رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے طالبان کے 5 سالہ اقتدار پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے افغانستان کو معلومات کی جیل قرار دے دیا ہے۔

August 10, 2026

آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے اکثر مطالبات منظور کیے جانے کے بعد، مہاجرین کی نشستوں پر تنازع نے احتجاجی تحریک کو تعطل کا شکار کر دیا ہے۔

August 10, 2026

بارہ برس، تین حکومتیں اور ریکارڈ بجٹ کے باوجود خیبر پختونخوا میں 47 لاکھ بچے اسکول سے باہر، صاف پانی کی سہولت محدود اور صحت کارڈ مالی بحران کا شکار ہے۔

August 10, 2026

افغان فریڈم فرنٹ نے نورستان کے ضلع دوآب میں طالبان کی سکیورٹی چوکی پر گوریلا حملے میں 2 اہلکار ہلاک اور 4 زخمی کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

August 10, 2026

افغانستان کے چار صوبوں میں طالبان مخالف گروہوں کی کارروائیوں میں تیزی، طالبان اہلکار اور انٹیلی جنس دفاتر نشانہ بن گئے۔

August 10, 2026

بھارتی فضائیہ کا سخوئی 30 طیارہ لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا۔ واقعے کے بعد رن وے عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔

August 10, 2026

بارہ برس بعد بھی وہی سوال: تبدیلی کہاں ہے؟

بارہ برس، تین حکومتیں اور ریکارڈ بجٹ کے باوجود خیبر پختونخوا میں 47 لاکھ بچے اسکول سے باہر، صاف پانی کی سہولت محدود اور صحت کارڈ مالی بحران کا شکار ہے۔
بارہ برس بعد بھی وہی سوال: تبدیلی کہاں ہے؟

بارہ برس سے خیبر پختونخوا میں تبدیلی کے دعوے، مگر آج بھی 47 لاکھ بچے اسکول سے باہر، صاف پانی کی سہولت محدود، صحت کارڈ مالی بحران کا شکار اور سکیورٹی صورتحال سنگین ہے۔ ریکارڈ بجٹ کے باوجود بنیادی مسائل برقرار ہیں۔

August 10, 2026

پشاور کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال، لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی او پی ڈی۔ صبح کے نو بج رہے ہیں۔ ایک عورت اپنے بیمار بچے کو گود میں لیے قطار میں کھڑی ہے۔ رجسٹریشن کاؤنٹر خالی ہے۔ کوئی عملہ نظر نہیں آتا۔ دیواروں پر گندگی صاف دکھائی دیتی ہے۔

یہ کوئی فرضی منظر نہیں۔ یہ خود صوبائی حکومت کی اپنی انسپکشن رپورٹ میں درج ہے، جب رواں برس صحت سیکرٹری نے اسی اسپتال کا اچانک دورہ کیا۔اور یہی ایک منظر دراصل پوری کہانی سنا دیتا ہے  اُس سفر کی کہانی، جو گزشتہ بارہ برس سے خیبر پختونخوا میں چل رہا ہے۔

بات 2013 کی ہے، جب پاکستان تحریکِ انصاف نے پہلی بار خیبر پختونخوا میں حکومت بنائی۔ اُس وقت ایک نیا نعرہ گونج رہا تھا  شفاف حکومت، جلد انصاف، اور تیز ترقی۔عوام نے اعتماد کیا۔ 2018 میں دوبارہ، اور پھر 2024 میں تیسری بار۔

مگر بارہ برس ایک لمبا عرصہ ہوتا ہے۔ اتنے سالوں میں کوئی بھی حکومت اپنے وعدے پورے کر سکتی ہے، یا کم از کم اُن کی طرف واضح پیش رفت دکھا سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے عام آدمی کی زندگی میں آخر کتنا بدلاؤ آیا؟

اس سال صوبائی حکومت نے 2 ہزار 119 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا  اپنی تاریخ کا سب سے بڑا۔ ترقیاتی کاموں کے لیے 195 ارب روپے رکھے گئے، جو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

مگر ایک دلچسپ بات سامنے آتی ہے۔ جنوری 2026 تک صوبے کے پاس 120 ارب روپے سے زیادہ کی رقم بغیر خرچ ہوئے پڑی تھی۔ اتنی زیادہ کہ حکومت نے یہ رقم اٹھا کر وفاقی خزانے میں سرمایہ کاری کر دی  یعنی اپنے ہی صوبے میں لگانے کے بجائے کہیں اور محفوظ رکھ دی۔

یہاں سوال بنتا ہے  جب صوبے کے پاس اتنا پیسہ بچا ہوا پڑا ہے، تو پھر اسکول، اسپتال اور صاف پانی جیسی بنیادی چیزیں آج بھی ادھوری کیوں ہیں؟

یہ صرف ایک عدد نہیں۔ یہ 47 لاکھ الگ الگ زندگیاں ہیں، 47 لاکھ گھر ہیں، جہاں بچے آج بھی کتاب کے بجائے کھیت میں یا کسی دکان پر کام کرتے ملتے ہیں۔

وائس آف کے پی کی رواں برس آنے والی رپورٹ بتاتی ہے کہ خیبر پختونخوا میں آج بھی 47 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ اُسی صوبے کی بات ہو رہی ہے جہاں حکومت بارہ برس سے دعویٰ کرتی آ رہی ہے کہ تعلیم اُس کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔

صوبے کی کئی سرکاری یونیورسٹیاں مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ اساتذہ کی تنخواہیں اکثر وقت پر نہیں ملتیں۔ اور یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ آئین کے مطابق یونیورسٹیوں کو فنڈ دینا خود صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے، کسی اور کی نہیں۔

قانون سازی کی رفتار بھی سست رہی ہے۔ مئی 2024 سے اب تک صوبائی اسمبلی نے صرف 30 نئے قانون منظور کیے ہیں  اور اُن میں سے بھی اکثر عام آدمی کے روزمرہ مسائل سے زیادہ سیاسی نوعیت کے تھے۔

صحت کارڈ کا نعرہ

صحت کارڈ پلس شاید پی ٹی آئی حکومت کا سب سے مشہور منصوبہ ہے۔ اِس کارڈ کے ذریعے صوبے کے ہر شہری کو مفت علاج کی سہولتینے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، اور اب تک 44 لاکھ افراد اس سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔

مگر اسی رپورٹ میں ایک اور حقیقت بھی سامنے آتی ہے: یہی منصوبہ آج 18 ارب روپے کے قرضے تلے دبا ہوا ہے۔

سوچیں  جو منصوبہ لوگوں کے علاج کی ضمانت دیتا ہے، وہی خود مالی بحران میں پھنس چکا ہے۔ یہ صرف ایک عدد نہیں، بلکہ اُس فرق کی سب سے واضح مثال ہے جو نعروں اور اصل انتظام کے درمیان موجود ہے۔

جب صوبہ خود محفوظ نہیں رہا

شاید سب سے زیادہ پریشان کن بات سکیورٹی کی صورتحال ہے۔ ملک بھر میں دہشت گردی سے ہونے والی اموات میں سے 70 فیصد سے زیادہ اکیلے خیبر پختونخوا میں ہوئیں۔

یہی بگڑتی سکیورٹی، اور پارٹی کے اندر بڑھتے اختلافات، آخرکار اکتوبر 2025 میں وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی برطرفی پر منتج ہوئے۔ اُن کی جگہ سہیل آفریدی کو وزیرِ اعلیٰ بنایا گیا۔

یہ تبدیلی خود اس بات کا اعتراف تھی کہ حالات قابو سے باہر جا چکے تھے۔ مگر یہ اعتراف بھی اُسی بحران سے پیدا ہوا جسے سنبھالنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

پانی، جو آج بھی خواب ہے

پاکستان بیورو آف شماریات کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق، خیبر پختونخوا میں صرف 68 فیصد گھروں کو باقاعدہ صاف پانی ملتا ہے۔

یعنی صوبے کا تقریباً ایک تہائی حصہ، بارہ برس کی حکومت کے بعد بھی، ایک ایسی بنیادی چیز سے محروم ہے جو کسی بھی شہری کا سب سے پہلا حق ہونی چاہیے۔

جبکہ پنجاب اور سندھ جیسے پڑوسی صوبوں نے الیکٹرک بسیں، نئے اسپتال اور بڑے صفائی کے منصوبے شروع کیے ہیں، خیبر پختونخوا بنیادی سہولیات کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے  یہاں تک کہ خود اپنے دارالحکومت پشاور میں بھی۔

ملک چھوڑنے پر مجبور

خیبر پختونخوا میں بے روزگاری ہمیشہ سے ملکی اوسط سے زیادہ رہی ہے، خاص طور پر نوجوانوں میں۔ ایک بین الاقوامی سروے کے مطابق یہاں کے بے روزگار نوجوان آسانی سے شدت پسند تنظیموں کا نشانہ بن جاتے ہیں، کیونکہ اُن کے پاس نہ روزگار ہے، نہ کوئی مستقبل کی امید۔

اور یہی خلا، یہی مایوسی، ہزاروں نوجوانوں کو ایک اور خطرناک راستے کی طرف دھکیل دیتی ہے  وہ راستہ جسے عام زبان میں ڈنکی کہا جاتا ہے۔

خاندان اپنی زمین بیچتے ہیں، اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی ایجنٹوں کے حوالے کرتے ہیں، صرف اس امید پر کہ اُن کا بیٹا یورپ پہنچ کر بہتر زندگی گزارے گا۔ نہ کوئی ضمانت ہوتی ہے، نہ واپسی کا کوئی راستہ۔ کتنے ہی نوجوان اس سفر میں اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں۔ یورپی بارڈر ایجنسی کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق، غیر قانونی طور پر یورپ جانے والوں میں پاکستان اب پانچویں نمبر پر آ چکا ہے۔

یہ صرف معاشی مجبوری نہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوانوں کا اپنی حکومت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کتنا کم ہو چکا ہے۔

حکومت کیا کہتی ہے؟

یہ بات بھی سامنے رکھنی چاہیے کہ حکومت اپنی کارکردگی کا دفاع بھی کرتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ صحت کارڈ پلس نے پوری آبادی کو کوریج دی ہے، غیر ٹیکس آمدنی میں 74 فیصد اضافہ ہوا ہے، اور اعلیٰ تعلیم کے لیے اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں۔ نئے وزیرِ اعلیٰ نے حال ہی میں بڑے اسپتالوں کے اچانک معائنے کا حکم بھی دیا ہے تاکہ حالات بہتر بنائے جا سکیں۔

حکومت یہ بھی کہتی ہے کہ اس صوبے نے تین دہائیوں کی افغان جنگ کے اثرات اور مسلسل دہشت گردی جیسے چیلنجز جھیلے ہیں  ایسے چیلنجز جن کا سامنا ملک کے دوسرے صوبوں کو نہیں کرنا پڑا۔

آخر میں: دعوے اور حقیقت کے درمیان فاصلہ

بارہ برس، تین حکومتیں، اور ایک ریکارڈ بجٹ  یہ سب کچھ خیبر پختونخوا کے پاس آج موجود ہے۔

مگر وہی صوبہ ملک کی 70 فیصد دہشت گردی کی اموات جھیل رہا ہے۔ وہی صوبہ اپنے 47 لاکھ بچوں کو اسکول تک نہیں پہنچا پایا۔ وہی صحت کارڈ، جو علاج کی ضمانت دیتا ہے، خود قرضے میں ڈوبا ہوا ہے۔ اور وہی صوبے کے نوجوان خطرناک اور غیر قانونی راستوں سے باہر نکلنے پر مجبور ہیں۔

یہی وہ فاصلہ ہے  بجٹ کی کتاب اور اسپتال کی او پی ڈی کے درمیان، وعدے اور زمینی حقیقت کے درمیان  جسے خیبر پختونخوا کے عوام آج بھی اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس کرتے ہیں۔

بارہ برس پہلے لوگوں نے تبدیلی کے لیے ووٹ دیا تھا۔ آج بھی وہ اُسی تبدیلی کا انتظار کر رہے ہیں۔

سوال آج بھی وہی ہے جو 2013 میں پوچھا گیا تھا: تبدیلی کہاں ہے؟

متعلقہ مضامین

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے طالبان کے 5 سالہ اقتدار پر رپورٹ جاری کرتے ہوئے افغانستان کو معلومات کی جیل قرار دے دیا ہے۔

August 10, 2026

آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے اکثر مطالبات منظور کیے جانے کے بعد، مہاجرین کی نشستوں پر تنازع نے احتجاجی تحریک کو تعطل کا شکار کر دیا ہے۔

August 10, 2026

افغان فریڈم فرنٹ نے نورستان کے ضلع دوآب میں طالبان کی سکیورٹی چوکی پر گوریلا حملے میں 2 اہلکار ہلاک اور 4 زخمی کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

August 10, 2026

افغانستان کے چار صوبوں میں طالبان مخالف گروہوں کی کارروائیوں میں تیزی، طالبان اہلکار اور انٹیلی جنس دفاتر نشانہ بن گئے۔

August 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *