افغانستان میں طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے ایک نیا حکم نامہ جاری کرتے ہوئے طالبان حکام پر کسی بھی قسم کی تنقید کو باقاعدہ جرم قرار دے دیا ہے۔ دو روز قبل جاری ہونے والے اس حکم کے مطابق شہریوں اور میڈیا اداروں کی جانب سے طالبان اہلکاروں اور حکومتی ذمہ داران پر تنقید کرنا ممنوع ہوگا اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزائیں دی جائیں گی۔
حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ ’’بے بنیاد‘‘ یا ’’خلافِ حقیقت‘‘ تنقید کو جرم تصور کیا جائے گا، جس پر قید، جرمانے اور دیگر سزائیں عائد کی جا سکتی ہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ طالبان اہلکاروں کی توہین، حتیٰ کہ ان کے لباس کو نقصان پہنچانا بھی قابلِ سزا جرم ہوگا۔ عدالتی کارروائی کے دوران عدالت کی توہین یا عمل میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف بھی مقدمات درج کیے جائیں گے، تاہم عدالت کو معافی دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔
طالبان سربراہ کے مطابق یہ حکم فوری طور پر تمام افغان شہریوں، طالبان ارکان اور میڈیا اداروں پر نافذ ہو چکا ہے۔ تاہم حکم نامے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ تنقید یا اعتراض کو ’’بے بنیاد‘‘ یا ’’خلافِ حقیقت‘‘ قرار دینے کا معیار کیا ہوگا۔ اس حوالے سے فیصلہ کرنے کا اختیار بھی خود طالبان کو دیا گیا ہے کہ کون سا بیان حقیقت کے منافی ہے اور کون سا محض الزام کے زمرے میں آتا ہے۔ اس اقدام کو اظہارِ رائے کی آزادی پر مزید قدغن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
دیکھیں: افغان سرحد بند ہونے سے پاکستان کی سکیورٹی صورتحال بہتر، دہشت گردی کے واقعات میں 17 فیصد کمی