روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کے درمیان افغانستان سے متعلق علاقائی سلامتی کے امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی، جس میں سرحدی استحکام اور سرحد پار عسکریت پسندی کے بڑھتے ہوئے خطرات موضوعِ بحث رہے۔
دونوں رہنماؤں نے افغانستان کی صورتحال کو علاقائی سلامتی کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے وسطی ایشیائی سرحدوں کے تحفظ اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون پر غور دیا۔ نیز انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سرحدی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے گہرے رابطے اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہیں۔
Putin, Rahmon discuss Afghanistan-linked security concernshttps://t.co/tiMT1vSJAG
— Ariana News (@ArianaNews_) January 1, 2026
Russian President Vladimir Putin and Tajikistan’s President Emomali Rahmon have discussed regional security challenges linked to Afghanistan, amid rising concerns over border stability and… pic.twitter.com/FCO0GxTepY
کریملن کے مطابق گفتگو کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ، انسدادِ انتہا پسندی اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے تعاون کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ ساتھ ہی روس اور تاجکستان کے درمیان سلامتی کے شعبے میں شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
مبصرین کے مطابق افغانستان میں بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں روس اور تاجکستان کے اعلیٰ سطحی مذاکرات خطے میں سلامتی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کی غمازی کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ ملاقات مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ اقدامات کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
دیکھیں: افغان سرحد بند ہونے سے پاکستان کی سکیورٹی صورتحال بہتر، دہشت گردی کے واقعات میں 17 فیصد کمی