بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت آئی او ایم کی تازہ رپورٹ میں افغانستان واپس آنے والے پناہ گزینوں کے سامنے انتہائی تشویشناک چیلنجز کو اجاگر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران اور پاکستان سے واپس آنے والے ہر چار افغانوں میں سے صرف ایک شخص اُس علاقے میں آباد ہو سکا ہے جہاں وہ ابتدائی طور پر رہائش کا ارادہ رکھتا تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق واپس آنے والوں میں سے 50% سے زائد افراد کے پاس کوئی قانونی دستاویزات موجود نہیں ہیں، جس کی وجہ سے ان کا تعلیمی، ملازمت اور سماجی خدمات تک رسائی حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ ان واپس آنے والوں میں سے صرف 11 فیصد افراد مستقل اور مکمل طور پر ملازمت یافتہ ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نہ صرف واپس آنے والے خاندانوں کے لیے انتہائی مشکلات کا سبب بن رہی ہے، بلکہ ملک میں معاشی اور سماجی عدم استحکام کے خطرات کو بھی بڑھا رہی ہے۔ خاص طور پر خواتین اور بچوں کی تعلیم و صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
The International Organization for Migration (IOM) states that out of every four Afghans who have returned from Iran and Pakistan, only one has settled in the place they initially intended.
— TOLOnews English (@TOLONewsEnglish) January 11, 2026
The organization adds in a report that more than half of the returnees lack essential… pic.twitter.com/2cyjBok2d6
بین الاقوامی اداروں نے افغان حکام اور عالمی برادری سے فوری اقدامات کی اپیل کی ہے، جس میں دستاویزات کی فراہمی، روزگار کے مواقع کی تخلیق، اور عارضی رہائش کے انتظامات شامل ہیں۔ اگرچہ آئی او ایم اور یو این ایچ سی آر جیسے ادارے امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن فنڈز کی کمی اور وسائل کی محدودیت کے باعث ان کی کوششیں ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہیں۔
یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان اور ایران سے لاکھوں افغان شہریوں کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے، جس نے پہلے سے کمزور افغان معیشت اور بنیادی ڈھانچے پر اضافی دباؤ ڈال دیا ہے۔
دیکھیں: تہران میں ہنگاموں کے دوران موساد سے منسلک کارندہ گرفتار؛ ایرانی سکیورٹی حکام کی تصدیق