افغان پراپیگنڈا پلیٹ فارم المرصاد کے مضمون پاکستان اور داعش: نظریاتی و نفسیاتی جنگ کے تناظر میں کو حقائق سے منافی اور بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں پاکستان کو مبینہ طور پر نظریاتی جنگ میں ملوث دکھایا گیا، جبکہ افغان سرزمین سے جاری دہشت گردی پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔
المرصاد نے اپنے مضمون میں نظریاتی جنگ اور پراکسی نیٹ ورکس جیسی اصطلاحات تو استعمال کیں، لیکن پاکستان کو ان سرگرمیوں سے جوڑنے کے لیے کوئی قابلِ اعتماد یا آزادانہ شواہد پیش نہیں کیے۔ محض عمومی دعووں کو حقائق کے طور پر پیش کرنا تحقیق نہیں بلکہ صریح پروپیگنڈا ہے۔
پاکستانی سکیورٹی فورسز دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف مسلسل نبرد آزما ہیں۔ جس ریاست نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانی اور اربوں ڈالر کے معاشی نقصان اٹھائے ہوں، اسے اسی خطرے کا معمار قرار دینا منطق کے خلاف ہے۔
رپورٹ میں داخلی معاشی اور سیاسی مسائل کو منظم غیر ملکی نفسیاتی کارروائی کے طور پر پیش کیا گیا۔ عام شہریوں کے بنیادی مسائل کو ریاستی اداروں کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنے اور افواہیں پھیلانے کے روایتی حربے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
پاکستان پر پراکسی گروہوں کی سرپرستی کا الزام دراصل افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے حملوں سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کا ایک آسان راستہ ہے۔ پاکستان بارہا افغان عبوری حکومت کو سرحد پار سے جاری دہشت گردی کے مصدقہ شواہد فراہم کر چکا ہے۔
پاکستان میں داعش خراسان کی کسی منظم موجودگی یا مستقل انفراسٹرکچر کا دعویٰ بھی مکمل طور پر شواہد سے محروم ہے۔ قیاس آرائیوں کا مقصد افغانستان میں موجود ان عسکریت پسند تنظیموں سے نظریں چرانا ہے، جن کی موجودگی کی توثیق اقوام متحدہ کی رپورٹس بھی کرتی ہیں۔
پاکستانی عوام اور سکیورٹی اداروں نے فرقہ وارانہ تشدد اور خودکش حملوں کا ثابت قدمی سے مقابلہ کیا ہے۔ یہ عظیم قربانیاں اور ملکی عدم استحکام کو ناکام بنانا المیرصاد کے اس من گھڑت دعوے کو جھوٹا ثابت کرتا ہے کہ پاکستان نفسیاتی دباؤ سے ٹوٹ چکا ہے۔
نفسیاتی جنگی بیانیے کا مقابلہ محض من گھڑت الزامات سے نہیں بلکہ آزادانہ اور قابلِ تصدیق حقائق سے ہوتا ہے۔ پاکستان کے متعلق کسی بھی جائزے کا انحصار پروپیگنڈا پلیٹ فارمز پر نہیں بلکہ زمینی حقائق پر ہونا چاہیے۔
دیکھیے: پاکستان سے اختلافات ختم کریں، ورنہ افغانستان تنہا رہ جائے گا: افغان وزیر