اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی حصے میں اپنی نفری بڑھانا شروع کر دی ہے۔ مذکورہ اقدام ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے جو زیرِ غور ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہودی آبادکاروں کو بھاری اسلحے کی فراہمی پر بھی غور شروع کر دیا ہے۔ مذکورہ اقدام نئی بستیوں کی تعمیر اور پرانی بستیوں کو دوبارہ آباد کرنا بھی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے شمالی مغربی کنارے میں 2005 کے سکیورٹی علیحدگی پلان کو منسوخ کر دیا ہے۔ نئے فوجی راستے تعمیر کیے جا رہے ہیں اور فلسطینی قصبے سیلہ الظہر کے اردگرد بائی پاس روڈ کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ صانور بستی کی حفاظت کے لیے ایک فوجی چوکی بھی قائم کی گئی ہے۔
منصوبے میں حومش، کادیم اور غانیم جیسی سابقہ بستیوں کی دوبارہ تعمیر اور ان کے اردگرد حفاظتی حصار بنانا شامل ہے۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ گذشتہ دو برسوں کے فوجی آپریشن نے اب ان علاقوں میں مزید بستیاں بسانے کے لیے تمام رکاوٹوں کو ختم کر دیا ہے۔
ایک فوجی اہلکار نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے تک نابلس کے بلاطہ کیمپ میں داخلہ شدید خطرناک سمجھا جاتا تھا، لیکن اب فوج دن دیہاڑے وہاں داخل ہو سکتی ہے۔ اسرائیلی ذرائع اس تبدیلی کو دہشت گرد گروہوں پر دباؤ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال قرار دے رہے ہیں۔
دیکھیں: کابل میں افغان طالبان کے سینئر انٹیلی جنس اہلکار مولوی نعمان غزنوی پراسرار طور پر ہلاک