شمالی وزیرستان اور قلات میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 11 مبینہ دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔

October 2, 2026

مقبوضہ کشمیر میں سابق پاک فوجی کی ہلاکت کا بھارتی دعویٰ جھوٹا نکلا؛ محمد آصف خود میڈیا کے سامنے پیش ہو گئے۔

October 2, 2026

قصور میں پاک بھارت سرحد کے قریب بھارتی بی ایس ایف کی مبینہ فائرنگ سے 2 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔

October 2, 2026

کور کمانڈرز کانفرنس میں افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیوں کو پاکستان کا دفاعی حق قرار دیا گیا، جبکہ بہتر گورننس پر بھی زور دیا گیا۔

October 2, 2026

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی بات بہت آگے بڑھ چکی ہے اور اب اس کے نفاذ کے تکنیکی معاملات پر گفتگو ہو رہی ہے۔

October 2, 2026

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم ہوگیا، دونوں فریق کل دوبارہ مذاکرات کریں گے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات بھی اہم معاملہ بن گئی۔

October 2, 2026

دریائے چناب پر بھارتی جارحیت: سندھ طاس معاہدے کو خطرہ، پاکستان کی غذائی سلامتی داؤ پر لگ گئی

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اس دور میں پانی کی پیش گوئی، ڈیٹا شیئرنگ اور معاہدوں کی پاسداری پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔ انڈس واٹرز ٹریٹی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور زیریں آبادیوں کے تحفظ کا ایک موثر ذریعہ رہا ہے، مگر حالیہ اقدامات نے اسے ایک ’’لائف لائن‘‘ سے ’’دباؤ کے آلے‘‘ میں بدلنے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔
دریائے چناب پر بھارتی جارحیت: سندھ طاس معاہدے کو خطرہ، پاکستان کی غذائی سلامتی داؤ پر لگ گئی

تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کا یہ طرزِ عمل نہ صرف پاکستان کی زرعی منصوبہ بندی اور ذخائر کے انتظام کو متاثر کر رہا ہے بلکہ اس معاہدے کو بھی کمزور کر رہا ہے جو 1960 سے اب تک جنگوں اور سیاسی تنازعات کے باوجود قائم رہا۔

January 1, 2026

بھارت کی جانب سے دریائے چناب کے بہاؤ میں اچانک اور غیر اعلانیہ تبدیلیوں نے پاکستان میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، جسے ماہرین انڈس واٹرز ٹریٹی کے تحت قائم دہائیوں پرانے آبی تعاون سے انحراف اور آبی سیاست کے خطرناک رجحان سے تعبیر کر رہے ہیں۔ موسمیاتی دباؤ کے شکار خطے میں اس معاہدے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ اس کی پیش گوئی پر مبنی نوعیت پاکستان جیسے زیریں ملک کے لیے زراعت، معیشت اور سماجی استحکام کی ضامن رہی ہے۔

ذرائع اور سرکاری رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں بھارت نے اپنے ڈیمز سے پانی چھوڑنے کے بعد دریائے چناب میں بہاؤ 58 ہزار 300 کیوسک تک پہنچا دیا، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بھارت جلد ہی ان ڈیمز کو دوبارہ بھرنے کے عمل کا آغاز کرے گا، جس کے نتیجے میں چناب کا بہاؤ صفر تک گر سکتا ہے۔ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق اس سے قبل چناب میں پانی کی مقدار مرالہ کے مقام پر 31 ہزار، خانکی پر 17 ہزار، قادرآباد پر 11 ہزار اور تریمو پر 11 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی تھی، جہاں درمیانے درجے کے اضافے کی توقع ظاہر کی گئی تھی۔

حالیہ بے قاعدہ بہاؤ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت نے پہلگام واقعے کے بعد یکطرفہ طور پر انڈس واٹرز ٹریٹی کو معطل کرنے کا اعلان کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک منظم طرزِ عمل کی عکاسی کرتی ہے، جس میں اچانک ڈیم آپریشنز، ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا کی عدم فراہمی اور معاہدے کے تحت موجود مشاورتی نظام کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

زرعی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ دریائے چناب میں غیر متوقع پانی کے اخراج اور ممکنہ بندش نے پاکستان کی زرعی معیشت کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے، خصوصاً گندم کی فصل، جو ملکی غذائی سلامتی کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ پنجاب کے کسان سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جہاں لاکھوں ایکڑ رقبے پر آبپاشی کا انحصار چناب کے پانی پر ہے۔ پانی کی کمی یا اچانک زیادتی فصلوں کو نقصان، پیداوار میں کمی، اخراجات میں اضافے اور کسانوں کے قرضوں میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

پاکستانی حکام اور مبصرین بھارت کے ان اقدامات کو ’’واٹر ٹیررازم‘‘ قرار دے رہے ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ دریائی بہاؤ کو بطور جغرافیائی سیاسی ہتھیار استعمال کرنا پورے خطے کے استحکام کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بروقت معلومات کی عدم فراہمی اور پیشگی اطلاع کے بغیر پانی چھوڑنا انڈس واٹرز ٹریٹی کی شقوں، خصوصاً شفافیت، پیش بینی اور تعاون سے متعلق دفعات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

سفارتی سطح پر بھی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کا یہ طرزِ عمل نہ صرف پاکستان کی زرعی منصوبہ بندی اور ذخائر کے انتظام کو متاثر کر رہا ہے بلکہ اس معاہدے کو بھی کمزور کر رہا ہے جو 1960 سے اب تک جنگوں اور سیاسی تنازعات کے باوجود قائم رہا۔ اگر اس فریم ورک کو نقصان پہنچا تو یہ دیگر سرحدی دریائی نظاموں کے لیے بھی ایک منفی مثال قائم کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اس دور میں پانی کی پیش گوئی، ڈیٹا شیئرنگ اور معاہدوں کی پاسداری پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔ انڈس واٹرز ٹریٹی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور زیریں آبادیوں کے تحفظ کا ایک موثر ذریعہ رہا ہے، مگر حالیہ اقدامات نے اسے ایک ’’لائف لائن‘‘ سے ’’دباؤ کے آلے‘‘ میں بدلنے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔

پاکستان نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور عالمی بینک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور بھارت پر معاہدے کی پاسداری کے لیے دباؤ ڈالیں۔ مبصرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر پانی کو سیاسی ہتھیار بننے سے نہ روکا گیا تو نہ صرف پاکستان کی غذائی سلامتی بلکہ پورے جنوبی ایشیا کا استحکام شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

دیکھیں: پاکستان کا شفافیت اور صاف حکمرانی کی جانب تاریخی سفر جاری

متعلقہ مضامین

شمالی وزیرستان اور قلات میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 11 مبینہ دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔

October 2, 2026

مقبوضہ کشمیر میں سابق پاک فوجی کی ہلاکت کا بھارتی دعویٰ جھوٹا نکلا؛ محمد آصف خود میڈیا کے سامنے پیش ہو گئے۔

October 2, 2026

قصور میں پاک بھارت سرحد کے قریب بھارتی بی ایس ایف کی مبینہ فائرنگ سے 2 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔

October 2, 2026

کور کمانڈرز کانفرنس میں افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائیوں کو پاکستان کا دفاعی حق قرار دیا گیا، جبکہ بہتر گورننس پر بھی زور دیا گیا۔

October 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *