"> یومِ حقِ خودارادیت: کشمیری عوام کی جدوجہد کا استعارہ - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

یومِ حقِ خودارادیت: کشمیری عوام کی جدوجہد کا استعارہ

یومِ حقِ خودارادیت: کشمیری عوام کی جدوجہد کا استعارہ

یومِ حقِ خودارادیت کے موقع پر پاکستان میں اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کی جانب سے منعقدہ ریلیاں، سیمینارز اور تقاریب اس عزم کا اظہار ہیں کہ کشمیری عوام اپنی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

January 5, 2026

پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یومِ حقِ خودارادیت منا رہے ہیں۔ یہ دن محض ایک علامتی تاریخ نہیں بلکہ کشمیری عوام کی اس طویل، پُرعزم اور قربانیوں سے بھرپور جدوجہد کی یاد دہانی ہے جو وہ اپنے بنیادی، فطری اور عالمی طور پر تسلیم شدہ حق ،حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے دہائیوں سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔


اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں واضح طور پر کشمیری عوام کو یہ حق دیتی ہیں کہ وہ آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ تاہم افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ان قراردادوں پر آج تک عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں مسلسل فوجی موجودگی، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، اظہارِ رائے پر پابندیاں اور آبادی کے تناسب کو بدلنے کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ کشمیریوں کی آواز کو طاقت کے زور پر دبایا جا رہا ہے۔


5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے نے اس تنازع کو مزید سنگین بنا دیا۔ اس یکطرفہ اقدام نے نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی بلکہ کشمیری عوام کے اعتماد اور امن کی امیدوں کو بھی شدید دھچکا پہنچایا۔ طویل کرفیو، مواصلاتی بندشیں اور سیاسی قیادت کی گرفتاریوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ مسئلے کا حل طاقت میں نہیں بلکہ انصاف اور مکالمے میں پوشیدہ ہے۔


یومِ حقِ خودارادیت کے موقع پر پاکستان میں اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں کی جانب سے منعقدہ ریلیاں، سیمینارز اور تقاریب اس عزم کا اظہار ہیں کہ کشمیری عوام اپنی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ یہ دن عالمی برادری کے لیے بھی ایک سوالیہ نشان ہے کہ کیا انسانی حقوق صرف نعروں تک محدود رہیں گے یا ان پر عملی اقدام بھی کیا جائے گا؟

پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھی ہے اور یہ حمایت اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک کشمیریوں کو ان کا جائز حق نہیں مل جاتا۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ عالمی طاقتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محض تشویش کے بیانات پر اکتفا نہ کریں بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے کشمیری عوام کو انصاف دلائیں۔


آخر میں، یومِ حقِ خودارادیت ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔ جب تک کشمیری عوام کو اپنی مرضی کے مطابق مستقبل کے انتخاب کا حق نہیں دیا جاتا، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ آج کا دن اس عہد کی تجدید کا دن ہے کہ کشمیریوں کی آواز دبائی نہیں جا سکتی اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد آخرکار ضرور رنگ لائے گی۔

دیکھیں: بھارتی وزیرِ خارجہ کے الزامات مسترد، دہشت گردی اور کشمیر پر پاکستان کا دوٹوک مؤقف برقرار

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *