حکومتی اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق حافظ سعد رضوی کسی بھی ادارے کی تحویل میں نہیں ہیں اور اپنی مرضی سے روپوش ہیں

January 11, 2026

اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون ٹو میں شادی کی تقریب کے دوران گیس سلنڈر دھماکے سے دولہا اور دلہن سمیت 8 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئ

January 11, 2026

آئی او ایم کے مطابق واپس آنے والے افغانوں میں زیادہ تر کے پاس دستاویزات نہیں اور صرف 11% ملازمت یافتہ ہیں، امدادی کوششیں محدود وسائل کی وجہ سے ناکام ہیں

January 11, 2026

جنوبی وزیرستان میں مولانا سلطان محمد کی شہادت پر داعش خراسان کے ذمہ داری قبول کرنے اور ٹی ٹی پی کے انکار کو ماہرین ایک منظم “بیانیاتی چال” قرار دے رہے ہیں

January 11, 2026

ملا ہیبت اللہ کی یہ کوشش ہے کہ وہ شریعت کے نام پر اپنی گرفت مضبوط کریں اور ہر مخالف آواز کو غیر شرعی، باغی اور غدار قرار دیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سے اختلاف ختم ہو جائے گا یا یہ مزید بڑھے گا۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جبر اختلاف کو دباتا نہیں بلکہ اسے اندر ہی اندر مضبوط کرتا ہے۔

January 10, 2026

پولیس کے مطابق ملزم آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے کم عمر لڑکیوں سے نازیبا گفتگو میں ملوث پایا گیا، جو برطانوی قانون کے تحت ایک سنگین فوجداری جرم ہے۔ گرفتاری کے وقت پولیس افسران کی جانب سے حقائق سے آگاہ کیے جانے پر ملزم جذباتی طور پر ٹوٹ گیا اور رو پڑا۔

January 10, 2026

ایران یا پاکستان سے وطن واپس آنے والے ہر چار میں سے 3 مہاجرین اب تک بے یار و مددگار ہیں؛ عالمی تنظیم برائے مہاجرین کی چشم کشا رپورٹ

آئی او ایم کے مطابق واپس آنے والے افغانوں میں زیادہ تر کے پاس دستاویزات نہیں اور صرف 11% ملازمت یافتہ ہیں، امدادی کوششیں محدود وسائل کی وجہ سے ناکام ہیں
ایران اور پاکستان سے واپس آنے والے 50% سے زائد افغانوں کے پاس ضروری دستاویزات نہیں، صرف 11% مکمل ملازمت یافتہ

بین الاقوامی اداروں نے افغان حکام اور عالمی برادری سے فوری اقدامات کی اپیل کی، مگر محدود وسائل کی وجہ سے امدادی کوششیں ناکام ہیں

January 11, 2026

بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت آئی او ایم کی تازہ رپورٹ میں افغانستان واپس آنے والے پناہ گزینوں کے سامنے انتہائی تشویشناک چیلنجز کو اجاگر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران اور پاکستان سے واپس آنے والے ہر چار افغانوں میں سے صرف ایک شخص اُس علاقے میں آباد ہو سکا ہے جہاں وہ ابتدائی طور پر رہائش کا ارادہ رکھتا تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق واپس آنے والوں میں سے 50% سے زائد افراد کے پاس کوئی قانونی دستاویزات موجود نہیں ہیں، جس کی وجہ سے ان کا تعلیمی، ملازمت اور سماجی خدمات تک رسائی حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان واپس آنے والوں میں سے صرف 11 فیصد افراد مستقل اور مکمل طور پر ملازمت یافتہ ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نہ صرف واپس آنے والے خاندانوں کے لیے انتہائی مشکلات کا سبب بن رہی ہے، بلکہ ملک میں معاشی اور سماجی عدم استحکام کے خطرات کو بھی بڑھا رہی ہے۔ خاص طور پر خواتین اور بچوں کی تعلیم و صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

بین الاقوامی اداروں نے افغان حکام اور عالمی برادری سے فوری اقدامات کی اپیل کی ہے، جس میں دستاویزات کی فراہمی، روزگار کے مواقع کی تخلیق، اور عارضی رہائش کے انتظامات شامل ہیں۔ اگرچہ آئی او ایم اور یو این ایچ سی آر جیسے ادارے امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن فنڈز کی کمی اور وسائل کی محدودیت کے باعث ان کی کوششیں ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہیں۔

یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان اور ایران سے لاکھوں افغان شہریوں کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے، جس نے پہلے سے کمزور افغان معیشت اور بنیادی ڈھانچے پر اضافی دباؤ ڈال دیا ہے۔

دیکھیں: تہران میں ہنگاموں کے دوران موساد سے منسلک کارندہ گرفتار؛ ایرانی سکیورٹی حکام کی تصدیق

متعلقہ مضامین

حکومتی اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق حافظ سعد رضوی کسی بھی ادارے کی تحویل میں نہیں ہیں اور اپنی مرضی سے روپوش ہیں

January 11, 2026

اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون ٹو میں شادی کی تقریب کے دوران گیس سلنڈر دھماکے سے دولہا اور دلہن سمیت 8 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئ

January 11, 2026

جنوبی وزیرستان میں مولانا سلطان محمد کی شہادت پر داعش خراسان کے ذمہ داری قبول کرنے اور ٹی ٹی پی کے انکار کو ماہرین ایک منظم “بیانیاتی چال” قرار دے رہے ہیں

January 11, 2026

ملا ہیبت اللہ کی یہ کوشش ہے کہ وہ شریعت کے نام پر اپنی گرفت مضبوط کریں اور ہر مخالف آواز کو غیر شرعی، باغی اور غدار قرار دیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سے اختلاف ختم ہو جائے گا یا یہ مزید بڑھے گا۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جبر اختلاف کو دباتا نہیں بلکہ اسے اندر ہی اندر مضبوط کرتا ہے۔

January 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *