بھارتی سپریم کورٹ نے 2020 کے دہلی فسادات کے مقدمے میں سابق جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب علم رہنماء شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ اس فیصلے کے بعد شرجیل امام نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مقدمے کے حوالے سے پُرامید ہیں اور ان کا یقین ہے کہ بالآخر سچائی ہی غالب آئے گی۔
شرجیل امام کا یہ بیان ان کے بھائی مزمل امام کے ذریعے سوشل میڈیا پر نشر کیا گیا۔ بیان میں انہوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے اسی مقدمے میں شامل دیگر پانچ افراد کو ضمانت ملنے پر خوشی کا اظہار کیا لیکن ساتھ ہی اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان کے خلاف مقدمہ اب بھی جاری ہے۔
شرجیل امام نے بیان میں کہا کہ مجھے پختہ یقین ہے کہ عمر خالد اور مجھے عوامی احتجاج کو منظم کرنے اور اس کی قیادت کرنے کے الزام میں سزا دی جا رہی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ عدالت کے فیصلے میں پُرامن احتجاج کو مجرمانہ عمل قرار دیا گیا ہے اور رکاوٹ کو دہشت گردی کی کارروائی سے تعبیر کیا گیا ہے۔
انہوں نے اپنی بوڑھی والدہ کی صحت کی فکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں صرف اپنی والدہ کی جسمانی و ذہنی حالت کے بارے میں فکر مند ہوں، لیکن ان شاء اللہ، ہم کامیاب ہوں گے۔” شرجیل امام نے بتایا کہ وہ اس دوران اپنے فکری اور علمی سفر کو جاری رکھیں گے۔ بیان کے آخر میں انہوں نے ایک شعر بھی شامل کیا: “دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے، لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے۔”
واضح رہے کہ سن دو ہزار بیس میں دہلی میں پیش آنے والے فسادات کے بعد سے شرجیل امام اور عمر خالد سمیت متعدد طلبہ رہنماؤں پر دہشت گردی سے متعلق قوانین کے تحت مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کا یہ تازہ فیصلہ ان مقدمات کی پیچیدگیوں اور قانونی چیلنجوں کو واضح کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ بھارت میں احتجاج کی آزادی اور قانونی حدود کے درمیان کشمکش کی ایک اہم مثال ہے، جس کے نتائج ملک کے قانونی اور سیاسی ماحول پر دوررس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
دیکھیں: بھارتی فوج کی ضلع کٹھوعہ میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی