افغانستان کا معدنی شعبہ فی الوقت طالبان کے مکمل قبضے میں ہے، جہاں کان کنی کا عمل طاقت، جبر، خصوصی مراعات اور خفیہ طریقۂ کار کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بدخشاں اور تخار میں حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ کان کنی کا شعبہ عوامی ترقی اور فلاح و بہبود کے بجائے طاقت کے استحکام کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ افغان طالبان کے حفاظتی اور اقتصادی ترقی کے دعوے زمینی حقائق سے متصادم ہیں۔ جن میں زمینی قبضے، ماحولیاتی نقصان، اور دہشت گرد گروہوں کی مضبوطی دیکھی جا رہی ہے، جن میں القاعدہ، داعش اور تحریکِ طالبان پاکستان شامل ہیں۔
اسی طرح مظاہرے اور تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں جب تخار کے چاہ اب اور بدخشاں کے آویزہائی پَن مور میں طالبان کے حمایت یافتہ گروہوں نے سونے کی کانوں پر قبضہ کیا۔ مقامی افراد نے اپنے وسائل کے چھینے جانے کے خلاف احتجاج کیا، جس پر طالبان اہلکاروں اور مسلح گروہوں نے شہریوں پر شدید فائرنگ کی۔ افغان طالبان کا طرز عمل اس چیز کو واضح کرتا ہے کہ افغان طالبان کان کنی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کے بجائے اپنی مضبوطی و طاقت کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغان طالبان نے کانوں سے مقامی افراد کو ہٹا کر، رہائشیوں کو اجازت نامے سے انکار اور اپنے وفادار افراد کو غیر شفاف آمدنی کی تقسیم کے تحت اختیارات سونپ کر اپنی معدنی حکمتِ عملی تشکیل دی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی صوبوں میں سونے کی کانیں ماہانہ کروڑوں ڈالر مالیت کی معدنیات پیدا کرتی ہیں، جن کا ایک حصہ بغیر کسی سرکاری بجٹ یا برادری میں دوبارہ سرمایہ کاری کے، براہِ راست طالبان کے کمانڈروں میں چلا جاتا ہے۔ یہ معدنیات ایک متوازی معیشت کے طور پر کام کر رہی ہیں، جو سرکاری اداروں اور عوامی نگرانی کو نظرانداز کرتی ہے۔
بدخشاں کے سونے کی کانیں سالانہ تقریباً 50 کروڑ ڈالر مالیت کی معدنیات پیدا کرتی ہیں، جو ہتھیاروں، اہلکاروں کی تنخواہوں، نفاذی یونٹس اور القاعدہ کے عملی تعاون کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ طالبان کی معدنی آمدنی تحریکِ طالبان پاکستان کی سرگرمیوں کو بھی فنڈ فراہم کرتی ہے، جو سرحد پار دہشت گردی کو مستحکم کرتی ہے۔ یہ فنڈز عوامی خدمات اور ترقی کے بجائے ظلم وجبر پر مبنی اختیارات کو واضح کرتی ہے۔
غیر ریاستی اور دہشت گرد مسلح گروہ معدنی وسائل سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ معاہدے ماحولیاتی جائزے اور آزاد نگرانی کو نظرانداز کرتے ہیں۔ معدنیات کے استخراج میں پارے اور سایانائیڈ جیسے زہریلے مادے استعمال ہوتے ہیں، جس سے کوکچا اور شیوا ندیاں سمیت پانی، زمین، مویشی اور ماہی گیری متاثر ہو رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اعصابی مسائل، گردوں کی بیماریاں، پیدائشی پیچیدگیاں اور خوراک کے ذریعے زہر پھیلنے کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ سیسہ اور یورینیم جیسی بھاری دھاتیں ہزاروں گھرانوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔
کان کی سرنگیں اکثر منہدم ہوتی ہیں اور مزدور حفاظتی اقدامات یا مناسب معاوضے کے بغیر کام کر رہے ہیں۔ طالبان کے سکیورٹی اور آمدنی میں اضافے کے دعوے زمینی حقائق سے متصادم ہیں، کیونکہ طالبان اہلکار زیادہ تر کانوں، آمدنی کی حفاظت اور احتجاج کو دبانے کے لیے تعینات ہیں، نہ کہ عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے۔
بدخشاں اور تخار میں ہونے والے مظاہرے طالبان کی قانونی جوازیت پر سوال اٹھاتے ہیں۔ مقامی عمائدین واضح انداز میں افغان طالبان کو قومی وسائل بغیر قانونی اجازت یا عوامی رضامندی کے استعمال کرنے پر چیلنج کر رہے ہیں۔ منجمد بین الاقوامی ذخائر اور عالمی تنہائی طالبان حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی عکاسی کرتی ہے، جو دہشت گردی کی مالی معاونت اور برادریوں پر جبر کے لیے وسائل استعمال کر رہی ہے۔
معدنیات سے حاصل شدہ رقم دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیوں میں استعمال ہوتی ہے، افغان عوام کی غربت میں اضافہ اور علاقائی استحکام کو متاثر کر رہی ہے۔ افغانستان میں طالبان کی معدنی پالیسی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ قدرتی وسائل کو تشدد اور عدم استحکام کے لیے کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔
طالبان کی کان کنی کی حکمتِ عملی نہ صرف افغانستان کے قدرتی وسائل کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال کر رہی ہے، بلکہ یہ علاقائی استحکام کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔ معدنیات طالبان کے داخلی کنٹرول، القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان کو فنڈ فراہم کرنے اور سرحد پار طاقت کے مظاہرے کے لیے ایک مرکزی ذریعہ کے طور پر کام کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں قدرتی وسائل تشدد اور عدم استحکام کے منبع میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
دیکھیں: برطانیہ میں غیر قانونی مقیم افغان شہری کی 2 خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کی کوشش، گرفتار کر لیا گیا