سکیورٹی ذرائع کا رائٹرز سے بڑا دعویٰ؛ امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پانے کے قریب، مذاکرات آخری مرحلے میں داخل

April 17, 2026

سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار خارجی دہشت گرد عامر سہیل نے افغان طالبان، فتنہ الخوارج اور بھارتی ایجنسی ‘را’ کے درمیان گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا۔

April 17, 2026

لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزیاں؛ جنوبی لبنان کے دیہات پر رات گئے گولہ باری سے کشیدگی برقرار۔

April 17, 2026

اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سے عالمی غذائی بحران اور کھاد و توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

April 17, 2026

طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر بانی رہنماء اور سابق وزیرِ خزانہ معتصم آغا جان کو قندھار سے گرفتار کر لیا گیا۔

April 17, 2026

اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی سے بھی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ دفاعی تعلقات، علاقائی سکیورٹی اور باہمی تعاون کے امور زیر بحث آئے۔

April 17, 2026

ایران میں قتل کی سازش، طالبان کی بیرونِ ملک خفیہ کارروائیاں بے نقاب

افغان طالبان پر بیرونِ ملک مخالفین کے خلاف منظم کارروائیوں اور ایران میں سابق فوجی کمانڈر کے قتل کی منصوبہ بندی میں مداخلت کے الزامات سامنے آئے ہیں
طالبان کی قیادت بیرونِ ملک مخالفین کے خلاف منظم کارروائیوں کی جانب بڑھ رہی ہے، جبکہ تہران میں سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر جنرل اکرام الدین ساری کے قتل کی منصوبہ بندی میں معاونت کا الزام عائد کیا گیا ہے

ان واقعات کی بنا پر ایرانی حکام پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اپنی سرحدی حدود میں طالبان سے منسلک ممکنہ سرگرمیوں کی فوری اور جامع تحقیقات کریں

January 1, 2026

افغان طالبان پر بیرونِ ملک ہدفی کارروائیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن میں ایران کے شہر مشہد میں ایک سابق فوجی کمانڈر کے قتل کی منصوبہ بندی کا مبینہ دعویٰ بھی نمایاں ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق طالبان کی قیادت افغانستان سے باہر موجود مخالفین کے خلاف منظم کارروائیاں شروع کرنے کی جانب مائل دکھائی دیتی ہے۔

خیال رہے کہ تہران میں طالبان کے سفارت خانے اور مشہد میں واقع قونصل خانے پر جنرل اکرام الدین ساری کے قتل کی منصوبہ بندی اور اسے عملی جامہ پہنانے میں معاونت کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق طالبان سے وابستہ چار ایجنٹ تقریباً چھ ہفتے قبل افغانستان کی سرحد پار کرکے ایران میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے آپریشن کی تیاریاں مکمل کرتے ہوئےحملہ کیا اور واقعہ کے فوری بعد افغانستان واپس لوٹ گئے۔

سکیورٹی ماہرین کے نزدیک یہ واقعہ طالبان کی جانب سے سفارتی مراکز اور سرحد پار نیٹ ورکس کے ممکنہ استعمال کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد افغانستان سے باہر رہنے والی مخالف شخصیات کی آوازوں کو دبانا نظر آتا ہے۔ ماہرین نے اس عمل کو علاقائی سلامتی کے حوالے سے انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔

ان اطلاعات کے پیشِ نظر ایرانی حکام پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اپنی سرحدی حدود میں طالبان سے منسلک ممکنہ سرگرمیوں کی فوری اور جامع تحقیقات کریں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ ایران کی داخلی سلامتی اور خطے کے عمومی استحکام کے لیے ایک سنگین خطرے کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کار اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ موجودہ شواہد اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ طالبان بیرونِ ملک مخالفین کے خلاف ہدفی کارروائیوں کے دائرہ کار کو وسعت دے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں خطے میں عدم استحکام اور سیکیورٹی خطرات میں اضافہ ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

دیکھیں: بھارتی فضائیہ نے پاکستانی سرحد کے قریب فضائی مشقوں کا اعلان کردیا

متعلقہ مضامین

سکیورٹی ذرائع کا رائٹرز سے بڑا دعویٰ؛ امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدہ طے پانے کے قریب، مذاکرات آخری مرحلے میں داخل

April 17, 2026

سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار خارجی دہشت گرد عامر سہیل نے افغان طالبان، فتنہ الخوارج اور بھارتی ایجنسی ‘را’ کے درمیان گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا۔

April 17, 2026

لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزیاں؛ جنوبی لبنان کے دیہات پر رات گئے گولہ باری سے کشیدگی برقرار۔

April 17, 2026

اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سے عالمی غذائی بحران اور کھاد و توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

April 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *