شیخ حسینہ واجد کے دورِ آمریت کے بعد بنگلہ دیش میں پہلے عام انتخابات آج ہو رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی نظریں انتخابی نتائج پر مرکوز ہیں، جبکہ فوج کی نگرانی میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے

February 12, 2026

افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور طالبان کے سخت گیر نظامِ حکومت نے ملک کو غیر ملکیوں اور مقامی شہریوں کے لیے غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ عالمی اداروں نے سیکورٹی خطرات اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے

February 12, 2026

جاوید ہاشمی کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور بانی پی ٹی آئی کے درمیان مبینہ رابطوں کے دعوؤں نے سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ سکیورٹی حلقوں نے ان الزامات کو ذہنی پسماندگی قرار دیتے ہوئے کاروائی کا مطالبہ کر دیا

February 11, 2026

امریکی سینیٹ نے افغانستان کو دی جانے والی امداد کی دہشت گردوں تک رسائی روکنے کے لیے نیا قانون منظور کر لیا ہے۔ طالبان حکومت پر امدادی رقوم کی چوری اور شدت پسندوں کی مالی معاونت کے الزامات کے بعد یہ سخت ترین پالیسی اقدام سامنے آیا ہے جس کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے

February 11, 2026

امریکی کمیشن نے افغانستان میں مذہبی آزادی کی منظم پامالیوں پر طالبان حکومت کو ‘خصوصی تشویش والے ممالک’ کی فہرست میں شامل کرنے کی سفارش کر دی ہے

February 11, 2026

بنگلہ دیش میں 16 فروری کے انتخابات روایتی سیاسی جماعتوں سے عوامی بیزاری اور ایک بڑے نظریاتی خلا کا پتا دے رہے ہیں۔ عوامی لیگ اور بی این پی کی دہائیوں پر محیط کشمکش اور کرپشن کے الزامات نے ووٹرز کو متبادل کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے، جہاں جماعت اسلامی کا ‘قربانی اور استقامت’ پر مبنی بیانیہ اب محض سرگوشی نہیں بلکہ ایک باقاعدہ سیاسی قوت کے طور پر ابھر رہا ہے

February 11, 2026

جیش العدل نے افغان شہری کے ذریعے پولیس چیف محمود حقیقت کو قتل کروا دیا

ایرانشہر میں پولیس چیف محمود حقیقت کے قتل کی ذمہ داری جیش العدل نے قبول کی ہے، جو اب “پیپلز فائٹرز فرنٹ” کہلاتا ہے
ایرانشہر میں پولیس چیف محمود حقیقت کے قتل کی ذمہ داری جیش العدل نے قبول کی ہے، جو اب "پیپلز فائٹرز فرنٹ" کہلاتا ہے

جیش العدل کے مراکز افغانستان کے صوبوں نیمروز، ہلمند اور قندھار میں ہیں اور اسے افغان طالبان کی حمایت حاصل ہے

January 8, 2026

ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر ایرانشہر میں پولیس چیف محمود حقیقت کے قتل نے خطے کی سلامتی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایرانی تحقیقاتی ذرائع کے مطابق یہ حملہ ایک افغان شہری نے کیا، جو جیش العدل کا رُکن ہے اور افغانستان میں تربیت یافتہ ہے۔ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والا گروہ جیش العدل جو اب “پیپلز فائٹرز فرنٹ” کہلاتا ہے، طویل عرصے سے ایران کے خلاف مسلح کارروائیاں کرتا آرہا ہے۔ سکیورٹی تجزیہ کاروں اور ایرانی حکام کے مطابق جیش العدل کے اڈے افغان سرزمین میں موجود ہیں اور انہیں افغان طالبان کی مکمل حمایت و سرپرستی حاصل ہے۔

جیش العدل اور افغان سرزمین

رپورٹ کے مطابق جیش العدل کے مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر افغانستان کے صوبوں نیمروز، ہلمند اور قندھار میں واقع ہیں۔ یہ گروہ وہاں کھلے عام تربیتی کیمپ چلا رہا ہے اور اپنے جنگجوؤں کو جدید اسلحہ سے لیس کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت نہ صرف جیش العدل کو ٹھکانے فراہم کرتی ہے بلکہ اسے مالی طور پر بھی معاونت فراہم کرتی ہے، جس کے باعث یہ گروہ ایران کی سرحدوں کے اندر کارروائیاں کرنے کے قابل ہوا۔

جیش العدل کی ماضی قریب کی کارروائیاں

جیش العدل نے گزشتہ چند سالوں میں ایران کے خلاف متعدد بڑے حملے کیے ہیں۔ فروری 2024 میں اس گروہ نے سیستان و بلوچستان میں ایران کے ریولیوشنری گارڈز کے ایک ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا، جس میں 11 سپاہی ہلاک ہوئے۔ دسمبر 2023 میں ایران کے شہر راسک میں ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ ہوا جس میں 11 اہلکار ہلاک ہوئے۔ جولائی 2022 میں شہر خاش میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ ہوا جس میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ مئی 2021 میں زاہدان میں ایک خودکش حملہ ہوا جس میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ یہ تمام حملے افغانستان سے منصوبہ بند کیے گئے اور وہاں سے کنٹرول کیے گئے۔

طالبان کی سرپرستی

ایران نے متعدد مواقع پر طالبان حکومت کو خبردار کرتے ہوئے جیش العدل کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی سکیورٹی اداروں کے مطابق ایران کے پاس متعدد ثبوت ہیں کہ افغان طالبان کے بعض کمانڈر جیش العدل کو ہتھیار اور تربیت فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح بین الاقوامی مبصرین بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ طالبان حکومت نے اپنے پڑوسی ممالک کے خلاف کام کرنے والے مسلح گروہوں کو ختم کرنے کے بجائے انہیں برداشت کرنے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔

علاقائی تناؤ میں اضافہ

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب ایران اور افغانستان کے درمیان پانی کے حقوق اور سرحدی سلامتی کے معاملات پر کشیدگی پہلے سے ہی موجود تھی۔ مذکورہ واقعے نے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید خرابی پیدا کر دی ہے۔ اس موقع ایرانی حکام نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران دشمن عناصر کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔

دیکھیں: بھارتی فوج کی ضلع کٹھوعہ میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی

متعلقہ مضامین

شیخ حسینہ واجد کے دورِ آمریت کے بعد بنگلہ دیش میں پہلے عام انتخابات آج ہو رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کی نظریں انتخابی نتائج پر مرکوز ہیں، جبکہ فوج کی نگرانی میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے

February 12, 2026

افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور طالبان کے سخت گیر نظامِ حکومت نے ملک کو غیر ملکیوں اور مقامی شہریوں کے لیے غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ عالمی اداروں نے سیکورٹی خطرات اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے

February 12, 2026

جاوید ہاشمی کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور بانی پی ٹی آئی کے درمیان مبینہ رابطوں کے دعوؤں نے سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ سکیورٹی حلقوں نے ان الزامات کو ذہنی پسماندگی قرار دیتے ہوئے کاروائی کا مطالبہ کر دیا

February 11, 2026

امریکی سینیٹ نے افغانستان کو دی جانے والی امداد کی دہشت گردوں تک رسائی روکنے کے لیے نیا قانون منظور کر لیا ہے۔ طالبان حکومت پر امدادی رقوم کی چوری اور شدت پسندوں کی مالی معاونت کے الزامات کے بعد یہ سخت ترین پالیسی اقدام سامنے آیا ہے جس کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے

February 11, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *