کوہاٹ پولیس لائنز حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن مکمل، جوابی کارروائی میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، شہادتوں کی تعداد 22 ہوگئی۔

September 19, 2026

جنگِ ستمبر 1965 کے 19ویں روز سیالکوٹ اور جموں سیکٹر میں 40 بھارتی ٹینک تباہ اور 100 سے زائد بھارتی فوجی جنگی قیدی بنائے گئے۔

September 19, 2026

شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟

September 19, 2026

پاکستان نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اشتعال انگیز کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

September 19, 2026

کوہاٹ حملہ کے بعد متضاد دعووں نے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں ماہرین نے کالعدم گروہوں کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

September 19, 2026

بلوچستان کے پنجگور اور چاغی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک، بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا۔

September 19, 2026

جیش العدل نے افغان شہری کے ذریعے پولیس چیف محمود حقیقت کو قتل کروا دیا

ایرانشہر میں پولیس چیف محمود حقیقت کے قتل کی ذمہ داری جیش العدل نے قبول کی ہے، جو اب “پیپلز فائٹرز فرنٹ” کہلاتا ہے
ایرانشہر میں پولیس چیف محمود حقیقت کے قتل کی ذمہ داری جیش العدل نے قبول کی ہے، جو اب "پیپلز فائٹرز فرنٹ" کہلاتا ہے

جیش العدل کے مراکز افغانستان کے صوبوں نیمروز، ہلمند اور قندھار میں ہیں اور اسے افغان طالبان کی حمایت حاصل ہے

January 8, 2026

ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر ایرانشہر میں پولیس چیف محمود حقیقت کے قتل نے خطے کی سلامتی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایرانی تحقیقاتی ذرائع کے مطابق یہ حملہ ایک افغان شہری نے کیا، جو جیش العدل کا رُکن ہے اور افغانستان میں تربیت یافتہ ہے۔ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والا گروہ جیش العدل جو اب “پیپلز فائٹرز فرنٹ” کہلاتا ہے، طویل عرصے سے ایران کے خلاف مسلح کارروائیاں کرتا آرہا ہے۔ سکیورٹی تجزیہ کاروں اور ایرانی حکام کے مطابق جیش العدل کے اڈے افغان سرزمین میں موجود ہیں اور انہیں افغان طالبان کی مکمل حمایت و سرپرستی حاصل ہے۔

جیش العدل اور افغان سرزمین

رپورٹ کے مطابق جیش العدل کے مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر افغانستان کے صوبوں نیمروز، ہلمند اور قندھار میں واقع ہیں۔ یہ گروہ وہاں کھلے عام تربیتی کیمپ چلا رہا ہے اور اپنے جنگجوؤں کو جدید اسلحہ سے لیس کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت نہ صرف جیش العدل کو ٹھکانے فراہم کرتی ہے بلکہ اسے مالی طور پر بھی معاونت فراہم کرتی ہے، جس کے باعث یہ گروہ ایران کی سرحدوں کے اندر کارروائیاں کرنے کے قابل ہوا۔

جیش العدل کی ماضی قریب کی کارروائیاں

جیش العدل نے گزشتہ چند سالوں میں ایران کے خلاف متعدد بڑے حملے کیے ہیں۔ فروری 2024 میں اس گروہ نے سیستان و بلوچستان میں ایران کے ریولیوشنری گارڈز کے ایک ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا، جس میں 11 سپاہی ہلاک ہوئے۔ دسمبر 2023 میں ایران کے شہر راسک میں ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ ہوا جس میں 11 اہلکار ہلاک ہوئے۔ جولائی 2022 میں شہر خاش میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ ہوا جس میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ مئی 2021 میں زاہدان میں ایک خودکش حملہ ہوا جس میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ یہ تمام حملے افغانستان سے منصوبہ بند کیے گئے اور وہاں سے کنٹرول کیے گئے۔

طالبان کی سرپرستی

ایران نے متعدد مواقع پر طالبان حکومت کو خبردار کرتے ہوئے جیش العدل کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی سکیورٹی اداروں کے مطابق ایران کے پاس متعدد ثبوت ہیں کہ افغان طالبان کے بعض کمانڈر جیش العدل کو ہتھیار اور تربیت فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح بین الاقوامی مبصرین بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ طالبان حکومت نے اپنے پڑوسی ممالک کے خلاف کام کرنے والے مسلح گروہوں کو ختم کرنے کے بجائے انہیں برداشت کرنے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔

علاقائی تناؤ میں اضافہ

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب ایران اور افغانستان کے درمیان پانی کے حقوق اور سرحدی سلامتی کے معاملات پر کشیدگی پہلے سے ہی موجود تھی۔ مذکورہ واقعے نے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید خرابی پیدا کر دی ہے۔ اس موقع ایرانی حکام نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران دشمن عناصر کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔

دیکھیں: بھارتی فوج کی ضلع کٹھوعہ میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی

متعلقہ مضامین

کوہاٹ پولیس لائنز حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن مکمل، جوابی کارروائی میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، شہادتوں کی تعداد 22 ہوگئی۔

September 19, 2026

جنگِ ستمبر 1965 کے 19ویں روز سیالکوٹ اور جموں سیکٹر میں 40 بھارتی ٹینک تباہ اور 100 سے زائد بھارتی فوجی جنگی قیدی بنائے گئے۔

September 19, 2026

شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟

September 19, 2026

پاکستان نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اشتعال انگیز کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

September 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *