دہلی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ ڈاکٹر مظفر احمد خلیجی ممالک کے راستے بھارتی پاسپورٹ کا استعمال کرتے ہوئے افغانستان فرار ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ اس وقت افغانستان کے صوبہ غزنی میں طالبان کے تحفظ میں شب و روز گزار رہے ہیں۔ مذکورہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت ایک ایسی حکومت کے ساتھ تعلقات کے نتائج بھگت رہا ہے جس پر دہشت گردی کی پناہ گاہ ہونے کے الزامات ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کو واضح کرتی ہے۔ افغان حکام کا دہشت گروہوں کی سرپرستی، معاونت اور موجودگی سے انکار کے باوجود افغان سرزمین بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر ابھر رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی تحقیقات کے مطابق افغانستان میں القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، اسلامی تحریک ازبکستان، تحریک طالبان ایران اور دولت اسلامیہ خراسان جیسی تنظیمیں بلا روک ٹوک سرگرم ہیں۔ یہ صورتحال کابل حکومت کے ‘زیرو ٹالرنس’ کے دعوؤں کی سختی سے نفی کرتی ہے۔
Dr. Muzaffar Ahmad, the mastermind behind the Nov terrorist attack on #Delhi, India 🇮🇳 fled to #Afghanistan using an Indian passport via Gulf countries.
— Ahmad Sharifzad (@AhmadSharifzad) December 28, 2025
He is currently staying at a Madrassa in Ghazni province, Afghanistan, under #Taliban protection.
India 🇮🇳 is now tasting the… pic.twitter.com/3lrOnsneWE
طالبان کا دعویٰ اور بین الاقوامی سلامتی
واضح رہے کہ دہلی حملہ کوئی انفرادی واقعہ نہیں بلکہ یہ اس وسیع تر مسئلے کی علامت ہے جس میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کا ایک بین الاقوامی نیٹ ورک اُبھر رہا ہے۔ یہ نیٹ ورک خلیج، جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے خطوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ طالبان قیادت کا یہ دعویٰ کہ دہشت گردی ‘دوسرے ممالک کا داخلی معاملہ’ ہے، عملی طور پر بے معنی و بے وُقعت ثابت ہو رہا ہے کیونکہ بیرون ملک کے متعدد حملوں میں ملوث افراد کی افغانستان میں موجودگی اسے ایک بین الاقوامی سلامتی کا مسئلہ بنا دیتا ہے۔
ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ وہ ممالک جو طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے یا مثبت انداز میں پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں اس کے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بھارت کی سفارتی کوششیں، تجارتی تعلقات اور انسانی ہمدردی کی امداد دہشت گردی کے خلاف مؤثر جوابی کارروائی کے نظام کی جگہ نہیں لے سکتیں۔
افغانستان میں دہشت گردوں کی مضبوطی
یہ مسئلہ پاکستان اور پورے خطے کے لیے ایک بنیادی چیلنج ہے۔ محفوظ ٹھکانوں کا وجود، نظریاتی سرپرستی، شفاف انٹیلی جنس تعاون کا فقدان اور قابل اعتماد سیکیورٹی ڈھانچے کی غیر موجودگی دہشت گردی کے پھیلاؤ کے لیے سازگار ماحول فراہم کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر افغانستان میں قابل تصدیق گرفتاریاں، آزادانہ تحقیقات اور ملزم کی حوالگی کے تعاون کو یقینی نہ بنایا گیا، تو یہ ملک 2021 کے بعد کے دہشت گرد نیٹ ورکس کا مرکز بن سکتا ہے۔
دیکھیں: افغانستان اب بھی عالمی دہشت گرد نیٹ ورکس کا اہم مرکز ہے؛ واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ