لبنان میں 10 روزہ جنگ بندی کے چند گھنٹوں بعد ہی اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ لبنانی فوج کے مطابق جمعہ 17 اپریل کی علی الصبح جنوبی لبنان کے متعدد دیہات پر اسرائیلی فوج نے وقفے وقفے سے گولہ باری کی ہے۔ یہ کاروائی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عالمی برادری خطے میں امن کی بحالی کے لیے پرامید تھی، تاہم تازہ ترین جارحیت نے جنگ بندی کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
لبنانی فوج نے اپنے ایک ہنگامی بیان میں تصدیق کی ہے کہ مقامی وقت کے مطابق آدھی رات سے جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود اسرائیل نے کئی ‘جارحانہ اقدامات’ کیے ہیں۔ فوج نے انکشاف کیا کہ جنوبی لبنان کے سرحدی دیہات اور قصبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ لبنانی عسکری حکام نے شہریوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر فی الحال جنوبی علاقوں کے دیہات اور قصبوں میں اپنی واپسی کا ارادہ مؤخر کر دیں تاکہ کسی بھی جانی نقصان سے بچا جا سکے۔
عالمی دباؤ
یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لبنان میں جنگ بندی کے پرزور مطالبے اور اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ حالیہ مشاورت کے بعد سامنے آئی ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس 10 روزہ جنگ بندی کا مقصد مستقل امن کی راہ ہموار کرنا تھا، لیکن میدانِ جنگ سے آنے والی اطلاعات ظاہر کرتی ہیں کہ اسرائیل تاحال مکمل سیز فائر پر آمادہ نظر نہیں آتا۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق، جنوبی لبنان میں کشیدگی اب بھی برقرار ہے اور وقفے وقفے سے ہونے والے دھماکے امن عمل کو سبوتاژ کر سکتے ہیں۔
اسرائیلی مؤقف اور خاموشی
دوسری جانب عالمی میڈیا بشمول سی این این نے ان خلاف ورزیوں پر اسرائیلی فوج کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا ہے، تاہم تاحال اسرائیلی دفاعی افواج کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اسرائیلی حکام کی یہ خاموشی اور زمین پر جاری کارروائیاں لبنان کی نازک سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اگر ان خلاف ورزیوں کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو 10 روزہ جنگ بندی کا یہ معاہدہ مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں خطہ ایک بار پھر بڑے پیمانے کی جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔