نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں لبنان کی ابتر صورتحال پر پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے اور براہِ راست مذاکرات کے باوجود لبنان میں سیکیورٹی اور انسانی صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی فوجی کاروائیوں اور زمینی دراندازی کے باعث لبنان کا دو ہزار مربع کلومیٹر رقبہ، جو کہ کل ملک کا تقریباً 20 فیصد بنتا ہے، اس وقت غیر قانونی اسرائیلی قبضے میں ہے۔ سفیر عاصم افتخار نے واضح کیا کہ اسرائیل لبنان میں بھی وہی پرانی حکمتِ عملی اور طریقہ کار دہرا رہا ہے جس میں بے دریغ قتلِ عام، جبری بیدخلی اور غیر قانونی قبضہ شامل ہیں۔
ثقافتی مقامات پر حملے
پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ رواں سال مارچ سے اب تک اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 3,400 سے زائد لبنانی شہری شہید اور 10,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا کہ اسرائیلی حملوں میں 125 طبی کارکنان شہید اور 300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
Statement by Ambassador Asim Iftikhar Ahmad,
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) June 2, 2026
Permanent Representative of Pakistan to the UN,
At the UN Security Council Emergency Meeting on the recent situation in Lebanon
(1 June 2026)
********
Thank you, Madam President.
I would like to join colleagues in also thanking ASC… pic.twitter.com/j4Pp3vAvAt
اس کے علاوہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل تاریخی شہر صور اور تاریخی قلعہ بوفورٹ پر اسرائیلی حملے عالمی قوانین اور لبنانی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جو خطے میں امن کی سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔
پاکستان کا اصولی مؤقف
عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ پاکستان لبنان کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کرتا ہے۔ انہوں نے امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر مکمل عمل درآمد کریں اور اسرائیلی افواج فوری طور پر ‘بلیو لائن’ کے پیچھے چلی جائیں۔ انہوں نے لبنانی حکومت اور مسلح افواج کے اس عزم کی حمایت کی کہ طاقت کا استعمال صرف ریاست کا اختیار ہونا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ علاقائی امن کے تحفظ کے لیے فوری مداخلت کرے اور پاکستان کی جانب سے لبنانی عوام اور حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا۔