لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

بالآخر سچائی ہی غالب آئے گی ، ان شاءاللہ ، ہم کامیاب ہوں گے : ضمانت مسترد ہونے کے بعد شرجیل امام کا بیان

بھارتی سپریم کورٹ نے 2020 کے دہلی فسادات کے مقدمے میں شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت مسترد کر دی۔ شرجیل امام نے بیان میں کہا کہ وہ پُرامید ہیں اور بالآخر سچائی غالب آئے گی
بھارتی سپریم کورٹ نے 2020 کے دہلی فسادات کے مقدمے میں شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت مسترد کر دی۔ شرجیل امام نے بیان میں کہا کہ وہ پُرامید ہیں اور بالآخر سچائی غالب آئے گی

شرجیل امام نے کہا کہ انہیں اور عمر خالد کو عوامی احتجاج کی قیادت کے الزام میں سزا دی جا رہی ہے، جبکہ عدالت نے پُرامن احتجاج کو جرم اور رکاوٹ کو دہشت گردی قرار دیا ہے

January 8, 2026

بھارتی سپریم کورٹ نے 2020 کے دہلی فسادات کے مقدمے میں سابق جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب علم رہنماء شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ اس فیصلے کے بعد شرجیل امام نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مقدمے کے حوالے سے پُرامید ہیں اور ان کا یقین ہے کہ بالآخر سچائی ہی غالب آئے گی۔

شرجیل امام کا یہ بیان ان کے بھائی مزمل امام کے ذریعے سوشل میڈیا پر نشر کیا گیا۔ بیان میں انہوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے اسی مقدمے میں شامل دیگر پانچ افراد کو ضمانت ملنے پر خوشی کا اظہار کیا لیکن ساتھ ہی اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان کے خلاف مقدمہ اب بھی جاری ہے۔

شرجیل امام نے بیان میں کہا کہ مجھے پختہ یقین ہے کہ عمر خالد اور مجھے عوامی احتجاج کو منظم کرنے اور اس کی قیادت کرنے کے الزام میں سزا دی جا رہی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ عدالت کے فیصلے میں پُرامن احتجاج کو مجرمانہ عمل قرار دیا گیا ہے اور رکاوٹ کو دہشت گردی کی کارروائی سے تعبیر کیا گیا ہے۔

انہوں نے اپنی بوڑھی والدہ کی صحت کی فکر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں صرف اپنی والدہ کی جسمانی و ذہنی حالت کے بارے میں فکر مند ہوں، لیکن ان شاء اللہ، ہم کامیاب ہوں گے۔” شرجیل امام نے بتایا کہ وہ اس دوران اپنے فکری اور علمی سفر کو جاری رکھیں گے۔ بیان کے آخر میں انہوں نے ایک شعر بھی شامل کیا: “دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے، لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے۔”

واضح رہے کہ سن دو ہزار بیس میں دہلی میں پیش آنے والے فسادات کے بعد سے شرجیل امام اور عمر خالد سمیت متعدد طلبہ رہنماؤں پر دہشت گردی سے متعلق قوانین کے تحت مقدمات چلائے جا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ کا یہ تازہ فیصلہ ان مقدمات کی پیچیدگیوں اور قانونی چیلنجوں کو واضح کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ بھارت میں احتجاج کی آزادی اور قانونی حدود کے درمیان کشمکش کی ایک اہم مثال ہے، جس کے نتائج ملک کے قانونی اور سیاسی ماحول پر دوررس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

دیکھیں: بھارتی فوج کی ضلع کٹھوعہ میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *