حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم ہوگیا، دونوں فریق کل دوبارہ مذاکرات کریں گے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات بھی اہم معاملہ بن گئی۔

October 2, 2026

سابق یو این نمائندے رچرڈ بینیٹ پر افغان دہشت گرد نیٹ ورکس کو نظر انداز کر کے طالبان کے بیانیے کو فروغ دینے پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔

October 2, 2026

لوگر میں افغان عسکریت پسند کی بارود سازی کے دوران بچوں کی موجودگی نے دہشت گردوں کی سنگدلی اور عام شہریوں کو خطرے میں ڈالنے کی پالیسی کو عیاں کر دیا ہے۔

October 2, 2026

شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے مربوط آپریشنز کے دوران 4 خوارج ہلاک ہو گئے۔

October 2, 2026

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی صورتحال پر مذاکرات آج دوپہر 12 بجے اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں ہوں گے، دونوں جانب سے 6،6 رکنی وفود تشکیل دے دیے گئے۔

October 2, 2026

حکومت نے ٹی ایل پی کے دعوے کی سختی سے تردید کردی

حکومتی اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق حافظ سعد رضوی کسی بھی ادارے کی تحویل میں نہیں ہیں اور اپنی مرضی سے روپوش ہیں
حکومتی اور سیکیورٹی ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ حافظ سعد رضوی کسی بھی ادارے کی تحویل میں نہیں ہیں اور اپنی مرضی سے روپوش ہیں

ٹی ایل پی کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ مرکزی امیر سعد رضوی کو خفیہ ایجنسیوں نے غیر قانونی اور بلاجواز طور پر حراست میں لیا ہے۔

January 11, 2026

تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ مرکزی امیر علامہ حافظ سعد حسین رضوی خفیہ ایجنسیوں کی غیر آئینی، غیر قانونی، ماورائے عدالت، غیر اعلانیہ اور بلاجواز جبری تحویل میں ہیں۔

تاہم، حکومتی اور سیکیورٹی ذرائع نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حافظ سعد رضوی کسی بھی ریاستی ادارے کی تحویل میں نہیں ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ اپنی مرضی سے روپوش ہیں اور حالات کے پیشِ نظر خود کو منظرِ عام سے دور رکھے ہوئے ہیں۔ سعد رضوی انتشار پھیلانے، ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے اور عوام کو ریاست کے خلاف بھڑکانے سمیت متعدد کیسز میں مطلوب ہیں اور گرفتاری کے خوف سے نامعلوم مقام پر ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حافظ سعد رضوی واقعی تحویل میں ہوتے تو اس کی قانونی اور انتظامی کارروائی ریکارڈ پر ہوتی جبکہ ایسی کوئی مصدقہ دستاویز یا عدالتی پیشی موجود نہیں۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق ٹی ایل پی کی جانب سے ایسے بیانات کا مقصد کارکنان کو متحرک رکھنا اور عوامی ہمدردی حاصل کرنا ہو سکتا ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ ریاستی ادارے قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرتے ہیں اور ایسی کسی کاروائی کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ ذرائع نے واضح کیا کہ وہ اپنی مرضی سے روپوش ہیں اور اپنی خواہش کے مطابق سامنے نہ آنے کا فیصلہ خود کر رہے ہیں۔

دیکھیں: پاک بحریہ کی شمالی بحیرۂ عرب میں بڑی مشق، جدید میزائل اور بغیر پائلٹ نظاموں کا کامیاب مظاہرہ

متعلقہ مضامین

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ ختم ہوگیا، دونوں فریق کل دوبارہ مذاکرات کریں گے، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات بھی اہم معاملہ بن گئی۔

October 2, 2026

سابق یو این نمائندے رچرڈ بینیٹ پر افغان دہشت گرد نیٹ ورکس کو نظر انداز کر کے طالبان کے بیانیے کو فروغ دینے پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔

October 2, 2026

لوگر میں افغان عسکریت پسند کی بارود سازی کے دوران بچوں کی موجودگی نے دہشت گردوں کی سنگدلی اور عام شہریوں کو خطرے میں ڈالنے کی پالیسی کو عیاں کر دیا ہے۔

October 2, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *