پشتونوں کو پنجابی قبضے کے تحت نوآبادیاتی قوم کے طور پر پیش کرنے والا بیانیہ ایک سیاسی تحریف ہے۔ یہ طرزِ فکر پاکستان کے آئینی ڈھانچے، آبادیاتی حقائق اور دہائیوں سے جاری دہشت گردی سے پیدا ہونے والے سکیورٹی چیلنجز کو دانستہ طور پر نظرانداز کرتا ہے۔
پاکستان کوئی نسلی سلطنت نہیں بلکہ ایک آزاد، خودمختار اور آئینی وفاق ہے۔ خیبر پختونخوا میں پشتون منتخب اسمبلیوں کے ذریعے حکومت کرتے ہیں اور وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزرا، ججز، جرنیل اور سفارت کار کے طور پر اعلیٰ ترین ریاستی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔
آئین پاکستان کے آرٹیکل 1، 8 تا 28 اور اٹھارویں ترمیم صوبائی خودمختاری اور حقوق کی ضمانت دیتے ہیں۔ اس آئینی اور جمہوری پس منظر میں پنجابی تسلط یا قبضے کا دعویٰ مکمل طور پر بے بنیاد ثابت ہوتا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف سکیورٹی آپریشنز نسلی جبر نہیں بلکہ شہریوں کے تحفظ کے لیے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت قانونی اقدام ہیں۔ ان کارروائیوں کو پنجابی فوجی جبر قرار دینا اس حقیقت کو مسخ کرنا ہے کہ دہشت گردی کا سب سے زیادہ نشانہ خود پشتون آبادی رہی ہے۔
پشتون پاکستان کے محافظ اور اس کی بقا کے ضامن ہیں۔ مسلح افواج، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں میں پشتونوں کی بڑی تعداد شامل ہے، جنہوں نے ملک کے دفاع اور خیبر پختونخوا میں امن کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔
لاپتا افراد کا معاملہ فعال دہشت گرد نیٹ ورکس سے جڑا ایک پیچیدہ سکیورٹی مسئلہ ہے، نہ کہ نسلی تطہیر۔ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالتیں اور انکوائری کمیشن ان مقدمات کی باقاعدہ سماعت اور قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔
دانشورانہ اور تعلیمی اداروں کا احتساب سکیورٹی ضوابط کے تحت ہوتا ہے۔ جامعہ پشاور سمیت دیگر جامعات میں پرامن احتجاج آئینی حق ہے، تاہم تعلیمی اداروں کو سیاسی انتشار یا غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
پاکستان کے دفاعی، عدالتی اور انتظامی ادارے کثیر النسلی ہیں جہاں فیصلے قواعد کے مطابق ہوتے ہیں۔ ریاستی اداروں کو “پنجابی مافیا” قرار دینا قومی اداروں کی ساکھ مجروح کرنے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔
پشتونوں کو محض مظلوم بنا کر پیش کرنے والی سیاست ان کی حقیقی کامیابیوں اور معاشی ترقی کو پسِ پشت ڈالتی ہے۔ یہ رویہ جمہوری عمل کی حوصلہ شکنی کرتا اور اصلاحات کے بجائے محرومی کے بیانیے کو ہوا دیتا ہے۔
پرامن احتجاج آئینی حق ہے، لیکن بغاوت یا پاکستان کو مقتل گاہ قرار دینا اشتعال انگیزی کے زمرے میں آتا ہے۔ ملک کا مستقبل تصادم کے بجائے تعاون، باہمی احترام اور آئینی دائرے میں رہ کر مسائل حل کرنے سے وابستہ ہے۔
دیکھیے: طالبان کے 5 سالہ اقتدار میں سخت قوانین نے آزاد صحافت کا خاتمہ کر دیا