ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر ایرانشہر میں پولیس چیف محمود حقیقت کے قتل نے خطے کی سلامتی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایرانی تحقیقاتی ذرائع کے مطابق یہ حملہ ایک افغان شہری نے کیا، جو جیش العدل کا رُکن ہے اور افغانستان میں تربیت یافتہ ہے۔ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والا گروہ جیش العدل جو اب “پیپلز فائٹرز فرنٹ” کہلاتا ہے، طویل عرصے سے ایران کے خلاف مسلح کارروائیاں کرتا آرہا ہے۔ سکیورٹی تجزیہ کاروں اور ایرانی حکام کے مطابق جیش العدل کے اڈے افغان سرزمین میں موجود ہیں اور انہیں افغان طالبان کی مکمل حمایت و سرپرستی حاصل ہے۔
جیش العدل اور افغان سرزمین
رپورٹ کے مطابق جیش العدل کے مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر افغانستان کے صوبوں نیمروز، ہلمند اور قندھار میں واقع ہیں۔ یہ گروہ وہاں کھلے عام تربیتی کیمپ چلا رہا ہے اور اپنے جنگجوؤں کو جدید اسلحہ سے لیس کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت نہ صرف جیش العدل کو ٹھکانے فراہم کرتی ہے بلکہ اسے مالی طور پر بھی معاونت فراہم کرتی ہے، جس کے باعث یہ گروہ ایران کی سرحدوں کے اندر کارروائیاں کرنے کے قابل ہوا۔
🚨 🇦🇫 🇮🇷 – 𝗝𝗔𝗬𝗦𝗛 𝗔𝗟-𝗔𝗗𝗟 𝗔𝗡𝗡𝗢𝗨𝗡𝗖𝗘𝗦 𝗧𝗛𝗘 𝗞𝗜𝗟𝗟𝗜𝗡𝗚 𝗢𝗙 𝗜𝗥𝗔𝗡 𝗣𝗢𝗟𝗜𝗖𝗘 𝗖𝗛𝗜𝗘𝗙
— NRF Updates (@NRFUpdates) January 7, 2026
Taliban-backed Jaysh al-Adl, which has rebranded as People's Fighters Front (PFF), has announced that its fighters killed Mahmoud Haqiqat, police chief of Iranshahr pic.twitter.com/VX07SlhL3z
جیش العدل کی ماضی قریب کی کارروائیاں
جیش العدل نے گزشتہ چند سالوں میں ایران کے خلاف متعدد بڑے حملے کیے ہیں۔ فروری 2024 میں اس گروہ نے سیستان و بلوچستان میں ایران کے ریولیوشنری گارڈز کے ایک ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا، جس میں 11 سپاہی ہلاک ہوئے۔ دسمبر 2023 میں ایران کے شہر راسک میں ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ ہوا جس میں 11 اہلکار ہلاک ہوئے۔ جولائی 2022 میں شہر خاش میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ ہوا جس میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ مئی 2021 میں زاہدان میں ایک خودکش حملہ ہوا جس میں دو پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ یہ تمام حملے افغانستان سے منصوبہ بند کیے گئے اور وہاں سے کنٹرول کیے گئے۔
طالبان کی سرپرستی
ایران نے متعدد مواقع پر طالبان حکومت کو خبردار کرتے ہوئے جیش العدل کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی سکیورٹی اداروں کے مطابق ایران کے پاس متعدد ثبوت ہیں کہ افغان طالبان کے بعض کمانڈر جیش العدل کو ہتھیار اور تربیت فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح بین الاقوامی مبصرین بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ طالبان حکومت نے اپنے پڑوسی ممالک کے خلاف کام کرنے والے مسلح گروہوں کو ختم کرنے کے بجائے انہیں برداشت کرنے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔
علاقائی تناؤ میں اضافہ
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب ایران اور افغانستان کے درمیان پانی کے حقوق اور سرحدی سلامتی کے معاملات پر کشیدگی پہلے سے ہی موجود تھی۔ مذکورہ واقعے نے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید خرابی پیدا کر دی ہے۔ اس موقع ایرانی حکام نے افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران دشمن عناصر کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔
دیکھیں: بھارتی فوج کی ضلع کٹھوعہ میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی