افغانستان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے براہِ راست زیرِ اثر سکیورٹی یونٹ نے 13 اپریل کو قندھار میں ایک انتہائی حساس کاروائی کرتے ہوئے طالبان کے بانی رکن اور سابق وزیرِ خزانہ معتصم آغا جان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملا ہیبت اللہ کی سکیورٹی پر مامور خصوصی “ڈیڈ اسکواڈ” کے ذریعے انجام دی گئی یہ گرفتاری طالبان کی اعلیٰ قیادت میں بڑھتے ہوئے باہمی عدم اعتماد کی عکاس ہے۔ معتصم آغا جان کا سیاسی سفر تحریک کے ابتدائی دور سے جڑا ہوا ہے، جہاں وہ ملا محمد عمر کے دور میں اہم ذمہ داریاں ادا کرتے رہے اور 2003 کے بعد طالبان کی ازسرِ نو تنظیم میں مرکزی کردار ادا کیا، یہاں تک کہ وہ ملا اختر منصور کے بعد دوسرے سب سے بااثر رہنماء سمجھے جاتے تھے۔
جلاوطنی اور واپسی
معتصم آغا جان کا سفر نشیب و فراز سے بھرپور رہا ہے؛ 2012 میں ملا اختر منصور کے ساتھ مالی معاملات پر شدید اختلافات کے بعد ان پر کوئٹہ میں قاتلانہ حملہ ہوا، جس نے انہیں جلاوطنی پر مجبور کر دیا۔ تاہم، 2023 میں ملا عمر کے صاحبزادے اور موجودہ وزیرِ دفاع ملا یعقوب کی سرپرستی میں وہ دوبارہ کابل واپس آئے اور قندھار میں تیزی سے اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔ انہیں حاصل ہونے والے وسائل، مسلح حمایت اور سیاسی پشت پناہی نے انہیں ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کے ممکنہ متبادل کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا تھا، جس نے مرکزی قیادت کے حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔
گرفتاری کے محرکات
تجزیہ کاروں کے مطابق معتصم آغا جان کی گرفتاری کی ایک بڑی وجہ ان کی جانب سے عید کے بعد جنگ بندی اور علما کے بڑے اجتماع کی تجویز بھی ہو سکتی ہے، جسے مرکزی قیادت کے خلاف ایک سیاسی چیلنج سمجھا گیا۔ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ طالبان قیادت میں نظریاتی تقسیم پہلے بھی سامنے آ چکی ہے، جیسا کہ 2025 میں شیر محمد عباس ستانکزئی نے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کو شریعت کے خلاف قرار دیا تھا اور بعد ازاں گرفتاری کے خدشے کے باعث وہ متحدہ عرب امارات منتقل ہو گئے تھے۔ یہ تمام واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ تحریک کے اندر قیادت اور پالیسیوں پر شدید اختلافات موجود ہیں۔
Taliban Supreme Leader arrests his rival. In one of its kind operation the so called Dead Squad which also protects Mullah Haibatullah the Taliban Supreme leader hastily arrested Mutasim Agha Jan the former chief of staff and Finance Minister of Taliban founder and then Leader… pic.twitter.com/m8jVhM11NB
— BILAL SARWARY (@bsarwary) April 16, 2026
انسانی حقوق کی صورتحال
پانچ سال قبل کے رجحانات بتاتے ہیں کہ طالبان نے اندرونی اختلافات اور بیرونی مخالفت کو کنٹرول کرنے کے لیے گرفتاریوں کا ایک مستقل اور منظم نظام اختیار کر رکھا ہے۔ اقوام متحدہ اور ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹس کے مطابق، صرف 2025 کے دوران 174 سے زائد گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں، جبکہ 2024 میں 282 افراد کو “اپوزیشن سے روابط” کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ اس نظام کا نشانہ نہ صرف سیاسی اراکین بن رہے ہیں بلکہ سابق افغان حکام، صحافی، سماجی کارکنان اور نسلی و مذہبی اقلیتیں بھی اس کریک ڈاؤن کی زد میں ہیں۔
میڈیا پر دباؤ اور آزادی
افغانستان میں میڈیا اور اظہارِ رائے کی آزادی بھی شدید خطرات سے دوچار ہے؛ افغانستان جرنلسٹس سینٹر کے مطابق 2025 میں 34 صحافیوں کو گرفتار کیا گیا اور میڈیا کی 205 خلاف ورزیاں ریکارڈ ہوئیں۔ نمایاں گرفتار شدگان میں منصور نیکمل، سیف اللہ کریمی اور تجزیہ کار جاوید کوہستانی شامل ہیں، جن کی بار بار گرفتاریوں نے ملک میں خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم کے کارکن احمد فہیم عظیمی کی طویل حراست اور خواتین کو لباس کے قوانین پر نشانہ بنانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ کارروائیاں صرف سیاسی حلقوں تک محدود نہیں بلکہ سماج کے ہر طبقے کو کنٹرول کرنے کی کوشش ہے۔
مستقبل کے خدشات
حکومتی ڈھانچے کے اندر بھی غیر شفاف احتساب کا عمل جاری ہے، جیسا کہ اپریل 2026 میں وزارتِ صحت کے اہلکاروں کی کرپشن کے الزامات پر گرفتاری سے ظاہر ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر، معتصم آغا جان کی گرفتاری اسی بڑے تسلسل کا حصہ ہے جس میں طالبان کا حکمرانی ماڈل ادارہ جاتی عمل کے بجائے صوابدیدی گرفتاریوں، شفافیت کے فقدان اور طاقت کے زور پر کنٹرول برقرار رکھنے پر مبنی ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اعلیٰ قیادت اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے ہر اس قوت کو کمزور کر رہی ہے جو ان کے سیاسی یا نظریاتی دائرہ کار کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔