پشاور کے ہزارخوانی میں سرکاری اسکول بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا، واقعے نے خیبر پختونخوا میں تعلیمی سہولیات اور حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھا دیے۔

September 1, 2026

غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری اور فائرنگ سے 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

September 1, 2026

شہباز شریف نے مودی کی موجودگی میں پانی کو سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

September 1, 2026

گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی اداروں کی مثالی کارکردگی

گزشتہ سال سیکیورٹی اداروں نے 75,175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز انجام دیے، جن میں دہشت گردوں کو ناکارہ بنانے میں عوام اور ریاستی محکموں کا بھرپور کردار رہا۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 2,597 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں 1,235 شہری و سیکیورٹی اہلکاروں نے شہادت کا درجہ پایا۔
گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی اداروں کی مثالی کارکردگی

خصوصاً بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں آپریشنل سرگرمیاں قابلِ ذکر رہیں، جہاں مجموعی طور پر ہزاروں آپریشنز کیے گئے۔

January 7, 2026

سال 2025 نے پاکستان کے لیے نہ صرف ایک چیلنجنگ سیکیورٹی ماحول پیش کیا بلکہ سیکیورٹی فورسز کی مسلسل محنت، حکمت عملی اور عوامی تعاون نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں واضح پیش رفت بھی یقینی بنائی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی جانب سے دی گئی تازہ پریس کانفرنس میں ان کامیابیوں کا مفصل جائزہ پیش کیا گیا، جو قابلِ تعریف ہے۔

گزشتہ سال سیکیورٹی اداروں نے 75,175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز انجام دیے، جن میں دہشت گردوں کو ناکارہ بنانے میں عوام اور ریاستی محکموں کا بھرپور کردار رہا۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 2,597 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں 1,235 شہری و سیکیورٹی اہلکاروں نے شہادت کا درجہ پایا۔

خصوصاً بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں آپریشنل سرگرمیاں قابلِ ذکر رہیں، جہاں مجموعی طور پر ہزاروں آپریشنز کیے گئے۔ ان کامیابیوں نے نہ صرف دہشت گرد نیٹ ورکس کو کمزور کیا بلکہ عوام کو تحفظ کا احساس بھی فراہم کیا۔

یہ امر بھی حوصلہ افزا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں عوامی شمولیت کو اپنی طاقت بنایا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جنگ صرف سرکاری اداروں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔ تاہم، ہمیں اس بات کا ادراک بھی رکھنا چاہیے کہ دہشت گردی کے خطرات اب بھی برقرار ہیں، اور سیاسی، معاشرتی و اقتصادی سطح پر یکجہتی کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔

حکومت، عوام اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان مضبوط اعتماد، باہمی تعاون اور قومی حکمت عملی ہی ہمیں مستقبل میں دہشت گردی کے خاتمے، امن و استحکام کی فراہمی اور خوشحال معاشرہ کی تشکیل کی راہ پر گامزن رکھ سکتی ہے۔

آخر میں، یہ دعویٰ کہ دہشت گردی کا بیانیہ عالمی سطح پر پاکستان کے حق میں تسلیم کیا گیا ہے، یقیناً ایک مثبت پیغام ہے، لیکن ہمیں عملی سطح پر بھی اسی جذبے اور مؤثر حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہر پاکستانی شہری محفوظ اور مطمئن مستقبل کی امید رکھ سکے۔

دیکھیں: کابل میں افغان طالبان کے سینئر انٹیلی جنس اہلکار مولوی نعمان غزنوی پراسرار طور پر ہلاک

متعلقہ مضامین

پشاور کے ہزارخوانی میں سرکاری اسکول بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا، واقعے نے خیبر پختونخوا میں تعلیمی سہولیات اور حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھا دیے۔

September 1, 2026

غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری اور فائرنگ سے 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *