیاب؛ کراچی کے لیے روانہ۔

April 17, 2026

احمد الاحمد اور اسلاموفوبیا کے جھوٹ کا جنازہ

خلاصہ یہ ہے کہ اسلاموفوبیا ایک ایسی عینک ہے جو دنیا کو خوف کے رنگ میں دیکھتی ہے، مگر احمد الاحمد جیسے لوگ اس عینک کو توڑ دیتے ہیں۔ وہ دنیا کو یاد دلاتے ہیں کہ ایک سچا مسلمان وہ ہے جو نفرت کے مقابل کھڑا ہو، اور ضرورت پڑے تو دوسروں کے لیے خود کو ڈھال بنا لے۔
احمد الاحمد اور اسلاموفوبیا کے جھوٹ کا جنازہ

جیسے ہی حملے کی خبر سامنے آئی، امریکی انٹیلی جنس سے منسلک بعض حلقوں اور بھارتی و اسرائیلی میڈیا نے بغیر کسی تحقیق کے اسے پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی۔

December 28, 2025

اب یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ اسلاموفوبیا اور اس جیسے کئی اسلام مخالف نعرے اپنی اخلاقی موت مر چکے ہیں اور ان کی قبر احمد الاحمد جیسے انسانوں نے اپنے عمل سے کھودی ہے۔

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں بونڈائی ساحل پر ہونے والا دہشت گرد حملہ دنیا کے لیے ایک اور خون آلود خبر بن سکتا تھا، لیکن اسی لمحے ایک عام مسلمان نے غیر معمولی جرأت کا مظاہرہ کر کے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ 43 سالہ احمد الاحمد، جو شام کے شہر ادلب سے تعلق رکھنے والا ایک عام دکاندار اور دو بچوں کا باپ ہے، اس وقت ہیرو بن گیا جب اس نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ایک مسلح حملہ آور کو دبوچ لیا اور اس سے بندوق چھین لی۔

یہ کوئی فلمی منظر نہیں تھا، بلکہ ایک زندہ حقیقت تھی۔ ایک ایسی حقیقت جس میں احمد کو چار سے پانچ گولیاں لگیں، مگر اس کے باوجود اس کی بہادری نے سینکڑوں معصوم جانیں بچا لیں۔ اسی لیے آسٹریلیا کے وزیراعظم نے احمد الاحمد کو “پورے آسٹریلیا کا ہیرو” قرار دیا۔ یہ اعتراف صرف ایک شخص کی جرأت کا نہیں بلکہ اس انسانی کردار کا اعتراف تھا جسے برسوں سے مخصوص بیانیوں کے ذریعے مسخ کیا جا رہا ہے۔

لیکن افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اسلاموفوبیا کے کاروبار سے وابستہ حلقے اس سچ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جیسے ہی حملے کی خبر سامنے آئی، امریکی انٹیلی جنس سے منسلک بعض حلقوں اور بھارتی و اسرائیلی میڈیا نے بغیر کسی تحقیق کے اسے پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں یہ دعویٰ جھوٹ ثابت ہوا، مگر نقصان ہو چکا تھا کیونکہ مقصد حقیقت نہیں بلکہ خوف پیدا کرنا تھا۔

یہاں تک کہ جب احمد الاحمد کی بہادری دنیا کے سامنے آئی، تو اسلام مخالف گروہوں نے ایک نیا جھوٹ گھڑ لیا۔ سوشل میڈیا پر یہ پروپیگنڈا پھیلایا جانے لگا کہ احمد مسلمان نہیں بلکہ عیسائی ہے، گویا ایک مسلمان کا ہیرو بن جانا ان کے بیانیے کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ یہ رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلاموفوبیا محض تعصب نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمتِ عملی ہے، جس کا مقصد مسلمانوں کو ہر حال میں “خطرہ” بنا کر پیش کرنا ہے چاہے وہ دوسروں کی جانیں بچاتے ہوئے خود لہو لہان کیوں نہ ہو جائیں۔

آج دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کو باقاعدہ ایندھن فراہم کیا جا رہا ہے۔ امریکہ میں انتخابی فوائد کے لیے قرآنِ پاک کی بے حرمتی کی جاتی ہے، جبکہ بھارت میں ایک ریاستی عہدے دار کے ہاتھوں ایک مسلمان خاتون کا نقاب زبردستی اتروایا جاتا ہے۔ یہ واقعات محض اتفاق نہیں، بلکہ ایک منظم ذہنی اور تہذیبی یلغار کا حصہ ہیں، جس کا مقصد مسلمانوں کی شناخت، ان کے مقدسات اور ان کے وقار کو نشانہ بنانا ہے۔

تاہم اس نفرت کے مقابل ایک اور حقیقت بھی موجود ہے؛ مزاحمت کی حقیقت۔ جب امریکہ میں قرآنِ پاک کی توہین کی گئی تو یمن کے لاکھوں عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ صعدہ سے لے کر صنعاء یونیورسٹی تک ہونے والے مظاہروں نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ قرآن کی حرمت پر حملہ پوری امتِ مسلمہ پر حملہ ہے، اور اس کے خلاف خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی۔

اسلام کی تعلیم بالکل واضح ہے: ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانے کے برابر ہے۔ احمد الاحمد کا عمل اسی قرآنی اصول کی عملی تصویر ہے۔ اس نے کسی مذہب، نسل یا قومیت کو نہیں دیکھا، اس نے صرف انسان کو بچایا۔ اور یہی وہ حقیقت ہے جو اسلاموفوبیا کے جھوٹے بیانیے کو زمین بوس کر دیتی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اسلاموفوبیا ایک ایسی عینک ہے جو دنیا کو خوف کے رنگ میں دیکھتی ہے، مگر احمد الاحمد جیسے لوگ اس عینک کو توڑ دیتے ہیں۔ وہ دنیا کو یاد دلاتے ہیں کہ ایک سچا مسلمان وہ ہے جو نفرت کے مقابل کھڑا ہو، اور ضرورت پڑے تو دوسروں کے لیے خود کو ڈھال بنا لے۔

دیکھیں: افغانستان اب بھی عالمی دہشت گرد نیٹ ورکس کا اہم مرکز ہے؛ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ

متعلقہ مضامین

لاہور کی جانب سے حسیب اللہ 33 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، جبکہ اسامہ میر نے 22، فخر زمان نے 20، عبداللہ شفیق نے 17 اور سکندر رضا نے 15 رنز اسکور کیے۔

April 17, 2026

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات کو جتنا جلد ممکن ہو عوام تک منتقل کیا جائے گا، تاکہ مہنگائی کے بوجھ میں کمی لائی جا سکے۔

April 17, 2026

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ “پاکستان کا شکریہ، اس کے وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ، دونوں زبردست شخصیات ہیں”،

April 17, 2026

رائٹرز کے مطابق پاکستان کا آئل ٹینکر ’شالامار‘ متحدہ عرب امارات سے تقریباً 8 کروڑ لیٹر خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے اور کراچی کی جانب گامزن ہے، جہاں وہ دو روز میں پہنچنے کی توقع ہے۔

April 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *