پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یومِ حقِ خودارادیت منا رہے ہیں۔ یہ دن محض ایک علامتی تاریخ نہیں بلکہ کشمیری عوام کی اس طویل، پُرعزم اور قربانیوں سے بھرپور جدوجہد کی یاد دہانی ہے جو وہ اپنے بنیادی، فطری اور عالمی طور پر تسلیم شدہ حق ،حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے دہائیوں سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں واضح طور پر کشمیری عوام کو یہ حق دیتی ہیں کہ وہ آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ تاہم افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان قراردادوں پر آج تک عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں مسلسل فوجی موجودگی، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، اظہارِ رائے پر پابندیاں اور آبادی کے تناسب کو بدلنے کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ کشمیریوں کی آواز کو طاقت کے زور پر دبایا جا رہا ہے۔
5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے نے اس تنازع کو مزید سنگین بنا دیا۔ اس یکطرفہ اقدام نے نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی بلکہ کشمیری عوام کے اعتماد اور امن کی امیدوں کو بھی شدید دھچکا پہنچایا۔ طویل کرفیو، مواصلاتی بندشیں اور سیاسی قیادت کی گرفتاریوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ مسئلے کا حل طاقت میں نہیں بلکہ انصاف اور مکالمے میں پوشیدہ ہے۔
یومِ حقِ خودارادیت کے موقع پر پاکستان میں اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کی جانب سے منعقدہ ریلیاں، سیمینارز اور تقاریب اس عزم کا اظہار ہیں کہ کشمیری عوام اپنی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ یہ دن عالمی برادری کے لیے بھی ایک سوالیہ نشان ہے کہ کیا انسانی حقوق صرف نعروں تک محدود رہیں گے یا ان پر عملی اقدام بھی کیا جائے گا؟
پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھی ہے اور یہ حمایت اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک کشمیریوں کو ان کا جائز حق نہیں مل جاتا۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محض تشویش کے بیانات پر اکتفا نہ کریں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے کشمیری عوام کو انصاف دلائیں۔
آخر میں، یومِ حقِ خودارادیت ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔ جب تک کشمیری عوام کو اپنی مرضی کے مطابق مستقبل کے انتخاب کا حق نہیں دیا جاتا، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ آج کا دن اس عہد کی تجدید کا دن ہے کہ کشمیریوں کی آواز دبائی نہیں جا سکتی اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد آخرکار ضرور رنگ لائے گی۔
دیکھیں: بھارتی وزیرِ خارجہ کے الزامات مسترد، دہشت گردی اور کشمیر پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف برقرار