بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے طالبان کے پانچ سالہ دورِ اقتدار پر ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں آزادیٔ صحافت کو منظم انداز میں ختم کر کے ملک کو معلومات کی جیل بنا دیا گیا ہے۔
طالبان حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی ستمبر 2021 میں صحافت کے لیے 11 سخت قواعد نافذ کیے۔ بعد ازاں نومبر 2021 میں حکومت پر تنقید کرنے والے تجزیہ کاروں کے انٹرویوز اور ستمبر 2024 میں براہِ راست سیاسی پروگراموں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔
میڈیا سے خواتین کی بے دخلی کے لیے بھی سخت اقدامات کیے گئے۔ نومبر 2021 میں خواتین ٹی وی میزبانوں کے لیے چہرہ ڈھانپنا لازمی قرار دیا گیا، جبکہ مارچ 2025 میں قندھار کی انتظامیہ نے ریڈیو پر خواتین کی آواز نشر کرنے پر بھی پابندی لگا دی۔
بین الاقوامی نشریاتی اداروں اور تصویر کشی پر بھی قدغنیں لگائی گئیں۔ مارچ 2022 میں وائس آف امریکہ اور ریڈیو فری یورپ کی نشریات روکی گئیں، جبکہ جولائی 2024 میں جانداروں کی تصاویر کی اشاعت پر پابندی کا قانون 20 سے زائد صوبوں تک پھیلا دیا گیا۔
طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے جولائی 2022 میں حکمرانوں پر تنقید کو اسلام کے خلاف قرار دیا۔ اپریل 2024 میں 2015 کا پریس قانون منسوخ کر دیا گیا، جس سے صحافیوں کو حاصل قانونی تحفظ ختم ہو گیا۔
جنوری 2026 میں نافذ کردہ نئے ضابطۂ فوجداری کے تحت سنسرشپ کو قانونی سزا میں بدل دیا گیا۔ نئے قانون کی رو سے امارت کی توہین پر 20 کوڑے اور چھ ماہ قید، جبکہ سپریم لیڈر کی توہین پر 39 کوڑے اور ایک سال قید مقرر کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس شدید جبر، سنسرشپ اور دھمکیوں کے باعث سیکڑوں افغان صحافی ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں، جبکہ آزاد صحافت کو مکمل طور پر حکومتی پروپیگنڈا مشینری میں ڈھال دیا گیا ہے۔
دیکھیے: طالبان دور میں خواتین پر ظلم بے نقاب، قتل و تشدد کے 231 واقعات رپورٹ