خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں لکی سیمنٹ فیکٹری کی مسافر بس کو نشانہ بنانے والے دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ دو خواتین سمیت آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق دھماکا ایک دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کے ذریعے کیا گیا، جس کے بعد بس پر فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرہ بس میں بیگوخیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد سوار تھے، جو معمول کے سفر پر تھے کہ راستے میں حملے کا نشانہ بن گئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سیکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق حملے کی نوعیت اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
واضح رہے کہ لکی مروت اور گردونواح میں حالیہ عرصے کے دوران تشدد کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جہاں طالبان سے منسلک عناصر اور مقامی قبائل کے درمیان حملوں اور جوابی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی تناظر میں بعض علاقوں میں قبائل نے نام نہاد ’’امن کمیٹیاں‘‘ قائم کر رکھی ہیں، جو دراصل مسلح مقامی ملیشیا پر مشتمل ہوتی ہیں اور اپنے علاقوں کے تحفظ کے دعوے کے ساتھ سرگرم ہیں۔ ان حالات نے ضلع میں امن و امان کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
دیکھیں: افغان سرحد بند ہونے سے پاکستان کی سکیورٹی صورتحال بہتر، دہشت گردی کے واقعات میں 17 فیصد کمی