پشاور کے ہزارخوانی میں سرکاری اسکول بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا، واقعے نے خیبر پختونخوا میں تعلیمی سہولیات اور حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھا دیے۔

September 1, 2026

غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری اور فائرنگ سے 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

زیارت کراس کسٹمز چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔

September 1, 2026

شہباز شریف نے مودی کی موجودگی میں پانی کو سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ناقابل قبول قرار دے دیا۔

September 1, 2026

افغانستان انٹرنیشنل کی تحقیقات: طالبان اراکین نے متعدد صوبوں میں غیر قانونی قتل کیے

دستاویزات کے مطابق طالبان اراکین نے کندز، ہلمند، غزنی اور پکتیا میں شہریوں اور سابق حکومتی اہلکاروں کے خلاف غیر قانونی قتل اور اغواء میں حصہ لیا
افغانستان انٹرنیشنل نے طالبان کی اندرونی رپورٹس شائع کیں ہیں، جن میں غیر قانونی قتل اور تشدد کے ثبوت موجود ہیں

یہ رپورٹس صوبائی خط و کتابت، کمانڈروں کی رپورٹس اور متاثرین کی شکایات پر مشتمل ہیں۔ طالبان نے اب تک اس پر کوئی سرکاری ردعمل نہیں دیا

January 13, 2026

افغانستان انٹرنیشنل نے طالبان حکام سے حاصل ہونے والے خفیہ سرکاری دستاویزات اور اندرونی رپورٹس کا مجموعہ شائع کیا ہے، جو اس بات پر ظاہر کرتا ہے کہ اس گروہ کے اراکین متعدد افغان صوبوں میں غیر قانونی قتل کے واقعات میں براہ راست ملوث ہیں۔

یہ دستاویزات مختلف صوبائی دفاتر، سکیورٹی اہلکاروں اور اندرونی تفتیشی رپورٹس سے حاصل کی گئی ہیں، جو ثابت کرتی ہیں کہ طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں شہریوں کے قتل، اغواء، تشدد اور جائیدادوں کی غیر قانونی ضبطی کے واقعات باقاعدگی سے پیش آئے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق کندز، ہلمند، غزنی اور پکتیا جیسے صوبوں میں طالبان کے مقامی کمانڈروں نے سابق حکومتی اہلکاروں، عام شہریوں اور مخالفین کے خلاف کارروائیاں کیں۔ کئی واقعات میں یہ قتل طالبان کے مختلف گروہوں کے مابین اختیارات یا ذاتی دشمنیوں کا نتیجہ تھے، جنہیں سرکاری طور پر سکیورٹی آپریشنز کا نام دیا گیا۔

دستاویزات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ متاثرین کو اکثر بغیر کسی سرکاری مقدمہ یا قانونی کارروائی کے ہلاک کیا گیا، جو طالبان کے دعوؤں کے برعکس ہے کہ وہ مکمل اسلامی عدالتی نظام نافذ کر چکے ہیں۔ بعض رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کابل میں طالبان کی مرکزی قیادت کو ان واقعات کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا تھا، تاہم زیادہ تر معاملات میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

دستاویزات میں صوبائی گورنروں کے درمیان خط و کتابت، مقامی کمانڈروں کی مرکزی قیادت کو بھیجی گئی رپورٹس، داخلی تفتیشی دستاویزات اور متاثرین کے خاندانوں کی درخواستیں شامل ہیں، جو طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں ہونے والے مظالم کا تفصیلی ریکارڈ پیش کرتی ہیں۔

اب تک طالبان حکومت نے ان دستاویزات پر کوئی سرکاری ردعمل نہیں دیا ہے۔ ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کرتے ہوئے طالبان حکام نے کہا ہے کہ تمام کارروائیاں شرعی قانون کے مطابق کی جاتی ہیں اور ملک میں مکمل امن قائم ہے۔

دیکھیں: افغان نائب گورنر کے بیٹے سمیت دو بچے اغواء، ریسکیو آپریشن کے بعد رہا

متعلقہ مضامین

پشاور کے ہزارخوانی میں سرکاری اسکول بارش کے بعد پانی میں ڈوب گیا، واقعے نے خیبر پختونخوا میں تعلیمی سہولیات اور حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھا دیے۔

September 1, 2026

غزہ میں اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری اور فائرنگ سے 3 بچوں سمیت 4 فلسطینی شہید ہوگئے۔

September 1, 2026

افغان سفیر سردار احمد شکیب نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کر لیا، تاہم افغان سرزمین پر فوجی کارروائی کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔

September 1, 2026

یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔

September 1, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *