یمن کے مشرقی صوبے حضرموت میں جھڑپیں ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہیں۔ سعودی عرب کے حمایت یافتہ گورنر اور سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کے علیحدگی پسند عناصر کے درمیان مختلف علاقوں میں شدید لڑائی جاری ہے، جس کے باعث خطے کی سیکیورٹی صورتحال نہایت کشیدہ ہو گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حضرموت میں سرکاری فورسز اور ایس ٹی سی کے جنگجوؤں کے درمیان بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے، جب کہ کئی علاقوں میں فائرنگ اور گولہ باری کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ جھڑپوں کے باعث شہری آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا اور معمولاتِ زندگی متاثر ہوئے ہیں۔
سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے سعودی عرب پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد کے قریب ان کی فورسز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایس ٹی سی کا مؤقف ہے کہ سعودی حمایت یافتہ دستوں کی جانب سے کارروائیاں دراصل حضرموت میں ان کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کی کوشش ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حضرموت کے شہر سیئون میں واقع ہوائی اڈے اور ایک فوجی تنصیب کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ابتدائی حملوں میں وادی حضرموت اور صحرائے حضرموت کے علاقے میں واقع الخشعہ کیمپ پر بمباری کی گئی، جہاں سات افراد ہلاک جبکہ بیس سے زائد زخمی ہوئے۔
دوسری جانب حضرموت کے گورنر نے ایس ٹی سی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی اڈوں کا کنٹرول واپس لینے کی کوششوں کا مقصد کسی تصادم کو ہوا دینا نہیں بلکہ یمن کے جنوبی صوبوں میں ریاستی رٹ کو پرامن طریقے سے بحال کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی ہے کہ تمام مسلح گروہ ریاستی نظم و نسق کے تحت آئیں تاکہ علاقے میں استحکام قائم ہو سکے۔
یہ تازہ جھڑپیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب چند روز قبل سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں۔
سعودی عرب نے الزام عائد کیا تھا کہ یو اے ای، سدرن ٹرانزیشنل کونسل کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ حضرموت اور المہرہ جیسے اہم صوبوں پر قبضہ کر سکے۔ ان الزامات کے بعد یمن میں جاری خانہ جنگی ایک نئے اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
دسمبر کے اوائل میں علیحدگی پسندوں کی غیر متوقع پیش قدمی نے یمن میں طاقت کا توازن بدل دیا تھا، جہاں ایک دہائی سے زائد عرصے سے جنگ جاری ہے۔
اس پیش رفت سے حوثیوں کے خلاف بننے والا اتحاد کمزور ہوا اور سعودی عرب اور امارات کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آئے۔
واضح رہے کہ یمن کئی برسوں سے عملی طور پر تقسیم ہے، جہاں شمالی پہاڑی علاقوں پر ایران کی حمایت یافتہ حوثی گروپ کا کنٹرول ہے، جب کہ جنوبی حصوں میں خلیجی ممالک کی حمایت یافتہ فورسز اور جنوبی علیحدگی پسند سرگرم ہیں، جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے تحت کام کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، جو کبھی خطے کی سلامتی کے دو بڑے ستون سمجھے جاتے تھے اور اوپیک کے اہم رکن بھی ہیں، حالیہ برسوں میں تیل کے کوٹوں سے لے کر جغرافیائی سیاست تک مختلف امور پر اختلافات کا شکار رہے ہیں۔
ایس ٹی سی کے بیان پر نہ تو یمن کی بین الاقوامی حمایت یافتہ حکومت اور نہ ہی سعودی حکام کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے آیا ہے۔
یمن کا فوجی مقامات کی واپسی کیلئے کاروائی کا اعلان
یمن کے صوبے حضرموت کے سعودی حمایت یافتہ گورنر نے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں فوجی مقامات واپس لینے کے لیے ایک پُرامن کارروائی شروع کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام صرف فوجی ٹھکانوں تک محدود ہوگا اور اسے جنگ کا اعلان نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یمن میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ دونوں ممالک اس جنگ زدہ ملک میں مختلف دھڑوں کی حمایت کر رہے ہیں اور دسمبر سے کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
یمنی حکومت نے حضرموت کے گورنر سالم احمد سعید الخنباشی کو مشرقی صوبے میں ’ہوم لینڈ شیلڈ‘ فورسز کا کمانڈر تعینات کر دیا ہے، جس کے تحت انہیں فوجی، سکیورٹی اور انتظامی معاملات پر مکمل اختیار دے دیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس فیصلے کا مقصد صوبے میں امن و امان بحال کرنا ہے۔
گورنر کا کہنا ہے کہ کارروائی صرف ان فوجی مقامات کے دفاع اور واپسی تک محدود رہے گی جن پر متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے قبضہ کیا تھا۔ سدرن ٹرانزیشنل کونسل نے حال ہی میں جنوبی یمن کے کئی علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا تھا، جسے سعودی حمایت یافتہ حکومت نے اپنے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔
یمن سے فوجی انخلا مکمل
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یمن سے اپنے فوجی دستوں کی واپسی مکمل کر لی ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس حوالے سے اماراتی وزارت دفاع کا کہنا تھا کہ یمن سے اماراتی فوجی دستوں کی واپسی کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔
وزارت دفاع کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے بعد فوج واپس بلائی ہے۔ یمن میں شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی سے فوجی مشن مکمل کیا ہے۔
پاکستان کا مؤقف
ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی کا کہنا ہے کہ پاکستان یمن معاملے میں مذاکرات اور سفارتکاری کی حمایت اور یمن کی وحدت و علاقائی سالمیت سے وابستگی کا اعادہ کرتا ہے۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور یو اے ای کے مثبت اقدامات یمن میں امن قائم کر سکتے ہیں، یمن کے مسئلے پر سعودی اور اماراتی قیادت کی دانائی قابلِ تحسین ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب اور یو اے ای کی کوششیں خطے میں امن کی مشترکہ خواہش کی عکاس ہیں، پاکستان خطے میں دیرپا امن اور اتحاد کے فروغ کے لیے کردار پر تیار ہے۔
دیکھیں: ایران میں قتل کی سازش، طالبان کی بیرونِ ملک خفیہ کارروائیاں بے نقاب