"> گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی اداروں کی مثالی کارکردگی - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی اداروں کی مثالی کارکردگی

گزشتہ سال سیکیورٹی اداروں نے 75,175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز انجام دیے، جن میں دہشت گردوں کو ناکارہ بنانے میں عوام اور ریاستی محکموں کا بھرپور کردار رہا۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 2,597 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں 1,235 شہری و سیکیورٹی اہلکاروں نے شہادت کا درجہ پایا۔
گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی اداروں کی مثالی کارکردگی

خصوصاً بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں آپریشنل سرگرمیاں قابلِ ذکر رہیں، جہاں مجموعی طور پر ہزاروں آپریشنز کیے گئے۔

January 7, 2026

سال 2025 نے پاکستان کے لیے نہ صرف ایک چیلنجنگ سیکیورٹی ماحول پیش کیا بلکہ سیکیورٹی فورسز کی مسلسل محنت، حکمت عملی اور عوامی تعاون نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں واضح پیش رفت بھی یقینی بنائی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی جانب سے دی گئی تازہ پریس کانفرنس میں ان کامیابیوں کا مفصل جائزہ پیش کیا گیا، جو قابلِ تعریف ہے۔

گزشتہ سال سیکیورٹی اداروں نے 75,175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز انجام دیے، جن میں دہشت گردوں کو ناکارہ بنانے میں عوام اور ریاستی محکموں کا بھرپور کردار رہا۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں 2,597 دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں 1,235 شہری و سیکیورٹی اہلکاروں نے شہادت کا درجہ پایا۔

خصوصاً بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں آپریشنل سرگرمیاں قابلِ ذکر رہیں، جہاں مجموعی طور پر ہزاروں آپریشنز کیے گئے۔ ان کامیابیوں نے نہ صرف دہشت گرد نیٹ ورکس کو کمزور کیا بلکہ عوام کو تحفظ کا احساس بھی فراہم کیا۔

یہ امر بھی حوصلہ افزا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں عوامی شمولیت کو اپنی طاقت بنایا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ جنگ صرف سرکاری اداروں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔ تاہم، ہمیں اس بات کا ادراک بھی رکھنا چاہیے کہ دہشت گردی کے خطرات اب بھی برقرار ہیں، اور سیاسی، معاشرتی و اقتصادی سطح پر یکجہتی کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔

حکومت، عوام اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان مضبوط اعتماد، باہمی تعاون اور قومی حکمت عملی ہی ہمیں مستقبل میں دہشت گردی کے خاتمے، امن و استحکام کی فراہمی اور خوشحال معاشرہ کی تشکیل کی راہ پر گامزن رکھ سکتی ہے۔

آخر میں، یہ دعویٰ کہ دہشت گردی کا بیانیہ عالمی سطح پر پاکستان کے حق میں تسلیم کیا گیا ہے، یقیناً ایک مثبت پیغام ہے، لیکن ہمیں عملی سطح پر بھی اسی جذبے اور مؤثر حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہر پاکستانی شہری محفوظ اور مطمئن مستقبل کی امید رکھ سکے۔

دیکھیں: کابل میں افغان طالبان کے سینئر انٹیلی جنس اہلکار مولوی نعمان غزنوی پراسرار طور پر ہلاک

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *